چنداور کے بعد اب ہوناور میں تشدد کے واقعات ؛عوام میں خوف وہراس؛ حالات کشیدہ؛ 41 گرفتار

Source: S.O. News Service | Published on 8th December 2017, 1:19 AM | ساحلی خبریں |

ہوناور:7/ دسمبر(ایس اؤنیوز)  قریبی دیہات چنداور  کے بعد اب ہوناور میں بدھ کی شب کو اچانک دو فرقوں کے درمیان ہوئی جھڑپوں کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں بتایا گیا ہے کہ حالات پر قابو پانے کے لئے پولس نے حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے ساتھ ساتھ آج جمعرات کو 41 افراد کو گرفتار کرلیا  ہے جس میں 29 مسلم نوجوان بھی شامل ہیں۔  بتایا گیا ہے کہ ایک طرف پولس نے کچھ گھروں میں گھس کر   کچھ لوگوں کو گرفتار کیا  تو شرپسندوں نے بھی کچھ مکانوں کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ مچائی ہے، جس سے  ہوناور کے عوام میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آج جمعرات صبح  جھڑپوں کے دوران پولس نے ہلکی لاٹھی کا سہارا لیتے ہوئے لوگوں کو منتشر کرنے کی بھی خبر ہے، البتہ بعد میں جب پولس نے اپنا کریک ڈائون شروع کیا تو 41 لوگوں کو بھی گرفتار کیا ہے، جس میں ہوناور جماعت کے کچھ ذمہ داران بھی شامل ہیں۔

 ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ہوناور کے ایک لیڈر نے بتایا کہ بدھ کو جیسے ہی بھٹکل اورکمٹہ میں  پروگراموں میں شریک ہونے کے بعد ریاستی وزیراعلیٰ سدرامیا  کاروار کے لئے روانہ ہوئے، اُسی شام قریب  سات بجے  ہوناور سرکل پر ایک سڑک حادثہ کو بنیاد بناتے ہوئے شرپسندوں نے  ٹمپو  پر پتھرائو شروع کردیا، بتایا گیا ہے کہ ہوناور سرکل پر رکشہ اور بائک کی ٹکر میں کاسرکوڈ کا رہنے والا  عادل ابن عبدالرحمن نامی ایک 16 سالہ لڑکا زخمی ہوا تھا،  جس کے بعد کچھ لوگوں نے ٹمپو اسٹائنڈ پر پہنچ کر  پتھرائو  شروع کردیا۔ واردات میں قریب دس  ٹمپو  کو نقصان پہنچنے کی خبرہے، جبکہ کچھ ہوٹلوں اور دکانوں میں بھی توڑ پھوڑ مچائی گئی ہے۔

ہوناور سے ایک ذرائع نے بتایا کہ بائک اور رکشہ کے درمیان ہوئے حادثہ کے بعد معاملہ رفع دفع ہوچکا تھا،  اس بنا پر یہ کہنا غلط ہوگا کہ حادثے کی وجہ سے  پتھرائو کیا گیا۔ اس ذرائع کے مطابق حادثہ شام قریب سات بجے پیش آیا تھا، جبکہ ٹمپو اسٹائنڈ پر پتھرائو کی واردات رات نو بجے پیش آئی۔

پولس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  ہوناور کے ٹمپو اسٹائنڈ کے قریب رات نو بجے اچانک کچھ  لوگوں نے پتھرائو شروع کردیا جس میں  نرسمہا میستا اور شرتھ نامی دو  افراد کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ زخمیوں میں شرتھ کی حالت نازک ہونے کی بنا پراُسے منی پال اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ پولس ذرائع کے مطابق ضلع کے پولس دستوں کو وزیراعلیٰ سدرامیا کی سیکوریٹی پر مامور کیا گیا تھا، جس کی بنا پر ہوناور  میں پولس اہلکاربے حد کم تھے، سمجھا جارہا ہے کہ اسی کافائدہ اُٹھا کر چند شرپسندوں نے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی۔

