حضرت علی بن ابی طالب کرّم اللہ وجہہ : ایک سنی نقطۂ نظر ..... تحریر: ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 21st June 2017, 5:54 PM | اسلام | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الشریف جامع کمالات تھے۔وہ نوجوانوں اور مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے ۔ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے مطابق حضور پاکؐ کی بعثت پیر کے روز ہوئی اور حضرت علی صرف ایک دن بعد یعنی منگل کو ایمان لائے ۔اس وقت آپ کی عمر مشکل سے آٹھ یا دس سال تھی۔

حضرت علی کو دنیا میں فرد واحد ہونے کا شرف حاصل ہے جن کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔اسی وجہ سے ان کو ’’مولود کعبہ‘‘ بھی کہاجاتا ہے ۔اسی طرح حضرت علی حضور پاک اور سیدہ خدیجہؓ کے ساتھ نماز پڑھنے والے اول شخص تھے۔

چونکہ حضور پاک کے چچا حضرت ابوطالب کثیر العیال تھے، اس لئے حضور پاک ﷺ نے حضرت علی کو گود لے لیا تھا اور آپؐ ہی کے سایۂ عاطفت میں حضرت علی کی پرورش ہوئی۔جب حضور پاک ؐ مدینہ جانے پر مجبور ہوئے تو ان کی چارپائی پر حضرت علی ہی سوئے۔ روایا ت میں آتا ہے کہ حضور پاک نے ہجرت کے قبل اسوقت مکہ میں موجود صحابہ کرام سے پوچھا کہ میرے بستر پر کون سوئے گا تو کسی نے جواب نہیں دیا ما سوا حضرت علی کے جنہوں نے تین بار کہا کہ میں ’’سوؤں گا‘‘۔ قریش حضور پاک کو قتل کرنے کاقطعی منصوبہ بناچکے تھے۔ایسے حالات میں حضرت علی کا یہ فیصلہ ان کی حضور پاک ؐ سے انتہائی محبت اور ان کے لئے جان دینے کے لئے تیار رہنے کی دلیل تھا۔

حضرت علی نے حضور پاک کی ہجرت کے صرف تین دن بعدمدینہ ہجرت کی۔ آپ کے ساتھ ہجرت میں خاندان قریش کی تین ’’فاطمائیں ‘‘ بھی شریک تھیں: فاطمہ بنت اسد، فاطمہ بنت محمدؐ اور فاطمہ بنت الزبیر۔ اسی لئے اسے ’’فاطماؤں کا قافلہ) ‘‘رکب الفواطم) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ رات کو چلتے اور دن میں کہیں چھپ جاتے۔ یوں حضرت علی مدینہ کے پاس کی بستی قباء پہنچے جہاں حضور پاک ﷺ ان کا انتظار کررہے تھے۔ اس سفر میں حضرت علی، جن کی عمر اس وقت ۲۲ سال تھی، کے پیر سوج گئے تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔حضور پاک ﷺ ان کو اپنے گھر لے گئے ۔ انصارومہاجرین کی مواخات کے بر عکس حضور پاک نے حضرت علی کواپنا بھائی بنایا، یعنی دونوں بھائی مہاجر تھے۔ حضور پاک نے اس موقعے پر حضرت علی سے کہا: ’’انت اخی فی الدنیا والآخرۃ‘‘(تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو)۔

اگلے سال حضور پاکؐ نے حضرت علی کو اپنا داماد بھی بنا لیا ۔ یوں وہ سیدۃ نساء الجنۃ) جنت کی خواتین کی سردار)کے شوہر بھی ہوئے اور سیدا  شباب اہل الجنۃ  (جنت کے نوجوانوں کے سردار) حضرت حسن وحسین کے والد ماجد بھی ہوئے۔ خیبر جب فتح نہیں ہوپارہا تھا تو حضرت علی نے ہی اسے فتح کیا اور ’’اسداللہ ‘‘(شیر خدا) کے لقب سے موسوم ہوئے ۔ وہ تمام غزوات میں شریک رہے ما سوائے غزوۂ تبوک کے جس کے دوران آپ کو مدینہ میں حضور پاک ﷺ نے نائب کی حیثیت سے متعین کیا۔

