گودھرا سانحہ؛ ملزمین کی سزاؤں کا تفصیلی خاکہ عدالت میں پیش؛ ۴؍ دسمبر کو ضمانت عرضداشت پر حتمی بحث متوقع، گلزار اعظمی کا بیان

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 20th November 2018, 2:15 PM | ملکی خبریں |

ممبئی ۲۰؍ نومبر (پریس ریلیز /ایس او نیوز) سپریم کورٹ آف انڈیا میں آج گودھرا ٹرین سانحہ حادثہ میں سزا یافتہ ۲۹؍ مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دو رکنی بینچ کے سامنے استغاثہ نے ملزمین کی سزاؤں کی تفصیلات کا خاکہ پیش کیا جس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ۴؍ دسمبر تک ملتوی کردی۔ امید ہے کہ ۴؍دسمبر کو ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر حتمی بحث ہوگی ۔

اس سے قبل جمعیۃ علماء (ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کردہ سینئر وکیل پی وی مشراء اور سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امریندر شرن نے عدالت کو بتایا تھاکہ عمر قید کی سزا پانے والے ۲۹؍ ملزمین اب تک جیل میں ۱۶؍ سال سے زائد کا عرصہ گذار چکے ہیں اور ان کی اپیلوں پر مستقبل قریب میں سماعت ہونے کے امکانات نہیں ہیں لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں د اخل اپیل کو عدالت نے پہلے ہی سماعت کے لئے  قبول کرلیا تھا جس کے بعد ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی جس پر آج دو رکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراء اور جسٹس ونیت شرن کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دورن عدالت میں استغاثہ نے ملزمین کی سزاؤں اور ان کے ابتک جیل میں گذارے گئے ایام کی تفصیلات کو پیش کیا ۔ آج عدالت میں سینئر وکلاء کے ساتھ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ ابھیمنیو شریستا بھی موجود تھے ۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا مقدمہ ہے جس میں تحقیقاتی دستوں نے قتل ، اقدام قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت ۹۴؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جہاں نچلی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب ۶۳؍ ملزمین کو باعزت بردی کردیا تھا وہیں ۲۰؍ ملزمین کو عمر قید اور ۱۱؍ دیگر ملزمین کو پھانسی کی سزاء سنائی تھی نیز جمعیۃ علماء ۳۱؍ ملزمین میں سے ۲۹؍ ملزمین کے مقدمہ سپریم کورٹ میں دیکھ رہی ہے جبکہ بقیہ دو ملزمین ذاتی طور پر عدالت سے رجوع ہوئے ہیں ۔

گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ گذشتہ سال ۹؍ اکتوبر کو گجرا ت ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اننت ایس دوے اور جسٹس جی آر وادھوانی نے اپنے ۹۸۷؍ صفحات پر مشتمل فیصلہ میں ایک جانب جہاں نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا وہیں پھانسی کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کرکے ملزمین کو کچھ راحت دی تھیں ۔

گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ ملزمین بلال احمد عبدالمجید، عبدالرزاق، رمضانی بنیامین بہیرا،حسن احمد چرخہ،جابر بنیامین بہیرا، عرفان عبدالمجید گھانچی،عرفان محمد حنیف عبدالغنی، محبو احمد یوسف حسن، محمود خالد چاندا، سراج محمد عبدالرحمن، عبدالستار ابراہیم، عبدالراؤف عبدالماجد،یونس عبدالحق، ابراہیم عبدالرزاق، فارق حاجی عبدالستار، شوکت عبداللہ مولوی، محمد حنیف عبداللہ مولوی،شوکت یوسف اسماعیل،انور محمد ،صدیق ماٹونگا عبداللہ بدام شیخ،محبوب یعقوب، بلال عبداللہ اسماعیل، شعب یوسف احمد، صدیق محمد مورا،سلیمان احمد حسین، قاسم عبدالستارکی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