بھٹکل میں زکوٰة اور صدقات مانگنے والوں کی بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 25th June 2016, 3:28 PM | ساحلی خبریں | اداریہ |

بھٹکل 25جون (ایس او نیوز) رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوگیا اس کے ساتھ ہی زکوٰة و صدقات کی تقسیم میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔بھٹکل کے خوشحال لوگوں کی طرف سے جس پیما نے پر صدقہ وخیرات کی جاتی ہے آس پاس کے علاقوں میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔یہی وجہ ہے آندھرا، تملناڈو اور مہاراشٹرا جیسی قریبی ریاستوں سے ہی نہیں بلکہ دوردرازکشمیر، نیپال، جھارکنڈ، بہار، اتر پردیش،مغربی بنگال جیسے ہندوستان کے کونے کونے سے مدرسوں اور مساجد کی وصولی کے علاہ زکوٰة اور صدقات مانگنے والوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ان لوگوں میں جہاں اکثریت حقیقی معنوں میں مستحق اور ضرورتمندوں کی ہوتی ہے وہیں پر پیشہ ور بھکاری بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ غیر موجود اداروں کے دستاویزات بنا کر رسیدیں پھاڑنے والے لوگ بھی ان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جسمانی معذوری کا ڈھونگ رچانے والے، شرابی ، جواری اور غیر مسلم تک مسلمانوں کے بھیس میں یہاں سے صدقہ و خیرات اڑا لے جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

ابھی رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوا ہے ۔دوسرے عشرے سے ہی امداد مانگنے والوں کے قافلے بھٹکل میں پڑاو ڈال چکے ہیں۔ اور دن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ان کے ساتھ خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں۔یہ لوگ دن بھر شہر کے محلّوں اور گلیوں میں چکر لگاکر خیرات جمع کرتے ہیں اور رات ہوتے ہی بس اسٹاپ، دوکانوں کے،شیڈس میں اپنا ڈیرہ ڈال دیتے ہیں۔صبح ہونے تک کھانا پینااور سونا جاگنا سب کچھ انہی عارضی اڈوں پر ہوتا ہے۔ کچھ گروہ ہوٹلوں میں کمرے لے کر بھی رات گزارتے ہیں جبکہ مساجد اور مدارس کے سفیر بڑی تعداد میں زیادہ تر یہاں کے تبلیغی مرکزشاذلی مسجد میں قیام کیا کرتے ہیں۔

رمضان کے آخری تین چار دنوں میں تو یہ بھیڑ حد سے زیادہ ہوجاتی ہے اور زکوٰة کی تقسیم اس وقت عروج پر ہونے کی وجہ سے مردوں سے زیادہ برقعہ پوش خواتین کے جھنڈ کے جھنڈ دن بھرایک جگہ سے دوسری جگہ دوڑ بھاگ کرتی نظر آتے ہیں۔ ایسے میں سڑک حادثات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کے لئے بھی چوکسی بہت زیادہ بڑھانی پڑتی ہے۔کیوںکہ ان دنوں میں عادی چوروں اور لٹیروں کی بھی بن آتی ہے۔ دیر رات تک شاپنگ کے لئے جانے یا پھر اجتماعی عبادتوں کے لئے چلے جانے سے اگر گھروں پر تالے پڑے رہتے ہیں تو پھر چوری اور لوٹ مار کے واقعات بھی رونما ہوجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی گھروالوں کے تراویح کی نماز کے لئے جانے کے بعد لٹیروں نے گھر کا تالا توڑ کر30 لاکھ روپے سے زیادہ سونے کے زیورات پر ہاتھ صاف کر دیا تھا۔اس کے علاوہ دیگر تین چار گھروں میں بھی چوری کے واقعات ہوچکے ہیں۔ کچھ برسوں پہلے گھر کے مرد جب عید گاہ میں نماز ادا کررہے تھے تو مجلس اصلاح و تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے گھر پر لوٹ مار مچائے جانے کا واقعہ بھی پیش آچکا ہے۔

اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوپ شیٹی کے مطابق نگرانی اور تحفظ کے نقطہ نظر سے چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ بھٹکل کے باہر سے بھی پولیس فورس منگوائی گئی ہے اور بازاروں، کاروباری ٹھکانوں اور حساس مقامات کی نگرانی پر لگادیا گیا ہے۔بھیک مانگنے والے گروہوں پر پوری نگاہ رکھی جارہی ہے۔ رات کے وقت پولیس بیٹ بھی بڑھا دی گئی ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

یلاپور تالاب میں ڈوبنے سے 3افراد کی موت

لاپور شہر سے ذرا دوری پر واقع اجّپا ٹینک کے تالاب میں ڈوبنے سے تین افراد کی موت واقع ہوگئی ہے۔پانی میں غرق ہوکر موت کے منھ میں چلے جانے والوں کی شناخت سریتا گوسوامی(۱۳ سال) دیویا راجیش گوسوامی (۱۷سال)اور سیلوین ساویرا فرنانڈیز کے طور پر کی گئی ہے۔

