کپل سبل کے بیان کاغلط مطلب نہ نکالاجائے،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری بورڈ کا وضاحتی بیان

Source: S.O. News Service | Published on 18th May 2017, 9:33 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی18مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ جناب کپل سبل صاحب اطمینان بخش طریقہ پر تین طلاق اور مسلم پرسنل لا کے کیس کو سپریم کورٹ میں پیش کررہے ہیں، کورٹ یہ جاننا چاہتاتھا کہ کیا تین طلاق کا مسئلہ مذہب کا ایسا بنیادی حصہ ہے جو مذہبی آزادی کے دائرے میں آتا ہو اور جو مسلمانوں کے یقین کا حصہ ہو؟ اس پس منظر میں انہوں نے کہا کہ جب کسی عورت پر تین طلاق واقع ہوجاتی ہے تو شرعا وہ مرد پر حرام ہوجاتی ہے، اورحرام کو حرام سمجھنا مسلمانوں کے اعتقاد اور یقین کا حصہ ہے، کیوں کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حرام وحلال کرنا اللہ تعالی ہی کا حق ہے، اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو کوئی انسان حلال نہیں کرسکتا، اسی ضمن میں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہندو شری رام جی پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ وہ ایودھیا شہر میں پیدا ہوئے تھے، اسی طرح اس مسئلہ کو بھی سمجھا جاسکتا ہے، انہوں نے بابری مسجد کی جگہ پررام جی کے پیدا ہونے کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف ایودھیا شہر کا ذکر کیا، اس سے نہ ہمارے موقف کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور نہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ بابری مسجد کو رام جنم بھومی تسلیم کرلیا جائے، کسی کا ایودھیا شہر کو رام کی جائے پیدائش ماننا الگ بات ہے اور بابری مسجد کی جگہ کو جائے پیدائش قرار دینا دوسری بات ہے، بورڈ کا موقف واضح ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ حق ملکیت کا مسئلہ ہے نہ کہ عقیدہ کا، جب معاملہ دو الگ مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان نزاع کا ہو تو فیصلہ قانون کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ عقیدہ اورآستھا کی بنیاد پر۔

ادھربورڈکے رکن ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہاہے جولوگ اخبارات میں چھپے نامکمل جملوں،سیاق وسباق سے ہٹے اقتباسات پراپنی رائے بناتے ہیں،وہ صحیح نتیجے تک نہیں پہونچ سکتے۔الحمدللہ مسلم پرسنل لاء بورڈکے وکلاء نے پوری طاقت کے ساتھ اوردلائل کے ساتھ اپناموقف رکھاہے اورعدالت نے پوری سنجیدگی کے ساتھ اسے سنااورآخرمیں گزارش بھی کی کہ آپ جوہدایات قاضی اورنکاح خواں حضرات کودیناچاہتے ہیں اسے حلف نامہ کی شکل میں کورٹ میں داخل کردیں جن لوگوں نے عدالت کی کارروائی کوبنفس نفیس دیکھاہے وہ یقیناََگواہی دیں گے کہ بورڈکے وکلاء نے بحث کاحق اداکردیا۔انشاء اللہ نتیجہ بھی بہترآئے گا۔

مولاناخالدسیف اللہ رحمانی سکریٹری بورڈنے یہ بھی کہاکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ قرآن مجید میں تیسری طلاق کا ذکر نہیں ہے، بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں بھی لکھا ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت (۲۳۰)میں تیسری طلاق کا ذکر موجود ہے، البتہ ایک ساتھ تین طلاقوں کا صراحتا تذکرہ قرآن میں نہیں ہے، لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قرآن مجید کی شرح اور شریعت کا دوسرا اہم ترین ماخذہے، اور متعدد حدیثوں میں صراحتا ایک ساتھ تین طلاق دینے اور اس کے واقع ہوجانے کا ذکر موجود ہے، بورڈ اس مقدمہ کے سلسلے میں کس قدر سنجیدہ ہے اور اسے اہمیت دیتا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی اپنے دوسکریٹریز راقم الحروف اور مولانا فضل الرحیم مجددی نیز لیگل کمیٹی کے کنوینر سپریم کورٹ کے سینئرایڈوکیٹ جناب یوسف حاتم مچھالا کے ساتھ دہلی میں قیام کئے ہوئے ہیں، سپریم کورٹ کے وکلا اور علماء کا ایک پینل بنا دیا گیا ہے جو روز عدالتی کاروائی کو سامنے رکھ کر مشورہ کرتا ہے اور بحث کرنے والے وکلاء کو قانونی اور شرعی نقطہ نظر سے مواد فراہم کرتا ہے،نیز اس نے شروع سے جمعیۃ علماء ہند کے مقرر کئے ہوئے وکلاء سے بھی رابطہ رکھا ہے، تاکہ مسلمانوں کا متفقہ موقف کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے، اس بات کی بھی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ بورڈ نے عدالت میں یہ موقف حنفی نقط نظر سے اور احناف کیلئے پیش کیا ہے، اہل حدیث اور شیعہ حضرات کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی  ہوتی ہے، بورڈ نے ان پر فقہ حنفی کو نافذ کرنے کی بات نہیں کہی ہے، بورڈ کا شروع ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلہ میں جن حضرات کا جو موقف ہو، ان کے موقف کے مطابق مقدمات فیصل کئے جائیں۔اس لئے مسلم قائدین اور برادران اسلام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں اور اس وقت امت میں اتحاد کی جو فضا پیدا ہوئی ہے، اس کو نقصان پہنچانے کا سبب نہ بنیں۔

ایک نظر اس پر بھی

جلد25وزارتیں اور محکمے ای۔ آفس میں بدل جائیں گے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ

عملہ ،عوامی شکایت اور پنشن محکمہ (ڈی اے آرپی جی)کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے 25وزارتیں اور محکمے اس مہینے کے آخر تک ای۔ آفس میں بدل جائیں گے۔محکمہ کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ منگل کو یہاں کہا کہ ای-فائلوں کی تعداد میں 6000فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امرناتھ یاترا پر دہشت گردانہ سایہ، گرینیڈ سے ہو سکتا ہے حملہ!

29جون سے شروع ہونے والی شری امرناتھ یاترا کو لے کر انٹیلی جنس رپورٹ سامنے آئی ہے کہ دہشت گرد ناخوشگوار واقعہ کو انجام دینے کی فراق میں لگے ہیں۔سیکورٹی ایجنسیوں کے سامنے امرناتھ یاترا کو بحفاظت کرانا بڑا چیلنج ہے۔