ہندوتوانظریہ سے ملک میں دہشت کاماحول؛ دنیش گنڈو راؤ اپنے بیان پر قائم سنگھ پریوار کا دہشت گرد تنظیموں سے موازنہ غلط نہیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th January 2018, 8:15 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،12؍جنوری(ایس او نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی ( کے پی سی سی) کارگزار صدر دنیش گنڈوراؤ نے آر ایس ایس اور بی جے پی کا دہشت گرد اور جہادی تنظیموں سے موازنہ کرنے کے اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے سوال کیا ہے کہ خوف کا ماحول پیدا کرنے والے بی جے پی ، بجرنگ دل،آر ایس ایس اور وشواہندو پریشد کوکس نام سے پکارناچاہئے ۔

یہاں اخباری کانفرنس سے بات کرتے ہوئے دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے رہے ہیں اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا( پی ایف آئی) کے خلاف الزامات عائد کرنے والی بی جے پی انہیں کے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے دھمکیاں دیتے ہیں ۔ شوبھا کرندلاجے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلا رہی ہیں ، انہیں دہشت گرد کہنا غلط نہیں ہے ۔دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ مرکز کوکرناہے۔ اگر انہیں ضرورت ہے تو وزیراعظم کے روبرو دھرنا دے کر پابندی عائد کرکے دکھائیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کاہندوتوا نظریہ ملک میں دہشت کاماحول پیداکررہاہے۔

انہوں نے بتایا کہ مہادائی تنازعہ پر ایڈی یورپا نے دھوکہ دیاہے ۔منوہر پاریکر کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ مہادائی تنازعہ پر بی جے پی جھوٹ بول رہی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ مداخلت کریں ۔ امیت شاہ کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت کے گرانٹ پر سوال کرنے والے امیت شاہ کون ہیں۔کیا وہ مرکزی وزیر مالیات ہیں ۔ ریاست نے اپنا حصہ مرکز سے حاصل کیا ہے۔دنیش گنڈو راؤ نے کہاکہ نریش ماستی کے معاملے میں سڑکو ں پر اترنے والے بی جے پی دھنیا شری کے معاملے میں کس لئے سڑکو ں پر نہیں آئی۔ وہ ہندو مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔ کیوں اس معاملے پر بی جے پی نے خاموشی اختیار کی ہے ۔ اس کاجواب خود بی جے پی لیڈروں کوہی دیناپڑے گا۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کامقصد ملک میں ہندوتوا کورائج کرناہے جو ناممکن ہے ۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ کرناٹک سے گواکے لئے بیل کے گوشت کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا گواکے وزیراعلیٰ منوہر پاریکر نے جو بیان دیاہے اس پر یوگی پہلے کارروائی کرکے دکھائیں بعد میں کرناٹک کی فکر کریں ۔ امیت شاہ پر اپنی ناراضی جتاتے ہوئے گنڈوراؤ نے کہاکہ ایک ڈائری رکھ کر امیت شاہ جو بیان دے رہے ہیں وہ غلط ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اس سے قبل بھی وزیراعظم نریندر مودی کا نام اس ڈائری میں درج تھا۔ جس میں ان کے نام کے ساتھ 50کروڑ روپئے درج تھے۔ اس معاملے میں امیت شاہ خاموش کیوں ہیں ؟

انہوں نے بتایاکہ دلتوں کی ترقی کے لئے ریاستی کانگریس حکومت نے جتنی رقم خرچ کی ہے اس طرح کا خرچ ملک کی کسی بھی ریاستی حکومت نے نہیں کیا ہے۔ صرف ایک سال کے دوران26ہزار کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی ترجمان پریانکا چترویدی نے کہاکہ گزشتہ تین دنوں سے پارٹی کے مختلف یونٹس کے ساتھ انہوں نے مشورہ کیا ہے۔جلد ہی پارٹی کے لئے نئے ترجمان کی نامزدگی ہوگی۔ انہو ں نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا ایجنڈا عوام اچھی طرح جانتے ہیں اور انتخابات میں انہیں جواب دیں گے ۔
 

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