غزوۂ بدر میں پہلے نکلنے والے تین کافر سورماؤں میں سے ایک کو آپ نے واصل جہنم کیا۔ غزوۂ خندق میں عرب کے مشہور پہلوان عمرو بن عبدوُدّ نے جب خندق پار کرکے مسلمانوں کو للکارا: ’’ہل من مبارز؟‘‘ (ہے کوئی مجھ سے لڑنے والا؟) تو حضرت علی نے ہی اس کا چیلنج قبول کیا اور اس کی گردن اڑائی۔ غزوۂ خیبر میں یہودی پہلوان مرحّب کا سر بھی آپ نے ہی قلم کیا۔فتح مکہ کے بعد حضور پاک نے خانۂ کعبہ کے اندر اور باہر بتوں کے بڑے بڑے اڈوں کو توڑنے کا کام بھی حضرت علی کو دیا۔

حدیث مبا ہلہ اور حدیث کساء میں آیا ہے کہ حضور پاکؐ نے فرمایا کہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین ان کے اہل بیت یعنی خاندان والے ہیں۔ ۱۸؍ذی الحجہ سنہ ۱۰ ھ کو حجۃ الوداع کے بعد مدینہ واپس آتے ہوئے حضور پاک ؐ غدیر خم (خم کا کنواں ) کے پاس رکے اور وہاں فرمایا: ’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘ (میں جس کا دوست ہوں ، علی بھی اس کے دوست ہیں)۔اس حدیث پاک سے کسی کو انکار نہیں۔ہمارے شیعہ بھائی اس حدیث کو حضرت علی کے امام وخلیفہ ہونے کا اعلان سمجھتے ہیں جبکہ اہل سنت اس کو حضرت علی کی عظمت اور حضور پاک ﷺ سے انتہائی قربت کا اعلان سمجھتے ہیں۔

حضور پاک ؐ نے فرمایا:’’ انا مدینۃ الحکمۃ وعلیّ بابہا ‘‘(میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کے دروازے ہیں)۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حضور پاکﷺ نے ’’افقہ الناس ‘‘اور ’’اقضی الناس‘‘ کہا تھا یعنی دین کو سب سے زیادہ سمجھنے والا اور سب سے زیادہ عدل وانصاف کرنے والا۔ حضور پاک نے یہ بھی فرمایا کہ ’’علی سے کوئی منافق محبت نہیں کرسکتا اور ان سے کوئی مؤمن بغض نہیں کرسکتا‘‘ ۔ حضرت سعید الخدریؓ کا کہنا ہے کہ ’’ہم انصار لوگ منافقین کوحضرت علی سے ان کی نفرت کی وجہ سے پہچان لیا کرتے تھے‘‘۔آپ کرم اللہ وجہہ کے بارے میں حضور پاکﷺ نے فرمایا : ’’اے علی ! تیری وجہ سے دو گروہ جہنم میں جائیں گے۔ایک تیرے ساتھ محبت میں غلو کرنے والا اور دوسرا تیرے ساتھ دشمنی میں غلو کرنے والا‘‘۔

جب خارجیوں نے آپ کا نام بگاڑنا چاہا تو مسلمانوں نے حضرت علی کو ’’کرّم اللہ وجہہ‘‘ (اللہ آپ کے چہرے کو باعزت کریں) کے لقب سے پکارنا شروع کر دیا جو کہ صحابہ کرام میں سے صرف حضرت علی کے لئے مخصوص ہے۔’’کرم اللہ وجہہ ‘‘کے لقب کی ایک توجیہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ حضرت علی نے کبھی کسی بت کی پوجا نہیں کی۔ انہیں خارجیوں میں سے ایک شخص عبدالرحمٰن بن ملجم نے حضرت علی کو ۱۷ رمضان المبارک سنہ ۴۰ ھ میں زہریلی تلوار سے حملہ کرکے شہید کردیا۔ آپ اس زخم سے جانبر نہ ہو سکے اور چوتھے روز ۲۱ رمضان المبارک کو وفات پائی۔

