ارکاوتی ڈی نوٹی فکیشن کیس،کمارسوامی کے خلاف کارروائی سے عدالت کا انکار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th August 2018, 11:11 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو27؍اگست(ایس او  نیوز) وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کو آج اس وقت بہت بڑی راحت ملی جب ارکاوتی لے آؤٹ کی زمین ڈی نوٹی فائی کرانے کے مقدمے سے عدالت نے انہیں بری کردیا۔

2007 میں جب کمار سوامی ریاست کے وزیراعلیٰ تھے، اس وقت روی پرکاش اور رام لنگم نامی افراد نے کمار سوامی پر اراضی ڈی نوٹی فائی کرنے کا الزام لگایاتھا، تاہم وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے اس سلسلے میں اپنا موقف براقرار رکھا اور الزامات کا سامنا کیا۔ اس کیس میں جملہ چار ملزمین تھے، جن میں سے کمار سوامی کے بری ہوجانے کے بعد دیگر ملزمین کے بھی بری ہونے کا امکان روشن ہوگیا ہے۔

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی پر عائد الزامات مسترد کرنے کے لئے دائر عرضی کی سماعت کرتے ہوئے آج ہائی کورٹ نے اس معاملے سے کمار سوامی کو بری قرار دیا۔ اس کیس کے ایک اور ملزم سابق وزیر چنیگپا کو بھی عدالت نے بری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کیس کے جج جسٹس وی وی کمار کی طرف سے یہ فیصلہ صادر کیا گیا ہے۔ کمار سوامی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یہ معاملہ ان کے علم میں لایا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

ویمن انڈیا موؤمنٹ کی جانب سے 23 ستمبر کو بنگلور سے شروع ہورہی ہے خواتین کے تحفظ کو لے کر ملک گیر مہم

ویمن انڈیا موؤمنٹ (Women India Movement) نے 23ستمبر 2018تا 8 مارچ 2019 " خواتین پر تشدد بند کرو " اور "ّ آئیے ہمارے تحفظ کیلئے لڑائی لڑیں " کے نعروں کے تحت  ایک ملک گیر مہم  شروع  کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لئے  ملک کی خواتین سے اپیل کی گئی  ہے کہ وہ اس ملک گیر تحریک میں شامل ہوکر اپنے حالات ...

جنوبی ہند کے مشہور ومعروف عالم دین حضرت مولانا زکریا والا جاہی کا انتقال

نوبی ہند کے مشہور ومعروف،ممتاز جیدعالم دین زکریا صاحب والا جاہی طویل علالت کے بعد آج صبح 10؍بجے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ مولانا کو شیواجی نگرکے براڈوے کی ان کی رہائش پر آخری دیدار کے لئے رکھا گیا تھا۔

یڈیورپا میرے صبر کا امتحان نہ لیں؛ حکومت کو گرانے کی بارہا کوشش بی جے پی کو زیب نہیں دیتی: کمار سوامی کا بیان

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کو متنبہ کیا ہے کہ بارہا ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرکے وہ ان کے صبر کا امتحان نہ لیں۔اگر یہ کوشش جاری رہی تو یڈیورپا کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