راجیہ سبھا الیکشن: این ڈی اے امیدوار ہری ونش ڈپٹی چیئرمین منتخب

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th August 2018, 12:41 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،9؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے امیدوار ہری ونش نارائن سنگھ کو آج راجیہ سبھا کا ڈپٹی چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ ان کے حق میں 125 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 105 ارکان نے ووٹ دیا۔ ہری ونش کے خلاف اپوزیشن نے کانگریس کے بی کے ہری پرساد کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ اپوزیشن کے کچھ رکن ووٹنگ کے دوران ایوان میں موجود نہیں تھے۔ ہری ونش جھارکھنڈ و بہار کے معروف اخبار 'پربھات خبر' کے سابق ایڈیٹر ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد سمیت سبھی ارکان پارلیمنٹ نے ہری ونش کو مبارکباد دی۔راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے ضروری کاغذات میز پر رکھوانے کے فوراً بعد ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے لئے نو نوٹس ملے اور متعلقہ ارکان سے اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں تجویز پیش کرنے کو کہا۔ ہری ونش کے حق میں چار اور ہری پرساد کے حق میں پانچ تجویز پیش کئے گئے۔ سب سے پہلے جنتا دل یو کے رام چندر پرساد سنگھ نے ہری ونش کے حق میں تجویز پیش کی اور ریپبلکن پارٹی کے رکن اور مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے اس کی حمایت کی۔ اس کے بعد بہوجن سماج پارٹی کے ستیش چندر مشرا نے ہری پرساد کے نام کی تجویز پیش کی اور کانگریس کے وویک تنکھا نے حمایت کی۔ راشٹریہ جنتا دل کی میسا بھارتی نے ہری پرساد کے حق میں تجویز پیش کی جس کی تیلگو دیشم پارٹی کے وائی ایس چودھری نے حمایت کی۔ اس کے علاوہ کانگریس کے آنند شرما ، سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی وندنا راج چوہان نے بھی ہری پرساد کی حمایت میں تجویز پیش کی جن کی حمایت بالترتیب کانگریس کے بھونیشور کلتا، کانگریس کے احمد اشفاق کریم اور کانگریس کے ہی جی کپیندر ریڈی نے کی۔ ہری ونش کے حق میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امت شاہ، شیوسینا کے سنجے راوت اور شرومنی اکالی دل کے سکھدیو سنگھ ڈھینڈسہ نے بھی قرارداد پیش کئے جس کی حمایت بالترتیب بی جے پی کے رام وچارنیتم، جنتا دل متحدہ کی کہکشاں پروین اور اور اے آئی اے ڈی اے یم کے کی وجیلا ستیانت نے کی۔

ایک نظر اس پر بھی

مولانا اسرارالحق قاسمی بلا تفریق مذہب و ملت غریبوں کے مسیحا تھے : نتیش کمار بہار کے وزیر اعلیٰ نے کشن گنج پہنچ کر اہل خانہ سے کیا تعزیت کا اظہار

ملک کے معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کی رحلت پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے لئے آج بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کشن گنج پہنچے اور ان سے ملاقات کرکے مرحوم کی وفات پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیااور مولانا کی روح کے سکون کے لئے دعاء کی۔

پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی شرمناک شکست کے بعد لکھنو میں لگے ’یوگی لاؤ، دیش بچائو‘ کے بینرس؛ نو نرمان سینا کے خلاف معاملہ درج

انچ ریاستوں میں ہوئے الیکشن میں بی جے پی  کو جس شرمناک  شکست  کا سامنا کرنا پڑا، اُس کے نتیجے میں  اتر پردیش نو نرمان سینا نے لکھنو میں جگہ جگہ مودی کی مخالفت میں بڑے بڑے بینرس لگادئے  جس پر بڑا تنازعہ پیدا ہوگیاہے۔البتہ انتظامیہ کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ میں  ہنگامہ مچ ...

مولانااسرارالحق قاسمی نے تعلیمی وسماجی میدانوں میں بے مثال خدمات انجام دیں، ملی کونسل کے زیر اہتمام تعزیتی اجلاس کا انعقاد

ملک کے مقبول و ممتاز عالم دین اور ممبر آف پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کی رحلت پر ملی کونسل کولکاتا کی جانب سے تعزیتی نشست منعقد کی گئی،جس میں شہر کی اہم علمی وسماجی شخصیات نے شرکت کی اور مولانا مرحوم کی بے مثال ملی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ اس موقع پر ...

شراکت داری سے ہی اہداف کاحصول ممکن ، پی ایم این سی ایچ شراکت فورم میں وزیراعظم کاخطاب 

وزیراعظم نے پی ایم این سی ایچ شراکت فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ صرف شراکت داری سے ہم اپنے اہداف کوحاصل کر سکتے ہیں۔شہریوں کے مابین شراکت داری ،برادریوں کے مابین شراکت داری ، ممالک کے مابین شراکت داری ہمہ گیر ترقی ایجنڈا اس کی جھلک ہے۔ ملک متحدہ کوششوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ ...

لکھنؤ میں ’یوگی فارپی ایم‘ کے ہورڈنگ،’جملے بازی کا نام مودی، ہندوتو کا برانڈ یوگی‘

اتر پردیش کی دارالحکومت لکھنؤ میں لگے کچھ ہورڈنگ بدھ کو بحث میں آگئے، جس پر’یوگی فارپی ایم‘ لکھا ہے۔ایک طرف مودی کی تصویر ہے تو دوسری طرف یوگی کی۔مودی کی تصویر نیچے لکھا ہے’جملے بازی کا نام مودی اور یوگی کی تصویر نیچے لکھا ہے’ہندوتو کا برانڈ یوگی‘۔دارالحکومت میں 2-3مقامات ...

کیا ’مودی کا جادو‘ ختم ہو رہا ہے:تجزیہ 

بھار ت کی پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا زوال شروع ہوچکا ہے اور وزیر اعظم نریندر ’مودی کا جادو‘ ختم ہو رہا ہے؟اسی کے ساتھ حکمران جماعت بی جے پی میں ایسی چہ مگوئیاں بھی شروع ...