ہادیہ کیس! امیت شاہ اور یوگی کے نام پر سپریم کورٹ میں ہنگامہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th October 2017, 2:35 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍ستمبر( ایس او نیوز؍ایجنسی)کیرالا کی شادی کے حساس مسلئے پر عدالت میں جاری شنوائی کے دوران وکلا کے درمیان تلخ بحث کے پیش نظر شنوائی کو 30؍ اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا اور کہا کہ غیر متعلقہ باتوں پر شنوائی کے دوران بحث قابل قبول نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی نگرانی میں شنوائی کررہی بنچ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جب ہادیہ کے شوہر شیفین جہاں کی پیروی کررہے سینئر وکیل دوشانت داوے بحث کے دوران بی جے پی صدر امیت شاہ اور چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ کے ناموں کا حوالہ دیا اور ان کے سیاسی اغراض و مقاصد کا ذکر کیا۔ دوشانت داوے نے کہا کہ یوگی نے کیرالا میں لوجہاد کے متعلق بات کی۔ عدالت کو زمینی حقیقت سے واقف کروانے کی ضرورت ہے۔ دوشانت داوے نے مزید کہا کہ امیت شاہ نے بھی کیرالا کا دورہ کیا ہے تا کہ لوجہاد کے موضوع کو اجاگر کیا جاسکے۔

بنچ جس میں جسٹس اے ایم خان والکر اور ڈی وائی چندر چوڑ بھی ہیں نے کہا کہ جب تک راست طور پر کوئی سیاسی شخصیت اس کیس پر اثر انداز نہیں ہوتی تب تک انہیں اس کیس سے دورہی رکھیں۔ جس کا تعلق اس کیس سے نہیں ہے انہیں اس کیس میں ہمیں گھسیٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ منیندر سنگھ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل جو این آئی اے کی جانب سے عدالت میں حاضر ہوئے تھے نے دوشانت داوے کی بات کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ سیاست ہے اور سینئر وکیل عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو نا قابل یقین ہے۔ اس کے بعد بنچ نے جائزہ لیا اور دوشانت داوے سے کہا کہ اس قسم کی بحث عدالت میں قابل قبول نہیں ہوگی ۔ دوبارہ اس عدالت میں اس طرح کی بحث نہیں سنی جائیگی ۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ پہلی درخواست کو ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔ بعدازاں دوسری درخواست دائر کی گئی جس کو عدالت نے منظور کرتے ہوئے شادی سے پہلے مذہب اسلام قبول کرنے والی لڑکی کی شادی کو ہی نامنظور کردیا ۔ انہوں نے کیرالا کو ہمہ مذہبی معاشرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پر بین مذہبی شادیوں کا رواج عام ہیں جس کو معاشرے میں قبول بھی کیا جاتا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے حالیہ دنوں میں صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کے دیئے ہوئے بیان کا بھی حوالہ دیا۔ پھر اس کے بعد دوشانت داوے اس کیس کو خود ساختہ سیاسی طور پر طئے کیا جس پر بنچ اور این آئی اے ایجنسی کی کونسل نے اعتراض جتایا۔

ایک نظر اس پر بھی

سنیمامیں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں،قومی گیت کولازمی نہیں کیاجاسکتا؛قومی ترانہ پرسپریم کورٹ نے کہا، ہمیں اپنے ہاتھوں میں حب الوطنی نہیں رکھنی چاہیے

سنیماگھروں میں قومی گیت لازمی بنانے کے فیصلہ کے ایک سال بعد ایک موڑ آیاہے۔اب سپریم کورٹ نے سینٹرکوبتایاہے کہ وہ اس معاملے میں خودفیصلہ کرتے ہیں، ہر کام کو عدالت میں داخل نہیں کیاجاسکتاہے۔