آپ کرّم اللہ وجہہ صحابہ کرام میں سب سے بڑے عالم، سب سے بڑے فقیہ اور سب سے فصیح شخص تھے ۔اس بات کی گواہی نہج البلاغۃ کا ایک ایک جملہ دیتا ہے۔ سوائے  سلسلہ نقشبندیہ کے ، باقی تمام صوفی مذاہب حضرت علی پر جاکر ختم ہوتے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں تقریبا تمام صوفی طریقے آپ سے ہی شروع ہوتے ہیں۔

حضرت علی نے ساری زندگی عیش وعشرت پر فقروفاقہ کو ترجیح دی حالانکہ اسلام میں داخل ہونے والوں میں سابقین واولین کی حیثیت رکھنے کی وجہ سے آپ کو بیت المال سے حضور پاک کے چچا حضرت عباس کے بعد سب سے زیادہ وظیفے کی رقم ملتی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض سالوں میں آپ نے صرف زکوٰۃمیں ۴۰ ہزار دینا رخرچ کئے اور اللہ پاک کے حکم کہ ’’قل العفو‘‘، یعنی جو تمہاری ضرورت سے بچ جائے اسے خرچ کرو ،کی تعمیل میں آپ جلد از جلد اپنی دولت خیرات وصدقات میں خرچ کردیتے۔

حضور پاک کے انتقال کے بعد خلافت کے لئے سب سے مناسب اور سب سے زیادہ حقدار حضرت علی ہی تھے ۔اگر وہ اس وقت خلیفہ بن گئے ہوتے تو امت کو حضور پاک کے بعد۳۰ سال متواتر ایک بہترین حاکم نصیب ہوا ہوتا جس کی وجہ سے وہ بہت سا خلفشارپیدا نہ ہوتا جس کی ابتدا حضرت عثمان کے زمانے سے شروع ہوئی اور جس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر حضرت علی خلیفۂ اول ہوگئے ہوتے تو شیعہ سنی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے عالم اسلام میں صدیوں خلفشار رہا ہے اور آج بھی ہے۔

بہر حال تاریخ کے واقعات بہت سے عوامل کی وجہ وقوع پذیرہوتے ہیں جن کے بارے آج ہم تبصرہ ہی کرسکتے ہیں، بدل نہیں سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ حضرت علی کے حق خلافت کونظر انداز کیا گیالیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے سے پہلے تینوں خلفاء کے ساتھ عمدہ سلوک روا رکھا اور سب کے معین ومشیر رہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں آپ اموال خمس کی تقسیم کے متولی تھے اور مرتدین کی سرکوبی کے لئے بھیجی جانے والی فوج کے قائد بھی۔ اسی طرح حضر ت علی نے حضرت عمر الفاروقؓ کے عہد خلافت میں حکومت وقت کے ساتھ پورا تعاون کیا بلکہ قاضئ مدینہ کا عہدہ بھی سنبھالا اور جو آج چیف جسٹس کے برابر ہے۔ حضرت عثمان ذی النورینؓ کے زمانے میں بھی آپ کا تعاون برقرا رہا یہاں تک کہ سنہ ۳۵ھ میں آپ چوتھے خلیفہ بنے اور اگلے پانچ سال تین ماہ تک خلیفہ رہے۔

خلافت قبول کرنے کے تیسرے ہی روز حضرت علی نے سبائی سازشی ٹولہ کو مدینہ سے نکلنے کا حکم دیا، جس کی وجہ سے وہ حضرت علی کی جان کے دشمن ہوگئے۔یہ وہی لوگ ہیں جن کے خلاف حضرت علی کو لڑائیاں لڑنی پڑیں حالانکہ اگر انھیں امن وسکون میسر ہوا ہوتا تو عالم اسلام کا رقبہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوجاتا۔ یہی سبائی ٹولہ بعد میں نواصب یا خوارج کے نام سے معروف ہوا اور آج کے القاعدۃ اور الدولۃ الاسلامیہ (ISISیاداعش) کے دہشت گرد انہیں کی ناجائز اولاد ہیں جنہوں نے اسلام ، مسلمانوں اور عالم اسلام کو بدنام اور تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

