سعودی عرب میں موسلادھار بارش، نظام زندگی درہم برہم، 2افراد جاں بحق

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 22nd November 2017, 10:26 AM | خلیجی خبریں |

جدہ،21/نومبر(ایجنسی)مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور جدہ سمیت سعودی عرب کے مختلف علاقوں، شہروں ،قصبوں اور بستیوں میں منگل کو بارش نے زندگی کا نظام درہم برہم کردیا۔ مکہ مکرمہ ریجن میں منگل کو ہونےوالی موسلا دھار بارش سے شہریوں کی زندگی جزوی طور پر مفلوج ہو گئی۔ جدہ ہلال احمر کے ترجمان عبداللہ ابو زید کے مطابق بارش کے باعث کرنٹ لگنے سے دو افراد جاں بحق ہوئے۔

جدہ کے کئی علاقوں میں دوپہر12بجے بجلی غائب ہے۔ تفصیلات کے مطابق بارش کا آغاز جدہ کے شمالی علاقے سے ہوا جہاں صبح 8 بجے گہرے بادل چھا گئے ۔ شمالی علاقے میں سے شروع ہونے والی بارش جلد ہی دیگر علاقوں تک پہنچ گئی ۔ موسلا دھار بارش سے بیشتر انڈر پاس بھر گئے تھے ۔ شہری دفاع نے ٹریفک پولیس کے اشتراک سے برساتی پانی سے بھر جانے والے انڈر پاس بند کر دیئے جبکہ بلدیہ اور شہری دفاع کے ہنگامی یونٹس انڈر پاس سے پانی نکالتے رہے ۔ نکاسی آب کےلئے بلدیہ اور شہری دفاع کے خصوصی یونٹ تعینات کئے گئے تھے ۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے ٹریفک خلاف ورزیاں ریکارڈ کرنے والے ساھر سسٹم کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ۔

محکمہ شہری دفاع نے نشیبی علاقوں میں پھنس جانے والوں کی امداد کےلئے خصوصی کشتیاں استعمال کیں جن کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔ شہر کی بیشتر شاہراہوں پر دسیوں گاڑیاں پانی بھر جانے سے بند ہوگئیں ۔ ہوٹل اور مارکیٹوں میں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر رہی۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