جھڑپوں میں پولس کا ایک اہلکار بھی زخمی ہونے کی خبر ہے۔

ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے پولس کے ایک اعلیٰ آفسر نے بتایا کہ ہوناور میں اب پولس کا نہایت سخت بندوبست کیا گیا ہے اور حالات پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے۔   البتہ دونوں فرقوں کےلوگوں میں پولس کی گرفتاریوں کو لے کر ناراضگی پائی جارہی ہے اور لوگ الزام لگارہے ہیں کہ پولس نے اُن کے گھروں میں گھس کر  اُن کے لڑکوں کو حراست میں لیا ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس نے  جن  لوگوں کو گرفتار کیا ہے اُن میں سے اکثرلوگ بے قصور ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے بیلنی علاقے میں قربانی روکنے کا مطالبہ ۔پولس کو سونپا گیا میمورنڈم

بیلنی علاقے کے کچھ ہندوؤں نے بھٹکل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ایک میمورنڈم دیتے ہوئے مطالبہ کیاہے ہندوؤں کے مندروں اور مقدس مقامات سے گھرے ہوئے اس علاقے میں جانوروں کی قربانی کرنے پر روک لگائی جائے۔

منگلورو: بھاری برسات کا سلسلہ جاری۔ کئی مقامات پر چٹانیں کھسکنے کے واقعات۔ ڈی سی نے عوام کودی تعلقہ لیول کنٹرول روم سے رابطہ رکھنے کی ہدایت

ساحلی علاقوں میں تیز اورموسلا دھار برسات کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ خاص کر منگلورو اور اڈپی کے بعض علاقوں میں لگاتار بارش برسنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔

بھٹکل   تعلقہ میں مسلسل بارش سے ندی کنارے پر خطرہ :163ملی میٹر بارش

بھٹکل تعلقہ میں پچھلے دو تین دنوں سے مسلسل برستی بارش سے ندی نالے  پوری تاب سے بہنے کے نتیجےمیں عام زندگی مفلوج ہوگئی ہےاور نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے سے عوام پریشانی میں مبتلا ہونےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بھاری بارش کے بعد لنگن مکّی ڈیم سے کیا گیا پانی کا اخراج؛ ہوناور کے شراوتی بیلٹ پرکئی دیہاتوں میں داخل ہوا پانی؛ عوام نہایت چوکس

  گذشتہ تین چار دنوں سے جاری بھاری بارش کے بعدپڑوسی تعلقہ ہوناور کے شراوتی بیلٹ سے بہنے والی شراوتی ندی میں طغیانی آگئی ہے اور ندی خطرے کے نشان سے اوپر  بہہ رہی ہے، ایسے میں اُدھر لنگن مکّی ڈیم سے 21,223کیوسک پانی کو بھی باہر چھوڑا جارہا ہے، اگر بارش پھر اپنی رفتار سے شروع ہوتی ...

منگلورو : مسلسل بارش سے کافی جانی ومالی نقصان : حالات سے نمٹنے ضلع انتظامیہ تیار : ڈپٹی کمشنر سینتھل کی پریس کانفرنس

کیرلا سمیت کرناٹکا کے ساحلی علاقوں  میں طوفانی ہواؤں اور موسلا دھار بارش جاری رہنے سے دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لگاتار بارش برسنے سے منگلورو اور بنگلورو قومی شاہراہ  پر پہاڑ کھسک گیا ہے ، جس کی  وجہ سے سواریوں کی  نقل وحمل روک دئیے جانے کے علاوہ بعض ...

کاروار میں مسلسل بارش کے نتیجےمیں ماہی گیری ٹھپ : ماہی گیر بری طرح متاثر

ہرسال اگست کے مہینےمیں ماہی گیر سمندر میں مچھلی شکار کے لئے نکلتےہیں، لیکن امسال اگست کے دوسرے ہفتےسے جاری طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش  نےجہاں رہائشی علاقوں ، زراعت وغیرہ کو متاثر کیا ہے وہیں ماہی گیر پر بھی اس کے کافی اثرات نظر آرہے ہیں۔ دوتین کی بارش کو دیکھتے ہوئے ...