حضور پاکؐ کے انتقال کے بعد پہلے سعد بن عبادۃ انصاری نے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا لیکن پھر حضرت ابوبکرؓ پر اکثر صحابہ کا اتفاق رائے ہوا۔ حضرت علی اور ان کے کچھ مؤید صحابہ کا خیال تھا کہ حضرت علی خلافت کے لئے موزوں ترین شخص ہیں لیکن افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ اگر ایسا ہوگیا ہوتا تو اسلام کی تاریخ بہت مختلف ہوتی کیونکہ حضرت علی کو مسلسل تیس سال حکومت کرنے کا موقعہ ملتا اور شیعہ سنی کا مسئلہ بھی نہیں پیدا ہوتا حالانکہ شیعہ اور سنی دونوں حضرت علی کومانتے ہیں اور ان کی عظمت واولیت واسبقیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

بہرحال اہل سنت کی روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت علی نے اس صور ت حال کوقبول کیا ۔ ممتاز شیعہ عالم محمد حسین کاشف الغطاء نے اپنی کتاب ’’اصل الشیعۃ واصولہا‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت علی نے اپنے سے پہلے تینوں خلفاء سے بیعت کی، ان کے ساتھ ہاتھ بٹایا اور ان کے مشیر کے طور سے کام کرتے رہے۔ابن الاثیر کی کتاب الکامل فی التاریخ میں ذکر ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں حضرت علی مدینہ منورہ کے قاضی یعنی آج کے لحاظ سے چیف جسٹس تھے۔یہ سلسلہ حضرت عمر کی خلافت کے دوران بھی جاری رہا۔حضرت علی نے حضرت ابوبکر کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ حضرت اسماء بنت عمیس سے شادی کی اور حضرت ابوبکر کے بیٹے محمد بن ابی بکر کی کفالت بھی کی جو حضرت علی کے بہت بڑے مؤیدومددگار بنے اور حضرت علی نے ان کو مصر کا گورنر بنایا۔

جب حضرت عمر بیت المقدس کو فتح کرنے کے لئے گئے تو حضرت علی کو مدینہ کا گورنر بنا کرگئے۔حضرت عمرؓ امور سلطنت کے معاملات میں حضرت علیؓ سے مشورے کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں حضرت عمرؓ کا ایک قول مروی ہے:’’ لولا علی لھلک عمر‘‘ (اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا)۔حضرت عمرؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں حضرت علی سے کہا: ’’اعوذ باللہ ان اعیش فی قوم لست فیہم یا ابا الحسن‘‘ (اے حسن کے والد! میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں زندگی گزاروں جن میں آپ نہ ہوں)۔

ابن الاثیر کی تاریخ الکامل اور انھیں کی دوسری معروف کتاب اُسدُ الغابۃ میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت علی کی بیٹی ام کلثوم سے شادی کی۔ حضرت عمر نے فدک اور خیبر کے باغات بھی حضرت علی، حضرت عباس اور بنی ہاشم کو واپس کردئے۔اپنے انتقال کے وقت حضرت عمر نے اپنے بعد جن چھ لوگوں کا نام لیا کہ ان میں سے ایک کو اگلا خلیفہ بنایا جائے، ان میں حضرت علی کا نام شامل تھا۔ لیکن حضرت علی نے حکم (ثالث ) عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی یہ شرط ماننے سے انکار کردیا کہ وہ یہ عہد کریں کہ ’’اللہ ، اس کے رسول اور ابوبکر وعمر کی اتباع کریں گے‘‘، جبکہ حضرت عثمان نے یہ بات مان لی اور ان کو خلیفہ بنا دیا گیا۔بعد میں کچھ تردد کے بعد حضرت علی نے حضرت عثمان سے بیعت کرلی لیکن جلد ہی ان کے خدشات صحیح ثابت ہوئے اور حضرت عثمان کے زمانے میں بنو امیہ کا حکومت کے معاملات میں عمل دخل بہت بڑھ گیا جس کی وجہ سے پہلی دفعہ اسلامی سلطنت میں خلفشار پیدا ہوا اور باغی کوفہ، بصرہ اور مصر سے حضرت عثمان کو معزول کرنے کے لئے مدینہ پہنچ گئے۔اس درمیان حضرت علی نے حکم یعنی ثالث کا رول ادا کیا ۔لیکن حالات بگڑتے چلے گئے، جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے، اور بالآخرباغیوں نے چالیس دن کے محاصرے کے بعدحضرت عثمان کو قتل کردیا۔روایتوں کے مطابق حضرت علی کو حضرت عثمان کی شہادت سے بہت دکھ ہوا اور انہوں نے اپنے بیٹوں اور دوسرے ہمنوا صحابہ سے بازپرس کی کہ وہ حضرت عثمان کو کیوں نہیں بچاسکے۔

