کاروار میں زوردار بارش کے نتیجے میں دو سرکاری عمارتوں اور نو دیگر مکانوں کو نقصان؛ اُترکنڑا میں بارش کا زور ہوا کم

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th June 2018, 6:34 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار 11/جون (ایس او نیوز) ضلع اُترکنڑا کے مختلف تعلقہ جات میں  اتوار کو ہوئی زوردار بارش کے نتیجے میں  کئی علاقوں میں مکانوں  پر درختوں کے گرنے سے نقصانات کی اطلاعات ملی ہیں۔ ضلع بھر میں سب سے زیادہ کاروار میں بارش ریکارڈ کی گئی ہے جہاں 140.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ، جبکہ ہلیال میں سب سے کم 18.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ تین دنوں تک مسلسل بارش کے بعد آج پیر کو بارش کا  زور کم ہوگیا ہے، جس سے عید کی خریداری کرنے والوں اور عید کا کاروبار کرنے والوں کو بھی راحت مل گئی ہے۔

کاروار کے سداشیوگڑھ سے ملی اطلاع کے مطابق اتوار کو  ناخدا محلہ اور بیرے گرام میں مکانوں پر  درختوں کے گرنے سے لاکھوں مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ ضلع بھر میں تین دنوں سے جاری موسلادھار بارش کے نتیجے میں  تالاب، ندیاں، نالے اور کنویں سب بھر گئے ہیں، کاروار کے کچھ علاقوں  میں کنوئوں کا پانی اتنا اوپر آچکا  ہے  کہ ہاتھ سے ہی پانی نکالاجاسکتا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ کاروار میں اتوار کو صبح ہوئی زوردار بارش کو دیکھتے ہوئے محکمہ الیکٹری سٹی نے  احتیاط کے طور پر بجلی بند کردی تھی، جس کی بنا پر الیکٹرک کھمبوں کے گرنے سے   زیادہ نقصان نہیں ہو پایا۔ خبر ہے کہ  کئی علاقوں میں الیکٹرک کھمبوں پر  درختوں کے محکمہ ہیسکام کو کافی نقصان ہوا ہے۔

کاروار ڈپٹی کمشنر دفتر کے عقب میں کمپائونڈ  کی دیوار پر درخت گرنے سے دیوار کو نقصان ہوا، اسی طرح الیکٹرک  لائن پر بھی درخت گرنے سے بجلی سپلائی متاثر ہوئی۔ یہاں نقصان کا تخمینہ قریب 30 ہزار روپیہ لگایا گیا ہے۔ کاروار ایس پی کے مکان کے کمپائونڈ میں واقع ایک مکان پر گھنا درخت گرنے سے مکان منہدم ہوگیا جس سے قریب 50 ہزار روپیوں کا نقصان ہوا ہے۔کاروار کے دیگر کئی علاقوں میں  بھی درختوں کے گرنے سے مکانات کو نقصانات ہوئے ہیں اور محکمہ روینو کے آفسران نقصانات کا تخمینہ لگانے میں جٹے ہوئے ہیں۔

آج پیر کو پورے ضلع میں بارش کا زور کافی کم ہوگیا ہے،جس سے عوام نے تھوڑی بہت راحت کی سانس لی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا آغاز؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

ہوناور قومی شاہراہ پرگزرنےو الی بھاری وزنی لاریوں سے سڑک خستہ؛ میگنیز کی دھول اور ٹکڑوں سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو خطرہ

حکومت عوام کو کئی ساری سہولیات مہیا کرتی رہتی ہے، مگر ان سہولیات سے استفادہ کرنےو الوں سے زیادہ اس کاغلط استعمال کرنے والے ہی زیادہ ہوتے ہیں، اس کی زندہ مثال  فورلین میں منتقل ہونے والی  قومی شاہراہ 66پر گزرنے والی بھاری وزنی لاریاں  ہیں۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