ہبلی:روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں مسلم تنظیموں کا متحدہ مظاہرہ :مرکزی حکومت کو سونپا میمورنڈم

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 12th September 2017, 7:35 PM | ریاستی خبریں |

ہبلی:12/ستمبر (ایس اؤنیوز)میانمار(برما ) کے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی ،بہیمانہ قتل و غارت گری اور وہاں کے حکومت کی ظالمانہ پالیسی کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج جاری ہے،یواین اؤ،امریکہ سمیت کئی ممالک میں زبردست مظاہرے ہورہے ہیں، اسی کے تحت ہندوستان کے بھی مختلف ممالک میں معصوم روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و بربریت کو ختم کرنے کے سلسلے میں احتجاج ، مظاہرے ہورہے ہیں ۔ اسی کے تحت تجارتی شہر ہبلی میں مختلف مسلم تنظیموں اور اداروں کے اشتراک سے ایک بڑے احتجاج کا انعقاد کرتے ہوئے مقامی تحصیلدار کے توسط سے مرکزی حکومت کو میمورنڈ م سونپا گیا۔

میمورنڈم میں کہاگیا کہ انسانی تاریخ میں باقاعدہ ملک کی ایک حکومت کسی بھی قوم کے خلاف ایسا غیر انسانی سلوک نہیں کیا ہوگا۔ ملک میں چھوٹی موٹی باتوں کو لے کر فوری ٹویٹ کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ،وزیر خارجہ شسما سوراج کو چاہئے کہ وہ اس پر بھی کچھ کہیں۔ حکومت ہند کی طرف سے برما کے وزیر اعظم پر دباؤ ڈال کر انسانی نسل کشی کو روکنے کی بات کہی گئی ہے ،میمورنڈم میں یواین اؤ سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے قتل وغارت کو ختم کرکے انسانیت کی لاج رکھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک کی کانگریس حکومت پر نشانہ لگانے پر سدرامیا نے کیا پلٹ وار؛ کہا مودی میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہی نہیں

کرناٹک کی کانگریس حکومت پر نشانہ سادھنے پر پلٹ وار کرتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے وزیراعظم نریندر مودی کو جھوٹ کا پلندہ   قرار دیتے ہوئے    کہا  کہ نریندر مودی   میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے

کانگریس لیڈر کی بی بی ایم پی دفتر کو آگ لگادینے کی دھمکی؛سی سی ٹی وی میں قیدہوا پورا منظر؛ سدارامیا نے دکھایا پارٹی سے باہر کا راستہ

کانگریس لیڈر نارائن سوامی کے  بی بی ایم پی دفتر میں گھس کر پٹرول چھڑکنے اوردفتر کو آگ لگادینے کی دھمکی کی وڈیو نیوز چینلوں میں نشر ہونے کے بعد فوری حرکت کرتے ہوئے سدرامیا نے نارائن سوامی کو   کانگریس پارٹی سے باہر کا راستہ دکھادیا ہے۔

این اے حارث نے فرزند کی حرکت پر اسمبلی میں کی معذرت خواہی

رکن اسمبلی این اے حارث کے فرزند نلپاڈ محمد کی طرف سے کل پیر کو ایک طالب العلم کو زودوکوب کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد آج این اے حارث نے ریاستی اسمبلی میں معذرت طلب کی اور کہا کہ ان کے بیٹے کی حرکت کی وجہ سے  اُنہیں جس طرح ندامت اُٹھانی پڑی، وہ وقت کسی باپ پر نہ آئے۔