حضرت عثمان کی شہادت کے اگلے دن مدینہ میں حضرت علی کا انتخاب بطور چوتھے خلیفہ کے ہوا۔ لیکن یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب سلطنت کے بعض حصے (مثلا مصر جس کے گورنر عمروبن العاصؓ اور شام جس کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان تھے) مدینہ کی اطاعت سے نکل چکے تھے اور عملا باغی اور خود مختارہوچکے تھے۔ حضرت علی نے مختلف علاقوں کے گورنر بدلنے شروع کئے لیکن مصر اور شام میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ اور جلد ہی چند ماہ میں جنگ جمل سنہ ۳۶ ھجری میں ہوئی جس میں حضرت علی کے مخالفین حضرت عثمان کے قاتلوں کے قصاص کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب حضرت علی شام کے خلاف جنگ کی تیار کررہے تھے۔ جنگ جمل میں مخالفین کی شکست فاش ہوئی ،اس کے قائدین طلحہ اور الزبیرقتل ہوئے اور حضرت عائشہ کو مدینہ واپس جانا پڑا۔ اس غلطی پر حضرت عائشہ کو اتنی ندامت ہوئی کہ انھوں نے وصیت کی کہ مرنے بعد ان کو حضور پاک کی قبر مبارک کے پاس دفن نہ کیا جائے۔

حضرت علی حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے لیکن اندرونی حالات اتنے خراب تھے کہ فوری طور سے کارروائی کرنے کا مطلب خانہ جنگی تھا۔ جنگ جمل کے بعد حضرت علی نے دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کردیا کیونکہ وہاں ان کے بہت سے مؤیدین تھے اور وہ جگہ اس وقت کی سلطنت اسلامیہ کے وسط میں واقع تھی۔

شا م میں حضرت عثمانؓ کے بنائے ہوئے گورنر معاویہ بن ابی سفیان نے حضرت علی سے بیعت کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ شام کے لئے حضرت علی کے تعیین کردہ گورنر (سہل بن حنیف ) کو نہ صرف ماننے سے انکار کردیا بلکہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینے کے نام پرانھوں نے اپنے مؤیدین کو بھی جمع کرلیا۔ حضرت علی نے مصالحت کی کوششوں کے نا کام ہونے کے بعد اپنی فوج کے ساتھ شام کی طرف کوچ کیا اور صفین کے مقام پر تقریبا سودن مصالحت کی کوشش کی جس کے بعد مجبورا جنگ ہوئی جس میں حضرت علی کی فوج جیتنے لگی ۔ایسے موقعے پر معاویہ کی فوج نے نیزوں پر قرآن اٹھاکر تحکیم کا مطالبہ کیا۔ حضرت علی اس دھوکے کے خلاف تھے لیکن اپنے کچھ ساتھیوں کے اصرار پر انہوں نے اس کو قبول کرلیا۔ تحکیم میں دھوکے سے ایک غلط فیصلہ ہوگیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاویہ تو شام کے گورنر بنے رہے جبکہ حضرت علی کی فوج میں خلفشار پیدا ہوگیا اور تحکیم کے مسئلے کو لے کرتحکیم کے مؤیدین کی تکفیر شروع ہوگئی۔نتیجۃً کافی لوگ حضرت علی کی فوج کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ لوگ ’’خوارج ‘‘یعنی باغی کہلائے جنہوں نے بعد میں سلطنت اسلامیہ کی بنیادیں کمزور کرنے میں بڑا رول ادا کیا۔ باطل کایہ سب کام’’ اسلام‘‘ کے نام پر ہورہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے آج کے خوارج (القاعدۃ اور داعش وغیرہ) اسلام کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کھود رہے ہیں۔

