مہادائی پروجیکٹ پر عمل نہ ہونے سے ناراض عوام کا حزب اختلاف کے قائد شیٹر کی رہائش گاہ پر دھرنا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th November 2017, 8:29 PM | ریاستی خبریں |

ہبلی13؍نومبر(ایس او نیوز)مہادائی ندی کے سلسلے میں ریاست کرناٹکا اور گوا کے بیچ جو تنازعہ ہے اس کو حل کرنے کے لئے مرکز کی جانب سے مداخلت نہ کرنے اورارکان پارلیمان و ارکان اسمبلی کی طرف سے مہادائی پروجیکٹ کے سلسلے میں دلچسپی نہ لینے کے خلاف نولگند اور نرگند علاقے کے کسانوں نے ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر جگدیش شیٹر کے گھر پر غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کردیا ہے۔

ہبلی کے مدھورا ایسٹیٹ میں واقع جگدیش شیٹر کے سامنے 100سے زائد کسانوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ دن پہلے احتجاجیوں نے شرط رکھی تھی کہ 15دنوں کے اندر گوا کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ گفتگو کی جائے اور اس مسئلے پر اپوزیشن اپنا موقف واضح کرے۔ جگدیش شیٹر نے یقین دلایا تھا کہ اسمبلی سیشن کے دوران اس ضمن میں خوشخبری سنائی جائے گی۔ لیکن اس سلسلے میں اب تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔لہٰذا بطور احتجاج جگدیش شیٹر کے گھر پر ہی دھرنا دیا گیا ہے۔

کنڑا حمایتی تنظیم کے قائد واٹال ناگراج نے آئندہ 9دسمبر کو گوا کا محاصرہ کرنے کے لئے احتجاجی مورچہ نکالنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ریاستی اراکین پارلیمان نے ریاستی عوام کے مفاد کے لئے اپنا فرض پورا نہیں کیا ہے۔ گزشتہ دو سال سے شمالی کرناٹکا میں پانی کے لئے جدوجہد جاری ہے، مگر مہادائی کے مسئلے میں مداخلت کے لئے ان اراکین پارلیمان نے وزیر اعظم نریندر مودی پر کوئی دباؤ نہیں بنایا اورنہ ہی گوا کے وزیر اعلیٰ اپنی ضد چھوڑنے کے لئے تیارہیں۔اگر اب بھی اس پر توجہ نہیں دی گئی تو کنڑا حمایتی تنظیموں کی طرف سے 2018کے اسمبلی انتخابات میں اسی موضوع پر سخت موقف اور احتجاج کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

ہوناور میں مہلوک پریش میستا کے والد کے بیان پر کانگریس کے جگدیپ کا پلٹ وار؛ کہا کانگریس والے ڈاکٹر نہیں ہیں کہ وہ پریش میستا کی موت کو فطری موت کہیں

پریش میستا کی مشتبہ ہلاکت کے سلسلے میں ہورہی سست رفتار تحقیقات کے خلاف  ہوناور بلاک کانگریس  کی جانب سے کی گئی  بھوک ہڑتال کے ساتھ احتجاج  کرنے پر مہلوک پریش کے والد کملاکر میستا نے بھوک ہڑتال کو  فریبی چال اور دکھاوا قرار دیا تھا، ان کے  الزام سے صریح انکار کرتے ہوئے ہوناور ...

آئی اے ایس افسروں کی قلت ،حکمرانی میں رکاوٹ ریاست میں کئی افسروں پر افزود ذمہ داریاں۔ مزید 8؍ماہ انتظارکرنا ہوگا

ریاست کے اعلیٰ سطحی انتظامیہ میں افسرشاہوں کی 20؍فیصد قلت حکمرانی میں ایک بحران پیدا کررہی ہے۔ آئی اے ایس کے 61؍فیصد خالی عہدوں پر ریاست میں دستیاب 253افسروں کے ساتھ کام چلارہی ہے جن میں سے زیادہ ترکو افزود ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

کرناٹکا ریزرو پولیس کی خواتین خاکی شرٹ اور پتلون پہنیں گی

کرناٹکا ریزرو پولیس کے خواتین اہلکاروں کو سخت پولیس والوں کی شکل ملے گی جو اپنے مرد ساتھیوں جیسے خاکی شرٹ ،خاکی پتلون ،بیلٹ اور شو پہنیں گی۔ کے یس آر پی کی خواتین کو زیادہ ذمہ دار بنانے کے نظریہ سے یہ تبدیلی سوچی گئی ہے تاکہ وہ اپنے مرکزی ہم منصوبوں کی طرح لگیں جو ایرپورٹوں کی ...