سعودی عرب کی تعریف کرنے والے قطری حاجی کو کس نے تشدد کا نشانہ بنایا؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th September 2017, 8:23 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سوشل میڈیا کے ذریعے ایک قطری حاجی کی ایک ایسی ویڈیو پھیلائی گئی ہے جس میں مبینہ طور پر سعودی اس کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی توہین کررہے ہیں لیکن اس ویڈیو کی حقیقت کا پول کھل گیا ہے اور یہ دوحہ نے سعودی عرب کے خلاف اپنی مذموم مہم کے حصے کے طور پر فلمائی ہے۔ویڈیو میں اس قطر ی شہری پر سعودی نہیں بلکہ اس کے ہم وطن قطری حکام ہی حج کرنے کی پاداش میں تشدد کررہے ہیں۔

اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد اس میں تشدد کا نشانہ بننے والے قطری شہری کے بھائی نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔جابر المری نے بتایا ہے کہ اس کے بھائی کو سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائی کے بعد واپسی پر دوحہ کی وزارت داخلہ کے حکام نے گرفتار کر لیا تھا لیکن اس کے بیوی اور بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔

بدھ کی شام یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو میں نظر آنے والے قطری حاجی کی حمد المری کے نام سے شناخت کی گئی ہے۔اس کو ایک شخص تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے ۔قطریوں نے تشدد کرنے والے شخص کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ سعودی شہری ہے۔ ویڈیو سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حمد پر حج سیزن کے دوران میں ایک صحرائی علاقے میں حملہ کیا گیا تھا۔

یہ قطری شہر ی گذشتہ ہفتے حج کیلیے سعودی عرب میں پہنچنے کے بعد ایک سعودی ٹیلی ویژن پر نمودار ہوا تھا۔وہ سعودی عرب کی جانب سے حجاج کرام کو مہیا کی جانے والی خدمات اور سہولتوں کی تعریف کررہا تھا اور اس نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور دوسرے سعودی حکام کی تعریف کی تھی ۔مبینہ حملہ آور نے ویڈیو میں اس قطری حاجی کے ہاتھ پشت پر باندھے ہوئے ہیں اور وہ اس پر دشنام طرازی کررہا ہے۔

جابر بن ال کحلہ المری نے قبل ازیں یہ کہا کہ وہ اپنے بھائی حمد سے گفتگو کے بعد جمعرات کو ٹویٹر پر ایک ویڈیو جاری کررہے ہیں اور اس میں وہ اپنے بھائی سے ناروا سلوک کی تمام تفصیل بیان کریں گے۔قطرکی وزارت داخلہ نے اب ان کے بھائی کو رہا کردیا ہے۔انھوں نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ انھیں بھائی کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔البتہ یہ معلوم ہے کہ اس کو قطر کی وزارت داخلہ نے حج کے دوران میں دوحہ حکومت پر تنقید کی پاداش میں گرفتار کیا ہے۔

اس سے پہلے ایک اور ٹویٹ میں جابر نے یہ اطلاع دی تھی کہ ان کے بھائی حمد المری کو سعودی عرب سے زمینی راستے کے ذریعے ملک میں داخل ہونے کے فوری بعد قطری حکام نے اغوا کر لیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ قطری عازمین حج کی میزبانی پر سعودی عرب کی تعریف کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔

جابر نے جمعرات کی صبح اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ قطری حکومت نے انتقام کے طور پر المری قبیلے کی الغفرانی شاخ سے تعلق رکھنے والے افراد کی شہریت منسوخ کردی ہے ۔جابر اور الحمد دونوں اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔جابر کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے خاندان کی متعدد جائیدادیں ضبط کر لی ہیں اور کم سے کم چھے ہزار افراد کو بے گھر کردیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔

سعودیہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی نکلی

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے واضح کیا ہے کہ اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا۔