کاروار میں بچوں کا ناٹک اتسوا

کاروار میں بچوں کی اداکاری کو اجاگر کرنے والا ایک ناٹک اتسوا "ابھیرنگا"کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔ اس کا اہتمام ضلع انتظامیہ، ضلع پنچایت، بال بھون سوسائٹی اور محکمہ بہبودئ خواتین و اطفال کے اشترا ک سے کیا گیا تھا۔

ہندوتوا فاشزم کا ہتھکنڈا "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" ملک کے کئی حصوں میں خفیہ طور پر جاری

آر ایس ایس کے ہندو فاشزم کے نظریے کو رو بہ عمل لانے کے لئے اس کی ذیلی تنظیمیں خاکے اور منصوبے بناتی رہتی ہیں جس میں سے ایک بڑا ایجنڈا اقلیتوں کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر ہراساں کرنا اور خوف و دہشت میں مبتلا رکھنا ہے۔ حال کے زمانے میں سنگھ پریوار کی تنازعات کھڑا کرنے کے لئے ...

بھٹکل میں گرفتار شدہ ملزم کے بدن پر پیٹائی کے نشانوں پرعدالت نے دیا دوبارہ میڈیکل جانچ کا حکم

گذشتہ سال ڈسمبرمیں ہرنی اور بھینسہ کے شکار کے الزام میں جمعہ کو ڈرامائی اندازمیں بھٹکل محکمہ فاریسٹ کی طرف سے گرفتار ہوئے افضل ائیکری کی دوبارہ میڈیکل جانچ کرنےکا مقامی عدالت  نے حکم جاری کیا ہے۔

ہندوتوا فاشزم کا ہتھکنڈا "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" ملک کے کئی حصوں میں خفیہ طور پر جاری

آر ایس ایس کے ہندو فاشزم کے نظریے کو رو بہ عمل لانے کے لئے اس کی ذیلی تنظیمیں خاکے اور منصوبے بناتی رہتی ہیں جس میں سے ایک بڑا ایجنڈا اقلیتوں کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر ہراساں کرنا اور خوف و دہشت میں مبتلا رکھنا ہے۔ حال کے زمانے میں سنگھ پریوار کی تنازعات کھڑا کرنے کے لئے ...

بھٹکل میں اندرونی نالیوں کے ابترحالات ؛ حل کے منتظر عوام :پریشان عوام کا وزیرا علیٰ سے سوال،  کیا ہوا تیرا وعدہ  ؟؟

یہ بھٹکلی عوام کے لئے کسی سانحہ سے کم نہیں ہے، گرچہ یہاں کے عوام کے سامنے چاند سورج لانے کے وعدے کرنےکے باوجود عوام کے بنیادی سہولیات کی حالت دگرگوں اور قابل تشویش  کی حدتک جاری ہے، خاص کر بھٹکل شہر میں اندرونی نالیوں کا نظام عوام کو ہر طرح سے پریشان کررکھاہے۔

بھٹکل کے سڑک حادثات پرایک نظر : بائک کا سفر کیا………………سفر ہے ؟ غور کریں

’’ مجھے بہت غرورتھا اپنی بائک پر، تیز رفتاری پر، توازن پر ، سمجھتاتھا کہ میں بائک چلانے میں ماہرہوں، جتنی بھی تیز رفتاری ہو اپنی بائک پر مجھے پورا کنڑول ہے ،کراس کٹنگ میں بھی میرا توازن نہیں جاتا، جب چاہے تب میں اپنی بائک کو اپنی پکڑ میں لاسکتاہوں۔ لیکن جب میرا حادثہ ہوا تو ...

ٹی وی، موبائیل اورسوشیل میڈیا کی چکاچوند سے اب کتب خانے ویران :بھٹکل سرکاری لائبریری میں27 ہزار سے زائد کتابیں مگرپڑھنے والا کوئی نہیں

جدید ٹکنالوجی کے دورمیں موبائیل ، لیپ ٹاپ، ٹیاب کی بھر مار ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کو موبائیل دور کہا جاتاہے۔ واٹس اپ کی کاپی پیسٹ تہذیب ، تخلیق ، جدت اور سنجیدگی کو قتل کرڈالا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ موبائیل کے ذریعے ہی ہرچیز حاصل کرنے کو ہی جب ...

آزادی ، جدوجہد، مسلمان ، تاریخی سچائی اور ملک کی ترقی یوم آزادی مبارک ہو۔

درختوں پر لٹکتی لاشیں ، سڑکوں پر سسکتی ، ٹرپتی جانیں، حد نگاہ سروں کا ڈھیر ، زمین کا چپہ چپہ خون سے لت پت، سرِبازار عصمتیں تارتار، گھر زنداں ، بازار مقتل،بے گور وکفن پڑی نعشیں ، قید و بند کی صعوبتوں کو خوش آمدید کہتے مجاہدین، تختہ دار پر انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیتے ہوئے ...