وزیر داخلہ کی یقین دہانی کے بعد، آرٹیکل 35Aکے خلاف آوازوں کو خاموش ہوناچاہئے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th September 2017, 9:29 PM | ملکی خبریں |

عمرعبداللہ نے راج ناتھ سنگھ کے بیان کاخیرمقدم کیا،ایک اہم انتخابی منشورسے بی جے پی پلٹی؟
سرینگر،11؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے آج کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی یقین دہانی کے بعد آئین کے آرٹیکل 35اے کے خلاف اٹھ رہی تمام آوازیں خاموش ہو جانی چاہئیں۔جموں وکشمیر کے چار روزہ دورے پر آئے راج ناتھ سنگھ نے بی جے پی کے انتخابی منشورسے پلٹے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت ایسا کوئی کام نہیں کرے گی جس سے ریاست کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔انہوں نے کہا کہ مرکز نے آرٹیکل 35Aکو قانونی چیلنج دینے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اور نہ ہی اس پر عدالت نے دستخط کیاہے۔حالانکہ یہ بی جے پی کے انتخابی منشورکاحصہ رہاہے ۔یہ دفعہ جموں و کشمیر کے باہر ریاست میں غیر معمولی جائداد لینے سے روکتی ہے۔سنگھ نے کہاکہ اس کے بارے میں کسی بھی قسم کے ترددیاتشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔یہ کسی بھی مسئلہ کے بغیرمسئلہ بنایاجارہاہے۔مرکزی حکومت نے اس مسئلے پر کوئی عمل شروع نہیں کیا ہے، ہم نے عدالت کو بھی جواب نہیں دیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ میں آرٹیکل 35Aکے بارے میں بات نہیں کروں گا، جو بھی ہماری حکومت ہے، ہم یہاں لوگوں کے جذبات کے خلاف کچھ بھی نہیں کریں گے۔ہم اس کا احترام کرتے رہیں گے۔راج ناتھ سنگھ کی طرف سے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کے بعد عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیاکہ یہ مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے ایک بہت اہم بیان ہے۔ان کی یقین دہانی 35اے کے خلاف اٹھ رہی آوازوں کو پرسکون کرنے میں کافی اہم ہوجائے گی۔عمرعبداللہ نے کہا کہ مرکز کو آرٹیکل 35اے کا دفاع کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک جوابی حلف نامہ دائر کرناچاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

بائیں بازو پارٹیاں 6 ڈسمبر کو ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی

  ایودھیا میں 6 ڈسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہادت واقعہ کے خلاف بائیں بازو پارٹیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابری مسجد شہادت کی 25 ویں برسی کے ان تمام بائیں بازو پارٹیاں ملک بھر میں ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی۔

اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا:ملائم سنگھ یادو

سماج وادی پارٹی (ایس پی)کے بانی ملائم سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کو آج بھی مسلمانوں کی حمایت حاصل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لئے تھے۔