ہند۔پاک تنازعات ازحکیم سراج الدین ہاشمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th September 2016, 4:26 PM | اسپیشل رپورٹس |

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیر میں جتنے حالات خراب ہوئے وہ مودی حکومت کے دوران ہوئے، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جتنی کشیدگی اور تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، وہ بھی مودی حکومت کے دوران ہی ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ ہند کی خارجہ پالیسی کی مذمت جتنی کی گئی وہ کانگریس کے دور حکومت میں بی جے پی نے کی، یہاں تک کہ بی جے پی نے بحیثیت اپوزیشن جماعت ہندوستان کے سابق وزیر اعظم منموہنسنگھ کو ایک ڈرپوک وزیر اعظم قرار دیا تھا جبکہ مودی حکومت مکمل طور پر پاکستان کے ساتھ سیاسی تعلقات استوار کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور جتنے سیاسی حالات و معاملات مودی دور حکومت میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خراب ہ ہوئے، کانگریس کے دور حکومت میں نہیں ہوئے۔ اس روشنی میں یہ کہا جائے گا کہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ہند نے کوئی موثر قدم نہیں اُٹھایا اور یہ ہی وجہ رہی کہ کشمیر میں حالات بد سے بدتر ہوگئے۔

لیکن اب پاکستان اگر اپنی سیاسی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اورتبدیلی نرمی کی صورت میں ہوئی تو یہ تبدیلی مودی حکومت کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جو معاہدات ہوئے ہیں اور دونوں ممالک میں قربت پیدا ہوتی تو پاکستان امریکہ کی وجہ سے نرمی لائے گا۔ کیونکہ پاکستان یہ سمجھ رہا ہے کہ امریکہ سے اب دوری ہورہی ہے اور یہ اس کے لیے ہر طرح مضر ثابت ہوگی۔ اس لیے پاکستان ہند کے تئیں نرم پڑ جائے گا۔ پاکستان بلوچستان کے بارے میں بھی سوچ رہا ہے، کشمیر کے بارے میں سوچ رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے بارے میں سوچ رہا ہے اور سب سے زیادہ اپنے بارے میں اور امریکہ کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے سیاسی تعلقات میں تلخی ہے اور یہ تلخی کب ختم ہوگی کہا نہیں جاسکتا؛ لیکن یہ ضرور کہا جائے گا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نے پاکستان کے لیے سخت رویہ اختیار کیا ہے جو زبانی طور پر ہی محدود ہے۔ اس کے علاوہ عملی صورت میں ابھی تک کچھ نظر نہیں آیا ہے۔ حکومت ہند نے مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق جو قدم اُٹھایا ہے وہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان سے بات چیت نہ کی جائے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...