میڈیاکی آزادی پر شکنجہ کسناجمہوریت کے لیے خطرناک:مولانااسرارالحق قاسمی

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 5th August 2018, 12:54 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

پورنیہ:4/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مودی حکومت میں ہرطبقہ کویاتولالچ دے کر اپنے قابومیں کیاجارہاہے یاڈرادھمکاکراسے اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،خاص طورپرمیڈیاکی طاقت کو دیکھتے ہوئے بی جے پی حکومت میں آنے کے بعد سے ہی میڈیاکو پوری طرح اپنے قبضے میں کرنے کی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار ممبر پارلیمنٹ مولانااسرارالحق قاسمی نے حالیہ دنوں میں اے بی پی نیوز چینل کے سرکردہ صحافی پرسون واجپئی،ابھیسارشرمااور ملند کھانڈیکر کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ہندوستان میں سیکڑوں نیوزچینل ہیں اور لگ بھگ سبھی چینل پر مودی حکومت اور بی جے پی کی جھوٹی تعریفوں کی مہم چل رہی ہے،ملک کے عوام کے درمیان فرقہ وارانہ زہر گھولنے کی کوشش ہورہی ہے اور لوگوں کا دھیان اہم اور بنیادی مسائل سے بھٹکاکر غیر ضروری مسائل میں الجھایاجارہاہے،کچھ ہی چینل اوران میں بھی چندہی صحافی ہیں جو حقائق کی روشنی میں حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور حکومت کے جھوٹے دعووں کی پول کھولنے کی ہمت کرتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ دنیاکے سب سے بڑے جمہوری ملک کی حکومت کو یہ بھی گوارہ نہیں اور وہ حق گو صحافیوں پر لگام کسنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔کشن گنج حلقہ کے ایم پی نے کہاکہ شروع سے ہی بی جے پی کی پالیسی رہی ہے کہ میڈیاکو اپنے قبضے میں لے کر عوام کو بھی پوری طرح بے وقوف بنایاجاسکتاہے،چنانچہ آج کئی چینل ایسے ہیں جو رات دن بی جے پی اور مودی حکومت کی قصیدہ خوانی میں مصروف رہتے ہیں اوریاتو ملک کی ترقی و خوشحالی کی جھوٹی رپورٹیں دکھاتے ہیںیا پھر مذہبی منافرت پھیلانے والے شوز اور مباحثوں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے ہیں اور جو چینل یا صحافی حق اور سچ بولنے اور دکھانے کی جرات کرتاہے اسے طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ مولانا اسرارالحق نے کہاکہ آزاداور غیر جانبدار میڈیاکسی بھی جمہوری ملک کی بنیادی ضرورت ہے بلکہ یہ تو جمہوریت کا چوتھاستون ہے اوراس کے بغیرجمہوریت کا وجود خطرے میں پڑجاتاہے،مگربدقسمتی سے اس وقت ہمارے ملک میں میڈیاکو شدید پابندیوں اور حکومت کے دباؤ کا سامناہے جو یقیناً ہندوستان کی جمہوری روح کے لئے سخت خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایسے نازک وقت میں تمام انصاف پسند طبقات خاص کر صحافی برادری کو ہمت و جرأت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،یہ معاملہ دوتین صحافیوں کانہیں ہے،اس سے پہلے این ڈی ٹی وی اوراس کے اینکر رویش کمار کو بھی پابند کرنے کی کوشش کی گئی تھی،اسی طرح ان کے علاوہ بھی ایسے حادثات رونما ہوتے رہے ہیں جب حکومت نے حق گو صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے ،لہذا اہل صحافت کو صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر اپنے حقوق کے لئے آگے آناہوگا،ورنہ آج کسی ایک چینل یا صحافی کو نشانہ بنایاجارہاہے اور آئندہ حکومت کے اس غیر جمہوری اقدام کا شکار کوئی اور صحافی بھی ہوسکتاہے۔واضح رہے کہ ان دنوں اے بی پی نیوزچینل کے مینجنگ ایڈیٹرملندکھانڈیکراور اینکر پرسون واجپئی کوہٹائے جانے جبکہ اسی چینل کے ایک تیسرے صحافی ابھیسارشرماکو لمبی چھٹی پر بھیجے جانے کامعاملہ چرچامیں ہے اورمختلف ذرائع سے خبریں آرہی ہیں کہ ان لوگوں کوکہاگیاتھاکہ بی جے پی اور مودی کے خلاف رپورٹنگ نہ کی جائے مگر جب انہوں نے نہیں ماناتوبی جے پی کے صدر امیت شاہ کے دباؤ کی وجہ سے ان لوگوں کو چینل سے الگ کردیاگیا ہے۔مولاناقاسمی نے کہاکہ صحافت کی آزادی کو حکومت کے ذریعہ دبایاجاناملک کے انتہائی خطرناک اورجمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ، بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد نے گواہی دی، دفاعی وکلاء عدالت سے غیر حاضر ، جرح اگلے ہفتہ متوقع

مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں سماعت روز بہ روز جاری ہے ، آج اس معاملے میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد کی گواہی عمل میں آئی

مثبت فکر اورتوانائی سے ملک کی ترقی ہوتی ہے:ارون جیٹلی 

مودی حکومت کے ناقدین کو بات بات پر احتجاج کرنے والا بتاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جمعرات کو ان پر جھوٹ گھڑنے اور ایک منتخب حکومت کو کمزور کرکے جمہوریت کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ طبی معائنہ کے لیے امریکہ دورہ پر گئے ارون جیٹلی نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اظہار رائے کی ...

عد لیہ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار پر پابندی لگانے والی کئی تجاویزمستردکیں 

سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار کے لئے لائسنس اور اس کاروبار پر پابندی لگانے والے کچھ تجاویز جمعرات کومنسوخ کردیئے۔ جسٹس اے کے سیکری کی صدارت والے بنچ نے مہاراشٹر کے ہوٹل، ریستوران اور بار ہاؤس میں فحش رقص پر پابندی اورعورتوں کے وقار کی حفاظت سے متعلق قانون 2016 کے کچھ دفعات ...

شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر ہزاروں عوام  شاہراہ روک کیا  احتجاج : مجموعی استعفیٰ کا انتباہ اور الیکشن بائیکاٹ کا اعلان

تعلقہ کے شرالی میں دن بدن قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر معاملہ گرم ہوتا جارہاہے۔ شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع 45میٹر سے کم کرکے 30میٹر کئے جانےکی مخالفت کرتے ہوئے جمعرات کو ہزاروں لوگو ں نے قومی شاہراہ روک کر سخت احتجاج درج کیا۔ اس دوران عوامی مانگوں کو منظوری نہیں دی گئی تو ...

بھٹکل انجمن بی بی اے کی طالبہ مریم حرا کو  کرناٹکا یونیورسٹی سطح پر دوسرا رینک

انجمن انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بھٹکل کی طالبہ مریم حرابنت ارشاد ائیکری ڈاٹا نے کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کے زیر اہتمام اپریل 2018میں منعقد ہوئی بی بی اے امتحانات میں پوری یونیورسٹی میں دوسرارینک حاصل کرتے ہوئے انجمن اور شہر کا نام روشن کیا ہے۔