مسلمانوں اور خوارج کے درمیان متعدد جنگیں ہوئیں مثلا معرکۂ نہروان (سنہ ۳۹ھ؍659ء)۔ اس خانہ جنگی کے باوجود حضرت علی کے زمانے میں بہت سے اہم کام ہوئے مثلا پولیس کا محکمہ قائم ہوا، جیلوں کا قیام عمل میں آیا اورکوفہ میں فقہ ونحو کے مدرسے قائم ہوئے۔ حضرت علی کے حکم سے ابوالاسود الدؤلی نے پہلی بار قرآن پاک کے حروف کی تشکیل کی یعنی زیر وزبر وغیرہ لگایا تاکہ قرآن پاک پڑھنے میں آسانی ہو۔ حضرت علی نے پہلا اسلامی درہم بھی جاری کیا۔
 
اسی خانہ جنگی کی حالت میں عبدالرحمٰن بن ملجم نامی ایک خارجی نے حضرت علی پر نماز پڑھتے ہوئے مسموم تلوار سے حملہ کردیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ایسی حالت میں بھی حضرت علی نے عدل وانصاف کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا بلکہ حکم دیا: ’’ابصرو ا ضاربی! اطعموہ من طعامی ۔و اسقوہ من  شرابی۔النفس بالنفس۔ان ہلکت فاقتلوہ کما قتلنی واِن بقیت رایت فیہ رأیی‘‘( دیکھو میرے اوپر حملہ کرنے والا کون ہے ۔ اس کو میرا کھانا کھلاؤ اور میرا پانی پلاؤ۔ نفس کا بدلہ نفس ہوتا ہے ۔اگر میں مر جاؤں تو اسے قتل کردو جیسے اس نے مجھے قتل کیا اور اگر میں بچ گیا تو میں اس کے بارے میں غور کروں گا)۔

حضرت حسن مجتبیٰؓ نے حضرت امیر المؤمنین کی تدفین کے موقع پر جو خطبہ دیا وہ آپ کی شخصیت کا ایک مکمل خلاصہ ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’اے لوگو! تم سے ایک ایسا شخص رخصت ہوگیا جس سے نہ اگلے علم میں پیش قدمی کرسکیں گے اور نہ پچھلے اس کی برابری کرسکے۔رسول اللہ ﷺ اس کے ہاتھ میں جھنڈا دیا کرتے اور اس کے ہاتھ پر فتح نصیب ہوجاتی تھی ۔ اس نے چاندی سونا کچھ نہیں چھوڑا۔اس نے اپنے وظیفے میں سے صرف ۷۰۰ درہم ہم ورثاء کے لئے چھوڑے ہیں)‘‘۷۰۰  درہم کے معنی ہیں آج کے ۸۰۱۳۴ روپئے)۔ درہم چاندی کا سکہ ہوتا تھا جس کا وزن 2.97 گرام تھا جبکہ سابقین اولین میں ہونے کی وجہ سے حضرت علی کو بیت المال سے ہر سال لاکھوں دینار ملتے تھے جو کہ سونے کا سکہ تھا اور ایک دینار کا وزن 4.25 گرام تھا یعنی آج (۱۸ جون ۲۰۱۷ء )کے لحاظ سے ایک دینار کی قیمت  ۱۲۰۱۴  روپئے تھی۔

معروف شیعہ عالم شیخ مفید کے مطابق حضرت علی نے اپنے بڑے بیٹے حضرت حسن کو وصیت کی کہ ان کو ایک خفیہ جگہ پر دفن کریں تاکہ دشمن ان کی قبر کی بے حرمتی نہ کرسکیں۔ یوں آپ کی قبر شریف عرصے تک مجہول رہی یہاں تک کہ عباسی خلافت کے دوران حضرت امام جعفر الصادق نے قبر کی جگہ بتادی جس کے بعد نجف اشرف میں قبر شریف پر بڑا مشہد بنایا گیا اور امام علی کی مسجد بنائی گئی۔

