حرا گولڈ سے سیاست دان بننے والی ایم ای پی چیف نوہیرا شیخ پر دھوکہ دہی کے الزامات۔پولیس میں شکایت درج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 5:20 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو17؍مئی (ایس او نیوز) ’حرا گولڈ ‘انویسٹمنٹ کمپنی سے نام و شہرت پانے کے بعد اچانک ’مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی ‘ بناکر سیاسی میدان میں قدم رکھنے والی ڈاکٹر نوہیرا شیخ اب دھوکہ دہی کے الزامات کے ساتھ اخباروں کی سرخی میں آگئی ہیں۔

ایک  انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ایم ای پی کا امیدوار بنانے کے نام پر پیسے وصول کرنے ، امیدواروں سے بلینک چیکس حاصل کرنے اور وعدے کے مطابق انتخابی اخراجات کے لئے رقم فراہم نہ کرنے کے الزامات ایم ای پی کی قومی صدر نوہیرا شیخ پر لگائے گئے ہیں۔ بعض امیدواروں نے پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ شکایتیں درج کروائی ہیں تو بعض نے کہا ہے کہ پارٹی کے ذمہ داروں نے دوچار دنوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا ہے اس لئے وہ کچھ دن کے لئے خاموش ہیں ، اور اگر یہ وعدہ پورا نہیں ہوتا ہے تو پھر وہ بھی اگلے اقدامات کرنے والے ہیں۔

ایم ای پی کے امیدواروں کے سلسلے میں عام رائے تو یہ تھی کہ نوہیرا شیخ نے بی جے پی کے ساتھ اندرونی سازش کے تحت اس طرح کا سیاسی کھیل شروع کیا ہے۔ اس لئے کئی مقامات پر اس پارٹی کی تشہیری مہم کو مقامی لوگوں نے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ الیکشن کے بعد نتائج میں بھی اس پارٹی کی کوئی کارکردگی سامنے نہیں آئی۔ البتہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ نوہیرا شیخ اور پارٹی کے دیگر ذمہ داروں نے وعدہ کیا تھا کہ انہیں الیکشن کمیشن کی طرف سے طے شدہ اخراجات کی حد کے مطابق 28لاکھ روپے پارٹی کی طرف سے فراہم کیے جائیں گے۔مگر شروعات میں امیدواروں سے ہی لاکھوں روپے کی رقم لی گئی اور بعض لوگوں سے بلینک چیکس بھی لیے گئے۔امیدواروں نے ڈاکٹر نوہیرا اور اس پارٹی کے دیگر ذمہ داران کے بھروسے پراپنی جمع پونجی سے یا پھر قرضے لے کر انتخابی اخراجات برداشت کیے اور پارٹی نے ان کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے پارٹی فنڈ سے ایک روپیہ بھی انہیں فراہم نہیں کیا۔

ایم ای پی کی اسٹیٹ ایڈوائزری کمیٹی کی رکن وندنا جین کا کہنا ہے کہ ’’میڈم(نوہیراشیخ) نے کسی بھی امیدوار کو فنڈفراہم کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ صرف انتخابی تشہیر کے لئے ضروری اشیاء فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔انہوں نے بلینک چیکس بھی کسی سے نہیں لیے ہیں۔ امیدواروں سے جو رقم لی گئی تھی، وہ ٹکٹ اور بی فارم دینے کے لئے تھی۔‘‘

جبکہ اس کے برعکس پارٹی کے ایک اور مشیر کا کہنا ہے کہ’’ امیدواروں نے رضاکارانہ طورپر ٹکٹ کے لئے رقم دی تھی۔ ہم نے کسی کو بھی پارٹی فنڈ دینے کا  وعدہ نہیں کیا تھا۔ بلینک چیکس امیدواروں سے اس لئے حاصل کیے گئے تھے کہ وہ کسی اور پارٹی میں شامل نہ ہوجائیں۔ ہم نے وہ چیکس استعمال بھی نہیں کیے۔ امیدواراپنے چیکس پر ادائیگی رکوا بھی سکتے ہیں۔‘‘ایم ای پی کے کچھ لیڈران پر امیدواروں کو ڈرانے اور دھمکانے کے بھی الزامات لگائے جارہے ہیں۔

اس دوران جیون بیمہ نگر پولیس کا کہنا ہے کہ ایم ای پی کی نوہیرا شیخ اور دیگر افراد کے خلاف دھوکہ دہی کے الزامات میں آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور پولیس اس معاملے کی چھان بین کررہی ہے۔شکایت کنندگان کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی دیکھی جارہی ہیں ۔ جس کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