حج 2018 : 14 جولائی سے شروع ہوگا عازمین کی روانگی کا سلسلہ ، ان ریاستوں کے عازمین دہلی سے ہوں گے روانہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th July 2018, 11:46 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)حج بیت اللہ2018کے لیے عازمین حج کی روانگی کے پہلے مرحلے میں ملک کے سب سے بڑے امبارکیشن پوائنٹ اندرا گاندھی انٹر نیشنل ٹرمنل 2۔ سے دہلی اور دیگر چھ ریاستوں اتر پردیش، ہریانہ، ہماچل پردیش،چنڈی گڑھ، پنجاب اور جموں کشمیر کے عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ آئندہ 14 جولائی 2018 سے شروع ہو جائے گا۔یہ اطلاع دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں دی۔

اس موقع پر ہر سال کی طرح اس سال بھی دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی جانب سے تمام ریاستوں کے عازمین حج کے عارضی قیام کے لیے دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان اور مسجد و درگاہ فیض الٰہی میں تمام تر ضروری سہولیات پر مشتمل کیمپ کا افتتاح 12 جولائی 2018کو رات8بجے حمدو نعت اور اسلامی تاریخ و روایات اور موضوعات پر مشتمل نظمیہ مشاعرہ سے ہوگا ، جس میں دہلی اور بیرونی دہلی کے معروف شعرا اپنے روح پرور کلام اور تخلیقات پیش کریں گے۔

اس موقع پر دہلی کی مختلف علمی و ادبی ، سماجی ومذہبی اور ملی تنظیموں و اداروں کے نمائندگان کے علاوہ معروف شخصیات نیز ائمہ و مدارس و مساجد کے ذمہ داران حضرات کو مدعو کیا گیا ہے۔تقریب میں حکومت دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا مہمان خصوصی ہوں گے۔ وزیر محصولات، حکومت دہلی کیلاش گہلوت مشاعرہ کی شمع افروزی کریں گے جبکہ مہمان اعزازی محبوب علی قیصر، ایم پی و چیئرمین حج کمیٹی آف انڈیا اور عمران حسین وزیر خوراک و رسد، حکومت دہلی ہوں گے۔مشاعرہ کی صدارت دہلی کے بزرگ شاعروقار مانوی کریں گے۔ افتتاحی کلمات پروفیسر شہپر رسول، وائس چیئرمین دہلی اردو اکادمی پیش کریں گے۔ نظامت کے فرائض کی انجام دہی معین شاداب کریں گے۔

واضح ہوکہ اس سال دہلی سے تقریباً 20000عازمین کل48پروازوں سے حج بیت اللہ کے مقدس سفر کے لیے روانہ ہوں گے ، جس کا سلسلہ 14 جولائی سے شروع ہوکر28 جولائی تک جاری رہے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھیم آرمی کے سربراہ کی مولانا ارشد مدنی سے خصوصی ملاقات؛ ریاستی سیاست میں ہلچل

جیل سے رہائی کے بعد بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد نے دیوبند پہنچ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔اس ملاقات کے بعد میڈیا سے صرف یہ کہا کہ دبے کچلے طبقات کو ایک ساتھ لانا اور انہیں متحد کرنا ان کا مقصد ہے اور اسی کے تحت وہ یہاں آئے ...