بی جے پی کے خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے پر راہل نے کیا طنز؛ ’’آرایس ایس میں ایک بھی خاتون کیوں نہیں؟‘‘

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th October 2017, 11:27 AM | ملکی خبریں |

بڑودہ،10/اکتوبر(ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آج راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) میں خواتین کے نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے حکمراں بی جے پی کے خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے پر نکتہ چینی کی اور سوال کیا کہ  بی ج پی خواتین کو با اختیار بنانا چاہتی ہے تو آر ایس ایس میں ایک بھی خاتون کیوں نہیں ہے ؟  انھوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ملک کی مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی )کی شرح نموگر کر دراصل 4.2فیصد رہ گئی ہے ۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت پر میڈیا کو ڈرانے دھمکانے کا بھی الزام لگایا اور یہ بھی کہا کہ گجرات میں بی جے پی حکومت نے تعلیم کو علم رخی کے بجائے منافع رخی بنا دیا ہے۔

 کانگریس رہنما نے آج صبح یہاں سیاجی ہال میں نوجوانوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانے کی بات کرنے والی بی جے پی کی تنظیم آرایس ایس میں ایک بھی خاتون کیوں نہیں ہے ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آر ایس ایس میں کسی نے ایک بھی خاتون کو دیکھا ہے ۔اسکی شاکھاؤں میں بھی کسی نے ایسا دیکھا ہے ۔ میں نے تو نہیں دیکھا۔ پتہ نہیں خواتین نے کیا غلطی کی ہے کہ اس میں ایک بھی خاتون نہیں ۔ جبکہ کانگریس میں ایسا نہیں ہے ۔اس میں ہرسطح پر خواتین کی شراکت داری ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے اور وزیراعظم نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے حملے کرکے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے ۔جی ڈی پی کی شرح نمو پرانے نظام کے مطابق جس کے تحت ہماری حکومت کام کرتی تھی اصل میں گر کر4.2فیصد پر آگئی ہے ۔ بے روزگاری کی صورتحال کافی خوفناک ہوگئی ہے ۔ لیکن یہ لوگ کسی کی سن نہیں رہے ہیں ۔راہل  گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت میڈیا کو بھی ڈراتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جےپی صدر امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی کمپنی کے بارے میں کسی بھی بڑے چینل نے اہمیت کےساتھ خبر نہیں دکھائی ۔ میڈیا کے لوگ بھی ڈرتے ہیں ، گھبراتے ہیں ۔انھوں نے مودی حکومت پر چنندہ صنعت کاروں کی مدد کرنے کا الزام لگایا اور انکے قریبی کہے جانے والے اڈانی گروپ کے کانوں سے متعلق پروجکٹ کے خلاف آسٹریلیا میں ہورہے مظاہروں کا بھی ذکر کیا ۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کی حکومت آنے پر گجرات میں تعلیم کے شعبہ میں منافع خوری کی جگہ علم کو اہمیت دی جائیگی۔

ایک نظر اس پر بھی

سنیمامیں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں،قومی گیت کولازمی نہیں کیاجاسکتا؛قومی ترانہ پرسپریم کورٹ نے کہا، ہمیں اپنے ہاتھوں میں حب الوطنی نہیں رکھنی چاہیے

سنیماگھروں میں قومی گیت لازمی بنانے کے فیصلہ کے ایک سال بعد ایک موڑ آیاہے۔اب سپریم کورٹ نے سینٹرکوبتایاہے کہ وہ اس معاملے میں خودفیصلہ کرتے ہیں، ہر کام کو عدالت میں داخل نہیں کیاجاسکتاہے۔