پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 19th September 2018, 9:22 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

19ستمبر(ایس او نیوز ایجنسی)  لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہیں۔

لوک سبھا انتخابات 2019 سے قبل ایک بار پھرسیاسی پارٹیاں منظرعام پرآنے لگی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلانے کے کاموں میں مصروف ہوگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت اترپردیش میں تقریباً ایک درجن سیاسی پارٹیاں سیاسی اتحاد پرزوردینے لگی ہیں۔

دوسری جانب مسلم سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جس طرح کے حالات پیدا ہورہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا سیاسی طورپرمتحد ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ اگر کسی  سیاسی جماعت کی قیادت  کوئی  عالم دین کرتا ہے، تو مسلمانوں کے کسی مسئلے سے متعلق بات ہونے پر یہ مسلک اورفرقے میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم جماعتوں کے رہنما خود ایک پلیٹ فارم پرجمع نہیں ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں ان کو لے کراضطراب کی کیفیت دیکھنے  کوملتی ہے۔

کیرالہ کی انڈین یونین مسلم لیگ نے  لوک سبھا اوراسمبلی میں اپنی طاقت دکھا دی ہے، لیکن وہ بھی کیرالہ تک محدود ہے۔ اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد المسلمین اورمشرقی اترپردیش کے میں پیس پارٹی کو اگرچھوڑ دیں تو پھرکوئی بھی مسلم سیاسی پارٹی مسلمانوں کے درمیان اپنا وجود قائم رکھنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ بھی آسام میں مضبوط ہے۔ مولانا بدرالدین اجمل خود ممبرپارلیمنٹ ہیں اورآسام اسمبلی میں ان کے 13 ممبران اسمبلی ہیں۔ اگر راشٹریہ علما کونسل کی بات کریں تو دارالحکومت دہلی کے بٹلہ ہاوس انکاونٹر کے بعد وجود میں آنے والی یہ سیاسی جماعت کسی بھی محاذ پرمقبول نہیں ہوسکی ہے۔ اب ایسے حالات میں نئی نئی سیاسی جماعتیں منظرپرآنے لگی ہیں اور وہ الیکشن میں "مسلمانوں کا سودا" کرنے کےلئے پلیٹ فارم تیارکررہی ہیں۔

 

ایک نظر اس پر بھی

گجرات کیس:مودی اور امت شاہ کو بہار میں انتخابی مہم نہیں کرنے دیں گے: کانگریس 

گجرات معاملے کو لے کر بہار کی سیاسی فضا گرمائی ہوئی ہے۔ جہاں ایک طرف بی جے پی، کانگریس پر بہار کے لوگوں کے خلاف ہوئے تشدد کے لئے ذمہ دار بتا رہی ہے، وہیں اب کانگریس نے اپنے تیور تیکھے کر دیئے ہیں۔

گنگاصفائی بھی جملہ نکلا،آلودگی بڑھنے کی رپورٹ پرکانگریس کاحملہ

کانگریس نے گزشتہ چار سال کے دوران گنگا میں آلودگی بڑھنے کی خبرکے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی پر طنز کرتے ہوئے جمعرات کو کہا ہے کہ 2014کے عام انتخابات میں صاف شفاف گنگا کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی مودی حکومت کا ’نمامی گنگا‘پروگرام بھی جملہ ثابت ہوا ہے۔

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...

حج 2019 : بحری جہاز سے سفر ممکن : مختار عباس نقوی

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور او رحج مختار عباس نقوی نے حج 2019 کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ سیزن میں بحری جہاز سے بھی سفر ممکن ہوگا ۔انہوں نے اس موقع پر حج ہاؤس کے صدر دفتر کی فلک بوس عمارت پر قومی پرچم لہرایا جو کہ زمین سے 350فٹ کی بلندی پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی جی ایس ٹی ...

اجودھیا تنازع : عدالت کے باہر اگر کوئی قانون بنے گا تو اس کو مسلمان نہیں کرے گا تسلیم : اقبال انصاری

ناگپور میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے جمعرات کو رام مندر کے معاملہ پر دئے گئے بیان پر مختلف فریقوں کا رد عمل سامنے آرہا ہے ۔ جہاں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے موہن بھاگوت کے بیان کو سیاسی قرار دیا ہے ،

بیلتھنگڈی: گاڑی میں غیر قانونی دھماکہ خیز مادہ لے جانے والے سے رشوت لینے کے الزام میں 2پولیس اہلکار معطل

پونجلا کٹّے پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک اے ایس آئی لکشمن اور ہیڈکانسٹیبل ابراہیم کو اس الزام کے تحت معطل کردیا گیا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر موٹر بائک میں دھماکہ خیز اشیاء لے جانے والے چنّا سوامی سے 24ستمبر کو رشوت لی تھی۔

اُترکنڑا میں زائد پرائمری ٹیچروں کا تبادلہ؛ اردو اسکولوں کے ساتھ ناانصافی۔نارتھ کینرا مسلم یونائیٹد فورم کو تشویش

محکمہ تعلیمات کی طرف سے پرائمری اسکولوں میں جہاں طلبہ کی تعداد مقررہ معیارسے کم ہے وہاں سے زائد ٹیچروں کا تبادلہ کرنے کی جو پالیسی اپنائی ہے اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نارتھ کینرا مسلم یونائٹیڈ فورم کے جنرل سکریٹری جناب محسن قاضی نے کہا ہے اس سے اردو اسکولوں کے ساتھ بڑی ...