اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 29th August 2018, 1:49 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 29؍اگست (ایس او نیوز)اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے 9 مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل نہیں سکا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ خود سی بی آئی اپنی تحقیقات کو بہت سست رفتاری سے آگے بڑھا رہی ہے۔

ایک طرف ریاست ہی نہیں  بلکہ پورے ملک کو ہلادینے والا گوری لنکیش قتل کیس ہے جسے ریاستی کانگریسی حکومت نے ’نظریات کا قتل‘ قرار دیا تھا تو دوسری طرف پریش میستا کے قتل کو بی جے پی اور سنگھ پریوار نے ’ہندو کا قتل‘ قرار دیتے ہوئے پرزور اور پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا راستہ اپنایا تھا۔اور بی جے پی کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے کانگریس حکومت نے پریش میستا کی مشکوک موت کا معاملہ سی بی آئی کے حوالے کیا تھا۔پریش میستا کی موت پر چلائی گئی احتجاجی مہم کی بنیاد پر ہی اسمبلی الیکشن میں بی جے پی ساحلی علاقے اور ملیناڈو میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی اب پریش میستا کی موت کے تعلق سے کوئی بات نہیں کررہی ہے۔کوئی آواز نہیں اٹھا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کہ وہ پریش میستا کو بھول چکی ہے۔

جہاں  تک سی بی آئی کی تحقیقات کا معاملہ ہے، اس بارے میں پتہ چلا ہے کہ اس نے اب تک صرف 3مرتبہ پریش میستا کے خاندان سے رابطہ قائم کرکے معلومات حاصل کی ہیں۔ دو مرتبہ پریش میستا کے والد اور اس کے بھائی کو کمٹہ پولیس اسٹیشن میں بلاکر ان کا بیان درج کروایا گیاتھا۔ اورپوسٹ مارٹم کا ویڈیو اور دیگر دستاویزات کو اپنے قبضے میں لیا تھا۔اس کے علاوہ فروری کے مہینے میں پانچ افراد کو اپنی تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا تھا۔اس کے آگے تحقیقات کے نام پر ابھی تک کسی بھی قسم کی پیش رفت ہونے کی خبر نہیں ہے۔اس لئے عوام سوچ رہے ہیں کہ شائد یہ معاملہ بھی ڈاکٹر چترنجن قتل معاملے کی طرح وقت کے ساتھ ساتھ یونہی دب کر رہ جائے گا۔

پریش کی موت کا پس منظر: خیال رہے کہ5دسمبر 2017کو ہوناور اور اس کے اطراف میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ6دسمبر کو پریش میستا لاپتہ ہوگیا۔ پھر 8دسمبر کو اس کی لاش قریب کے ایک تالاب میں تیرتی ہوئی دستیاب ہوئی۔پریش کے والد کملاکر میستا نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو ایذادے کر ہلاک کیا گیا ہے۔ بی جے پی نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر اس قتل کے لئے مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہرایا اور اس کے تار دہشت گردی سے جوڑ دئے۔ بی جے پی نے کانگریسی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملزموں کی حمایت کررہی ہے۔بی جے پی کے ریاستی لیڈروں کے علاوہ انتخابی تشہیری مہم کے لئے پہنچنے والے بی جے پی صدر امیت شاہ نے بھی پریش میستا کے گھر جاکر اس کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا تھا اور ملزمین کوسخت سزادلوانے کا وعدہ کیا تھا۔

رام لنگا ریڈی کا طنز: سابق ریاستی وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ ہمیشہ ’لاش پر سیاست‘ کرنے کے عادی ہیں۔ پریش میستا کا معاملہ بھی اسی طرز عمل کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ:’’ اس معاملے کو بی جے پی نے اپنی انتخابی تشہیر کے لئے ایک وسیلہ بناکر استعمال کیا۔ گوری لنکیش قتل کا معاملہ حل کرنے میں ہم نے پوری دلچسپی دکھائی اور ا س کے نتیجے میں دابولکر، پانسارے جیسے دانشوروں کے قتل میں ملوث ملزم شکنجے میں آگئے ہیں۔‘‘

بی جے پی لیڈروں کا ردعمل نہیں ملا:پریش میستا کی مشکوک موت کے بعد اسے فرقہ وارانہ قتل قرار دے کر سب سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے والے بی جے پی کے ا راکین پارلیمان شوبھا کرندلاجے اور اننت کمار ہیگڈے تھے۔ اننت کمار ہیگڈے کو اس کے بعد وزارت کا قلم دان بھی ملا۔ مگر شروع میں احتجاجی مظاہروں کے لئے دلچسپی دکھانے اور بیان بازی کرنے کے بعد اب وہ اس معاملے پر کوئی بات نہیں کررہے ہیں۔ تحقیقات میں ہورہی تاخیر کے سلسلے میں ان کاردعمل جاننے کے لئے ان دونوں لیڈران سے را بطے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو کے گمشدہ نوجوان کی لاش تملناڈو میں دستیاب۔ قتل کیے جانے کا شبہ

گنجی مٹھ کے رہنے والے سمیر (35سال) کے والد احمد نے پولیس میں گم شدگی کی شکایت درج کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اپنی بیوی ا وربچی کو ساتھ لے کر ہوائی جہاز کے ذریعے بنگلورو جانے کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا ہے اور اس کی بیوی ااپنی بچی کے ساتھ کاپ میں واقع اپنے مائیکے واپس پہنچ گئی تھی۔

کرناٹک لجسلیٹیوکونسل کی خالی نشستوں کیلئے دوکانگریس امیدواروں کا اعلان

یاستی کونسل کی خالی نشستوں کے لئے 4 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے لئے آج کانگریس کورکمیٹی کے اجلاس میں سابق وزیر ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین نصیراحمد اور ایم سی وینوگوپال کے نام منتخب کئے گئے ہیں ۔

سرکاری ملازمین مسلمانوں کے مفاد میں بھی کام کریں اسٹیٹ گورنمنٹ مسلم ایمپلائیز اسوسی ایشن کے جلسے سے رکنِ پارلیمان سید ناصرحسین کا خطاب

مسلمان سرکاری ملازمین اپنے اپنے محکموں میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے عام مسلمانوں کے مفاد میں بھی کام کریں۔سرکاری اسکیموں اور پروگراموں کو عام لوگوں تک خصوصا! مسلمانوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

اراکین اسمبلی کے شکار اور کراس ووٹنگ کا خدشہ سدارامیا نے25؍ ستمبر کو سی ایل پی میٹنگ طلب کی

ن خدشوں کے درمیان کہ لجسلیٹیو کونسل کے ضمنی انتخابات سے قبل کانگریس اراکین اسمبلی کا شکا ر یاان کی جانب سے کراس ووٹنگ ہوگی، مخلوط حکومت کی تال میل کمیٹی کے چیرمن سدا رامیا نے 25؍ستمبر کو کانگریس لجسلیٹر پارٹی(سی ایل پی) کی میٹنگ طلب کی ہے۔

سیلاب زدہ کورگ کیلئے اضافی تعاون کا اعلان فی کنبہ 50ہزار روپئے رقم دینے کا فیصلہ

ورگ ضلع میں حال ہی میں ہوئی موسلا دھار بارش اور سیلاب کی وجہ سے کئی گھر تباہ وبرباد ہوگئے ۔ متاثرہ کنبوں کیلئے کپڑے اور روز مرہ کی ضروریات کی خریداری کے مقصد سے وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ کے تحت فی کنبہ 50ہزار روپئے اضافی رقم جاری کرنے کا ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...