اہل سنت اور اہل تشیع دونوں امام علی کے اعلیٰ ترین مرتبے کے قائل ہیں۔ احادیث شریفہ کے مطابق حضرت علی عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں یعنی ان دس خوش نصیب لوگوں میں سے ایک ہیں جن کو ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت حضور پاک نے دے دی تھی۔ اہل تشیع امام علی کی معصومیت کے قائل ہیں اور ان کو پہلا امام سمجھتے ہیں جبکہ اہل سنت کا یہ موقف نہیں ہے۔ اہل سنت امام علی کو اہل بیت کا حصہ مانتے ہیں اور ان کو خلیفہ رابع سمجھتے ہیں ۔حضرت علی کے خلاف لغوباتیں جو بعض کتب میں ہیں ،یا جن کو ان کے مخالفین دہراتے ہیں ،وہ سب بنی امیہ کے دور کی ایجاد ہیں جنھیں ان کے تنخواہ دار مورخین اور قصہ گو لوگوں نے گھڑا اور پھیلایا۔

’’نہج البلاغۃ ‘‘حضرت علی کے اقوال پر مشتمل غیر معمولی حکمت و بلاغت کی کتاب ہے جسے الشریف الرضی نے ترتیب دیا۔ یہ کتاب نہ صرف تشیع اور اسلام کی اہم ترین کتب میں سے ہے بلکہ وہ انسانی علمی اور فکری ذخیرے کا بھی بہت اہم حصہ ہے۔ حضرت علی کے اشعار کا دیوان بھی ’’انوارالعقول من اشعار وصی الرسول ‘‘کے نام سے موجود ہے۔ ان کے اقوال حکیمانہ کو عبدالواحد الآمدی نے ’’غرر الحکم ودررالکلم‘‘ میں جمع کیا ہے۔ حضرت علی سے مختلف دعائیں بھی منقول ہیں جیسے دعاء کمیل ، دعاء الصباح اور دعاء یستشیر۔امام علی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن پاک کے تین نسخے آج بھی موجود ہیں جن میں سے ایک صنعاء (یمن )کے میوزیم میں ہے، دوسرا رام پور کی رضا لائبریری میں اور تیسرے نسخے کے اولین بارہ صفحات عراق کے المرکز الوطنی للمخطوطات میں اور باقی نجف اشرف میں واقع مکتبہ امیر المؤمنین میں محفوظ ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے حضرت علی کے قول ’’یا مالک !اِن الناس اِما اَخ لک فی الدین او نظیر لک فی الخلق‘‘ (اے مالک! لوگ یا توتمہارے دینی بھائی ہیں یا تمہاری ہی طرح پیدا کئے گئے انسان ہیں) کے بارے میں کہا کہ اس عبارت کو تمام تنظیموں کے صدر دفاتر میں لکھ کر ٹانگ دینا چاہئے کیونکہ آج انسانیت کومساوات کے اس پیغام کی شدید ضرورت ہے۔ کوفی عنان نے اقوام متحدہ کی قانونی کمیٹی سے بھی یہ بھی درخواست کی کہ وہ حضرت علی کے خط بنام مالک اشتر کے بارے میں غور کرے۔ چنانچہ مذکورہ کمیٹی نے کئی ماہ غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ خط بین الاقوامی قانون کا ایک منبع یعنی  Sourceہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم سنی ہوں یا شیعہ، ہم سب کے نزدیک امام علی ایک عظیم ترین اخلاقی، علمی، سیاسی اور قانونی نمونہ ہیں۔ ہمارے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم سال میں ان کو ایک بار یاد کرلیا کریں بلکہ ان کی عظمت کا حق اسی وقت ادا ہوگا جب ہم ان کے پیغام اوران کے اسوہ کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا بھی حصہ بنالیں۔ اسی کے ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ماضی کی تلخیوں کو بھول کر ہمیں آج کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہئے۔ موجودہ دور میں اسلام کو جس چیلنج کا سامنا ہے ،بلکہ اسے مٹانے کی جو سازشیں مغرب ومشرق میں رچی جارہی ہیں، ان کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی ہے۔ ہم کتنے بد نصیب ہونگے اگر ایسے وقت میں بھی آپس میں لڑتے رہیں جب مغرب اورمشرق میں اس کے ہمنوا شیعہ اور سنی دونوں اسلام کوختم کرنے کے درپے ہیں۔
 

(مضمون نگار ڈاکٹر ظفر الاسلام خان معروف انگریزی اخبار ملی گزٹ کے ایڈیٹر ہیں)

ایک نظر اس پر بھی

سدنہ بیت اللہ اور کلید کعبہ کا قصہ!

