ہندوتواوادیوں پر ظلم اور سناتن سنستھا پر پابندی کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف ہندوتنظیموں کی احتجاجی ریالی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th September 2018, 1:05 PM | ساحلی خبریں |

منگلورو5؍ستمبر (ایس او نیوز) ترقی پسند ادیبوں اور دانشوروں کی طرف سے سناتن سنستھا پرپابندی لگانے کا جو مطالبہ ہورہا ہے اس کے خلاف سری رام سنیا، ہندو جاگرن سمیتی اور دیگرہندوتواوادی تنظیموں کے بینر تلے منگلورو جیوتی سرکل سے ڈپٹی کمشنر دفتر تک ایک زبردست احتجاجی ریالی منعقد کی گئی۔واضح رہے کہ پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے دانشوروں اور مفکروں کو قتل کرنے کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے جن ملزموں کو گرفتار کیا ہے ان کاتعلق سناتن سنستھا بتایا جاتا ہے۔

احتجاجیوں نے جو بینر س اور پلے کارڈس اٹھارکھے تھے اس میں ہندوتواوادیوں کے خلاف ناانصافیوں اور سناتن سنستھا پر پابندی لگانے کے جو مطالبے کی مخالفت کی گئی تھی۔ مظاہرین نے کانگریس پارٹی، مفکرین اور ترقی پسند دانشوروں کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ہندوتووادی لیڈر چیترا کنداپور نے کہا کہ گوری لنکیش، عمر خالد اور کنہیا کمار جیسے خودساختہ ملک دشمن اسٹوڈنٹ لیڈرس کی حمایت کررہی تھیں۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے چیترا نے کہا کہ ہم لوگ مندر کی ڈبی میں بھی اس سے زیادہ رقم ڈالتے ہیں جبکہ اس یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے کی فیس صرف 11روپے ہے۔ سوچاجاسکتا ہے کہ وہاں کس قسم کی تعلیم دی جاتی ہوگی۔ وہاں سے تعلیم پانے والے دہشت گرد بن کر باہر نکلتے ہیں۔ اس یونیورسٹی سے دیش کے دشمن پید اکیے جارہے ہیں۔

چیترا نے ایس آئی ٹی پر اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ وہ گوری لنکیش قتل معاملے میں ہندوتواوادی کارکنان کومسلسل نشانہ بنارہی ہے۔اس نے کہا کہ:’’ اس طرح کے جھوٹے الزامات ہمیں اور زیادہ مستحکم کریں گے۔ ہم لوگ ایس آئی ٹی افسران کی طرح بدعنوان نہیں ہیں۔بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ لوگوں اور اداروں کا مقصد ہندوؤں کوبرباد کرنا ہوگیا ہے۔یہ لوگ لاشوں کو سامنے رکھ کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں۔ دابولکراور پنسارے کے قتل کے بعد ایسا ہی کیا گیا ہے۔‘‘
چیترا نے اپنی شعلہ بیانی جاری رکھتے ہوئے کہا کہ :’’ جب 24ہندوکارکنان کا قتل ہواتوپی ایف آئی والے اس میں ملوث تھے۔تب تو ان پر پابندی نہیں لگائی گئی۔سیمی(SIMI)پر اس لئے پابندی لگائی گئی تھی کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ مگر پی ایف آئی والے اس سے قبل سیمی کا حصہ تھے۔ صرف ان کا نام اور بینر تبدیل ہوا ہے، مگر ایجنڈہ اب بھی وہی ہے۔‘‘

سناتن سنستھا کے لیڈر گروپرساد نے اپنے خطاب میں کانگریس اور ایس آئی ٹی کے خلاف بہت چیخ و پکار کی۔گروپرساد کا کہنا تھا کہ:’’ جب گوری لنکیش کا قتل ہواتو راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا تھا کہ اس میں ہندوکارکنان ملوث ہیں۔ایس آئی ٹی نے اسی بیان کے مطابق تحقیقات کی تاکہ راہل گاندھی کو سچ ثابت کیا جاسکے۔کئی ہندو کارکنان کو اس تاریخ سے پہلے گرفتار کیاگیاتھا جس تاریخ کو ان کی گرفتاری دکھائی گئی ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ تب تک انہیں کہاں رکھاگیا تھا ؟ان ہندوکارکنان کو ٹارچر کرتے ہوئے اقبال جرم کے لئے مجبور کیا گیا ہے۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

ہلیال میں جے ڈی ایس لیڈر کے گھر پر انتخابی افسران کا چھاپہ ۔تلاشی کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹے افسران؛ کیا بی جےپی کو شکست کا خوف ہے؟

پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر چیک پوسٹس پر تلاشی مہم کے علاوہ ہلیال شہر کے گوداموں، شراب کی دکانوں، موٹر گاڑیوں کی بھی مسلسل تلاشیاں لے رہے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

بھٹکل میں بی کے ہری پرساد کا بی جے پی اور مودی پر راست حملہ، کہا؛ پسماندہ طبقات کومزید کمزور کرنے کی سازش رچی جارہی ہے

بی جے پی بھلے ہی اپنے آپ کو اقلیت مخالف پارٹی کے طور پر پیش کرتی ہو، مگر  دیکھا جائے تو یہ پارٹی حقیقتاً پسماندہ طبقات، دلت اور ادیواسیوں کو  مزید  کمزور کرنے کی سازش میں لگی ہوئی ہے اور صرف ایک طبقہ کو برسراقتدار پر لانے میں کوشاں ہے۔ یہ بات  آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی ...