ساحلی کرناٹکا میں مانسون کی دھماکے دار آمد؛ پورے خطہ میں طوفانی ہوائوں کے ساتھ زور دار بارش؛ کارگیدے میں روڈ بہہ گیا؛ مینگلور میں مندر پر درخت گرنے سے چار زخمی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th June 2018, 2:32 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 9/جون (ایس او نیوز) ساحلی کرناٹکا کے اضلاع  اُترکنڑا،اُڈپی اور دکشن کنڑا میں اس بار  مانسون  کی دھماکے دار آمد ہوئی ہے جس کے ساتھ ہی  تینوں ساحلی اضلاع میں طوفانی ہوائوں کے ساتھ زور دار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ موسلادھار بارش سے لوگوں کو   گھروں سے نکلنے میں دشواری ہورہی ہے تو وہیں دوسری طرف  بارش کی وجہ سے دکانوں میں گاہک بھی نہیں آرہے ہیں، جس سے کاروبار بھی کافی متاثر ہوا ہے۔

بھٹکل میں روڈ بارش کی نذر:   دو دنوں کی مسلسل بارش سے بھٹکل کے کارگیدے مسجد مزمل کے سامنے والی پوری سڑک بارش کی نذر ہوگئی ہے۔ زوردار بارش یہاں کی پوری سڑک کو اپنے ساتھ بہالے گئی ہے، جس کے نتیجے میں  اس سڑک پر عوام کا چلنا پھرنا دوبھر ہوگیا ہے۔  راستہ بے حد خراب ہونے کی وجہ سے مسجد میں نمازیوں کی تعداد پر بھی کافی اثر پڑا ہے، جبکہ روڈ پر سواریوں کا  گذر بند ہوگیاہے۔ عوام نے  مقامی تحصیلدار پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سڑک کی مرمت کرکے سڑک کو استعمال کے قابل بنائیں۔ عوام نے مقامی سماجی اداہ مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ علاقہ کے پنچایت ممبر پر زور ڈالیں کہ وہ  یہاں پر منظور کئے گئے کانکریٹ روڈ  کی فوری تعمیر کو یقینی بنائیں، جس کے  لئے  چھ ماہ قبل ہی  اُس وقت کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے فنڈ ریلیز کئے جانے کا عوامی اجلاس میں اعلان کیا تھا، مگر اتنا عرصہ گذرنے کے بائوجود سڑک کی تعمیر کا کام رُکا ہوا ہے۔

مکان پر درخت گرنے سے گھر کو نقصان:  طوفانی بارش کے نتیجے میں آج سنیچر کوبھٹکل تعلقہ کے مُٹھلی گرام پنچایت حدود کے تلاند میں ایک مکان پر کاجو کا درخت  گرنے سے گھر کی چھت کو نقصان پہنچا ہے۔ نقصان کا تخمینہ قریب بیس ہزار روپیہ لگایا گیا ہے۔ محکمہ روینو کے آفسران نے موقع پر پہنچ کر نقصانات کا جائزہ لیا ہے۔

بھٹکل میں ایک رمضان باکڑہ کی چھت اُڑگئی: یہاں بھٹکل ماری کٹہ میں ایک رمضان باکڑا کی چھت  طوفانی ہوائوں سے اُڑگئی، البتہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔  بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی شام کو جیسے ہی طوفانی ہواوں کےساتھ بارش شروع ہوئی،  ایک باکڑا کی چھت کے لئے استعمال کئے گئے شیٹ اپنی جگہ سے اُکھڑ گئی اور نیچے جاگری، یہ تو اچھا ہوا کہ اُس وقت قریب میں کوئی  گاہک نہیں تھے، ورنہ  شیٹ کا اس طرح گرنا خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔

مینگلور میں  گھنا درخت گرنے سے مندر کو نقصان ، چار زخمی:  مینگلور میں جمعہ کی شام کو ہوئی طوفانی بارش کے نتیجے میں مینگلور کے تاریخی  منگلادیوی مندر پر پیپل کا گھنا درخت گرنے سے نہ صرف مندر کو نقصان پہنچاہے بلکہ اس کی زد میں آکر چار لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں، جن کی شناخت سُریکھا (63)، پروین سورنا (49) ، نوین (45) اور تیجسوینی (20) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ چاروں کو کافی چوٹیں آنے کی وجہ سے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق  مندر کے باہر رکھی ہوئی ایک کار کو بھی درخت گرنے سے نقصان ہوا ہے۔ موسلادھار بارش کو دیکھتے ہوئے آج سنیچر کو مینگلور کے اکثر  اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

کل سے جاری موسلادھار بارش سے آج سنیچر کو مینگلور میں کئی علاقوں میں درخت اُکھڑنےکی واردات پیش آئی ہیں،سورتکل میں ایک قدم مکان پر درخت گرنے سے پورا مکان منہدم ہوگیا ہے، اسی طرح  مینگلور کے بھوانی اسٹریٹ اور نہرو میدان میں بھی درختوں کے گرنے سے نقصانات ہوئے ہیں۔

 