سدنہ بیت اللہ وہ قدیم پیشہ اور مقدس فریضہ ہے جس میں خانہ کعبہ کی دیکھ بحال، اسے کھولنے اور بند کرنے، اللہ کے گھر کو غسل دینے، اس کا غلاف تیار کرنے اور حسب ضرورت غلاف کعبہ کی مرمت کرنے جیسے امور انجام دیے جاتے ہیں۔سدانہ کعبہ کا شرف صدیوں سے الشیبی خاندان کے پاس چلا آرہا ہے۔

*ماہ صیام صبر و مواسات کا مہینہ* ازقلم! *ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﻋﯿﻨﯽ قاسمی*

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻋﻄﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ،  ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ...

امیر شریعت سادسؒ ، نقوش و تاثرات :عروس جمیل در لباس حریر ۔۔۔۔۔ آز: فضیل احمد ناصری القاسمی

امارت شرعیہ(بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ)ہندوستان کے ان سرکردہ اداروں میں سے ہے،جن پر اہل اسلام کو ہمیشہ فخر رہا۔یہ روز اول سے ہی ملت اسلامیہ ہندیہ کی قیادت بہتر انداز میں کرتی رہی ہے، یہ ادارہ’’ مفکر اسلام‘‘ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کے خوابوں کی تعبیر ہے، ...

خواتین نسلوں کی معمار ہوتی ہیں۔سید امین القادری گلبرگہ میں ختم بخاری شریف، ۷،عالمات کی ردا ء پوشی،علماء کرام کے پر مغز بیانات

شہر گلبرگہ میں عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی شاخ گلبرگہ کا سالانہ سنی اجتماع کا کل پہلادن تھا جو خواتین کے لئے مخصوص تھا۔پروگرام کاآغازدوپہر ۲، بجے رئیس القراء قاری ریاض احمد کے تلاوت کلا م پاک سے ہوا پھر انہوں نے بارگاہ رسالت مأب صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیہ نعت پاک پیش کی۔

نئی نسل کے لیے ایک بہترین دینی تحفہ مولانا الیاس ندوی کی مجالس نبوی ﷺ

حضورﷺ کی سیرتِ مقدسہ ایک بے مثال،ابدی عملی نمونہ ہے ، جو زندگی کےاعلیٰ وارفع مقصد کے حصول میں بہتر سے بہتررہنمائی کرتاہے تو  چھوٹے  چھوٹے ، معمولی مسائل کو بھی اپنے اندر سمیٹا ہواہے اور اس کی اہم اور خاص خصوصیت یہ ہےکہ یہ عملی نمونہ دنیا کے ساتھ اخروی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ...

مشرقی آسٹریلیا میں نیو کیلیڈونیا کے قریب 7.3 شدت کا زلزلہ

مشرقی آسٹریلیا میں جنوبی پیسیفک کے نیوکیلنڈونیا جزائر کے قریب زلزلہ آیا ہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق مشرقی آسٹریلیا کے جزائر نیو کیلنڈونیا میں 82 کلو میٹر کے رقبے پر آنے والے زلزلے کی شدت 7.3ریکارڈ کی گئی ہے۔

یلاپور میں پرائیویٹ بس اور لاری کے درمیان خطرناک ٹکر؛ 31 مسافر زخمی

لکثری بس اور لاری کے درمیان ضلع  اُترکنڑا کے یلاپور میں پیش آئے ایک سڑک حادثہ  میں بس ڈرائیور اور لاری ڈرائیور سمیت 31 مسافر  شدید زخمی ہوگئے۔ حادثہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب بسگوڈا کراس نیشنل ہائی وے 66 پر پیش آیا۔

گجرات: کار۔بس تصادم میں 7 نوجوان موقع پر ہلاک

اوجھا مہسانا ہائی وے پر آج یہاں ایک گاڑی ایک ڈیوائڈر سے ٹکراکر سڑک کے دوسری طرف جا گری جہاں مخالف سمت سے آنے والے بس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں سات کار سوار افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