پاکستان  میں نامعلوم افراد کا حملہ، ہزارہ کمیونٹی کے چار افراد ہلاک

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th September 2017, 4:59 PM | عالمی خبریں |

کوئٹہ ،11ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے ایک تازہ واقعے میں ایک ہی گھرانے کے چار افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے ان افراد کو قتل کرنے کے بعد فرار ہو گئے۔کوئٹہ پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات رونما ہونے والے سے واقعے میں ایک بچہ بھی مارا گیا۔ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے اس گھرانے کو اس وقت نشانہ بنایا، جب وہ چمن سے کوئٹہ کی طرف سفر کر رہے تھے۔ شورش زدہ صوبے بلوچستان میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے خلاف یہ ایک نیا حملہ ہے۔ ماضی میں بھی اس کمیونٹی کے افراد کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پولیس اہلکار تنویر شاہ نے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ بلوچستان کے کوچلک نامی علاقے میں رونما ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔ گیارہ ستمبر بروز پیر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ افراد پر مشتمل اس کنبے پر ہوئے حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔بلوچستان کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں اور یہاں طالبان کے علاوہ بلوچ علیحدگی پسند بھی فعال ہیں۔تنویر شاہ کے مطابق اس حملے میں ایک بارہ سالہ لڑکا بھی ہلاک ہوا ہے۔تنویر شاہ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے ان افراد کو اس وقت نشانہ بنایا، جب ان کی گاڑی ایک پیٹرول اسٹیشن پر مختصر قیام کی خاطر کھڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ دو افراد شدید زخمی ہیں، جنہیں کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ گھرانہ اتوار کے دن ہی افغانستان سے چمن پہنچا تھا، جہاں سے یہ کوئٹہ کی طرف روانہ ہوا تھا۔بلوچستان میں ماضی میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری داعش سے وابستہ مقامی گروہ یا دیگر مقامی سنی شدت پسند گروپ قبول کر چکے ہیں۔ ڈی پی اے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے اس صوبے کو مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے اور بلوچستان میں طالبان اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر فعال سنی جنگجو گروہ شیعہ کمیونٹی اور مقامی بلوچ قوم پرست گروپوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔بحراوقیانوس کا انتہائی طاقتور طوفان اِرما امریکی ریاست فلوریڈا کے چھوٹے چھوٹے جزائر کے سلسلے کے قریب پہچنے والا ہے۔ ان جزائر کا سلسلہ فلوریڈا کیز کہلاتا ہے۔

فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس سمندری طوفان کی وجہ سے فلوریڈا میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم یہ سمندری طوفان کیریبیئن کے علاقے میں 24ہلاکتوں کا باعث بنا۔فلوریڈا کے ایمرجنسی مینجمنٹ کے ڈائریکٹر بریان کُون نے بتایا کہ اس طوفان کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ میں نے اب تک تباہ کن نقصان کی بابت نہیں سنا، مگر ایسا نہیں کہ نقصان ہوا ہی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں فی الحال اطلاعات نہیں ہیں۔حکام کے مطابق طوفان سے شدید متاثرہ علاقوں میں دس فٹ سے بھی زیادہ بلند سطح کا طوفان دیکھا گیا اور وہاں گھریلو سامان اور فرنیچر گلیوں میں بہتا نظر آ رہا ہے۔مقامی حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں پیر کے روز سے گھر گھر جا کر بچ جانے والے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں جب کہ فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں اشیائے خورد و نوش بھی گرائی جا رہی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

جرمن انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری

براعظم یورپ کی سب سے طاقتور اقتصادیات کے حامل ملک جرمنی میں آج چوبیس ستمبر کو پارلیمانی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ صبح آٹھ بجے سے شروع ہے۔

ووٹ ڈالنا سماجی ذمہ داری ہے، جرمن صدر

جرمنی کے صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے جرمن عوام کو پولنگ میں جوق در جوق شریک ہونے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ ووٹ ڈالنا ایک سماجی ذمہ داری ہے اور اس کا احساس کیا جائے۔

فتح کے قریب ہیں، شامی وزیر خارجہ

شامی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خاتمے کے ہدف کی طرف بتدریج بڑھ رہا ہے اور گزشتہ چھ برس سے جاری جنگ میں فوجی فتح ’’اب دسترس میں‘‘ ہے۔

جرمن الیکشن، ووٹرز کون ہیں اور وہ کسے پسند کرتے ہیں؟

24 ستمبر کے جرمن وفاقی پارلیمانی انتخابات میں قریب ساٹھ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان ووٹرز میں عمررسیدہ، خواتین، مرد اور تارکین وطن پس منظر افراد کے حامل ووٹرز کا تناسب کیا ہے؟