اُڈپی میں بھی موسلادھار بارش:  پڑوسی ضلع اُڈپی میں بھی طوفانی ہوائوں کےساتھ زوردار بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کو دیکھتے ہوئے آج سنیچر کو اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ موسلادھار بارش سے عام زندگی درہم برہم ہوگئی ہے اور لوگ گھروں کے اندر ہی دبک گئے ہیں۔ بارش سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوجانے کی اطلاعات ہیں، البتہ کسی بھی طرح کے نقصانات کی کوئی خبر نہیں ہے۔

انکولہ میں  الیکٹرک وائر گرنے سے تین گائے ہلاک: موسلادھار بارش کے دوران ضلع اُترکنڑا کے انکولہ تعلقہ کے الگیری دیہات میں الیکٹرک وائر ٹوٹ کر گرنے کے نتیجے میں تین گائے ہلاک ہونے کی واردات پیش آئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سنیچر صبح طوفانی ہواوں کے ساتھ بارش جاری تھی کہ اچانک بجلی دوڑنے والی الیکٹرک وائر کھمبے سے الگ ہوکر نیچے گری۔ بتایا گیا ہے کہ اُس وقت کافی جانور چررہے تھے، جس میں سے تین گائیوں پر وائر گرنے سے تینوں گائے موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کافی چہل پہل والے علاقے میں یہ واردات پیش آئی ہے، یہ تو اچھا ہوا کہ یہ وائر کسی راہگیر پر نہیں گری، ورنہ  انسانی جان بھی جاسکتی تھی ۔

کاروار ، کمٹہ، ہوناور  میں بھی بارش:   اُدھر ضلع اُترکنڑا کے کاروار، انکولہ، کمٹہ، ہوناور ، یلاپور، ہلیال اور سرسی میں بھی دو روز سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے،  کئی علاقوں میں بارش سے درختوں کے مکانوں پر گرنے  اور الیکٹرک سروس متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، البتہ دیگر کسی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے بیلنی علاقے میں قربانی روکنے کا مطالبہ ۔پولس کو سونپا گیا میمورنڈم

بیلنی علاقے کے کچھ ہندوؤں نے بھٹکل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ایک میمورنڈم دیتے ہوئے مطالبہ کیاہے ہندوؤں کے مندروں اور مقدس مقامات سے گھرے ہوئے اس علاقے میں جانوروں کی قربانی کرنے پر روک لگائی جائے۔

منگلورو: بھاری برسات کا سلسلہ جاری۔ کئی مقامات پر چٹانیں کھسکنے کے واقعات۔ ڈی سی نے عوام کودی تعلقہ لیول کنٹرول روم سے رابطہ رکھنے کی ہدایت

ساحلی علاقوں میں تیز اورموسلا دھار برسات کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ خاص کر منگلورو اور اڈپی کے بعض علاقوں میں لگاتار بارش برسنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔

بھٹکل   تعلقہ میں مسلسل بارش سے ندی کنارے پر خطرہ :163ملی میٹر بارش

بھٹکل تعلقہ میں پچھلے دو تین دنوں سے مسلسل برستی بارش سے ندی نالے  پوری تاب سے بہنے کے نتیجےمیں عام زندگی مفلوج ہوگئی ہےاور نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے سے عوام پریشانی میں مبتلا ہونےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بھاری بارش کے بعد لنگن مکّی ڈیم سے کیا گیا پانی کا اخراج؛ ہوناور کے شراوتی بیلٹ پرکئی دیہاتوں میں داخل ہوا پانی؛ عوام نہایت چوکس

  گذشتہ تین چار دنوں سے جاری بھاری بارش کے بعدپڑوسی تعلقہ ہوناور کے شراوتی بیلٹ سے بہنے والی شراوتی ندی میں طغیانی آگئی ہے اور ندی خطرے کے نشان سے اوپر  بہہ رہی ہے، ایسے میں اُدھر لنگن مکّی ڈیم سے 21,223کیوسک پانی کو بھی باہر چھوڑا جارہا ہے، اگر بارش پھر اپنی رفتار سے شروع ہوتی ...

منگلورو : مسلسل بارش سے کافی جانی ومالی نقصان : حالات سے نمٹنے ضلع انتظامیہ تیار : ڈپٹی کمشنر سینتھل کی پریس کانفرنس

کیرلا سمیت کرناٹکا کے ساحلی علاقوں  میں طوفانی ہواؤں اور موسلا دھار بارش جاری رہنے سے دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لگاتار بارش برسنے سے منگلورو اور بنگلورو قومی شاہراہ  پر پہاڑ کھسک گیا ہے ، جس کی  وجہ سے سواریوں کی  نقل وحمل روک دئیے جانے کے علاوہ بعض ...

کاروار میں مسلسل بارش کے نتیجےمیں ماہی گیری ٹھپ : ماہی گیر بری طرح متاثر

ہرسال اگست کے مہینےمیں ماہی گیر سمندر میں مچھلی شکار کے لئے نکلتےہیں، لیکن امسال اگست کے دوسرے ہفتےسے جاری طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش  نےجہاں رہائشی علاقوں ، زراعت وغیرہ کو متاثر کیا ہے وہیں ماہی گیر پر بھی اس کے کافی اثرات نظر آرہے ہیں۔ دوتین کی بارش کو دیکھتے ہوئے ...