کشمیر 2002 کا گجرات بن سکتا ہے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th June 2018, 8:58 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

آخر کشمیر میں گونر راج نافذ ہو ہی گیا۔ کشمیر کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہاں اب ساتویں بار گونر راج نافذ ہوا ہے ، ویسے بھی کشمیر کے حالات نا گفتہ بہہ ہیں۔ وادی کشمیر پر جب سے بی جے پی کا سایہ پڑا ہے تب ہی سے وہاں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ پہلے تو مفتی سعید اور محبوبہ مفتی نے کشمیریوں کو دھوکا دیا۔ کشمیریوں نے جو ووٹ مفتی سعید کی پارٹی کو بی جے پی کو روکنے کے لئے دیئے تھے ،مفتی صاحب نے اس ووٹ کا استعمال بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملاکر حکومت بنانے میں کیا۔ پھر کشمیریوں کو سبق یہ پڑھایا کہ کشمیر میں باڑھ سے جو نقصان ہوا اس کی مدد کے لئے مرکز کی مدد چاہیے اس لئے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانا ضروری ہے۔ لیکن کشمیریوں کو ملا کیا! گولیاں اور پیلٹ گن سے آنکھوں کا اندھا پن ! پھر برہان وانی کی موت کے بعد سے تو مرکزی سیکورٹی فورسیز کا قہر ٹوٹ پڑا۔ کبھی کشمیری انتہا پسند وں نے سیکورٹی کو مارا تو کبھی سیکورٹی نے نوجوان کشمیریوں کی جان لی۔ اس لامتناہی سلسلے نے کشمیر کو جہنم بنا دیا اور آخر مرکزکی جانب سے گورنر راج نافذ ہوگیا۔

لیکن کشمیر میں یہ نوبت آئی کیوں! پہلی ذمہ داری تو پاکستان کی ہے۔ پاکستان نے کشمیرکو جان بوجھ کر اپنا میدان جنگ بنا لیا ۔ دراصل سن 1971 میں بنگلا دیش کی جنگ ہار کر پاکستانی فوج کو یہ بات باخوبی سمجھ میں آگئی کہ وہ ہندوستان سے جنگ نہیں جیت سکتا ہے اس لئے 1980 کی دہائی میں کشمیریوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھمادی۔ مرکزی حکومت سے ناراض کشمیری یہ سمجھ بیٹھا کہ بس اس کا مسئلہ حل ہوتا چلا جائے گا۔ ادھر ہندوستانی فوج کشمیر میں الجھ گئی ادھر کشمیریوں کے ہاتھوں میں موت آگئی۔ جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور کسی طرح حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہماری مختلف مرکزی حکومتوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے نام پر اس قدر غلطیاں کی کہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے پیچیدہ ہوتا چلا گیا اور اب جو صورت حال ہے وہ جگ ظاہر ہے۔

لیکن مودی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے کچھ عرصے بعد مسئلہ کشمیر نے ایک نیا موڑ لے لیاہے جو انتہائی سنگین رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بر سراقتدار آتے ہی پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا ۔ انہوں نے حلف لیتے وقت اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو دہلی بلایا، پھر وہ ایک بار خود چند گھنٹوں کے لئے پاکستان گئے۔ لیکن اس کا جواب پاکستان نے پٹھان کوٹ ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملے سے دیا۔ مودی نے اس کا جواب دہشت گردوں کے اڈوں پر حملے سے دیا اور بس پھر اس کے بعد سے حالات ناگفتہ بہہ ہوتے چلے گئے۔

اب کشمیر نہ صرف ایک ٹیڑھی کھیر ہے بلکہ آثار یہ ہیں کہ سنگھ مودی کی قیادت میں بی جےپی کشمیر کو ایشو بنا کر 2019 کا لوک سبھا چناؤ جیتنے کے لئے کمر بستہ ہو رہی ہے۔ وہ کیسے! یاد رکھیے کہ مودی ’’ہم بنام تم‘‘ کی چناوی حکمت عملی پر چناؤ جیتنےمیں بادشاہ ہیں ۔اس حکمت عملی میں’ ہم ہندو اور تم مسلمان‘ ہوتا ہے۔یعنی مودی بہت خوبصورتی سے چناوی کمپین کو’ ہندو-مسلم ‘ فرضی جنگ میں بدل دیتے ہیں ۔ مثلاً ، گجرات فسادات کا مودی نے چناؤ کے لئے جو فائدہ اٹھایا اس سے سب واقف ہیں ۔ گجرات میں مسلم نسل کشی کے بعد مودی’ ہندو ہیرو ‘ہی نہیں بلکہ ہندو محافظ کے روپ میں ابھر ے جس نے گجرات میں مسلمانوں کا سر کچل کر ہندوؤں کی ’رکشا‘ کی اور اسی لئے ’ہندو انگ رکشک‘کے لقب سے خود کو نواز لیا اور اس طرح اس ہندو ہیرو نے گجرات میں تین اسمبلی چناؤ جیتے۔

کشمیر کارڈ سن 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں مودی کے لئے وہی کام کر سکتا ہے۔ مودی سن 2014 کے چناؤ ترقی کے کارڈ پر لڑے تھے جبکہ سنگھ زمین پر ہندوؤں کو یہ باور کروارہی تھی کہ ’’دبنگ ‘‘ مودی ہی مسلمانوں کو سبق سیکھا سکتے ہیں،اب مودی کا ترقی کا کارڈ بالکل دھوکا ثابت ہوا ہے۔ کسان خودکشی کررہا ہے ، دلت ہر جگہ پٹ رہا ہے، نوجوان کونوکری نصیب نہیں، تاجر کو نوٹ بندی نے تباہ کر دیا۔ اس لئے اب مودی کے پاس محض ’ہندو-مسلم ‘ کارڈ ہی بچا ہے یعنی عام انتخاب میں ہندو کو کچھ ایسا سبق پڑھایا جائے کہ وہ اپنی تمام مصیبتیں بھول جائے اور مسلم منافرت میں آنکھ بند کر مودی کو پھر اپنا ’انگ رکشک‘ سمجھ کر ووٹ دےدے۔

کشمیر اس حکمت عملی کے لئے بہترین آمجگاہ ہے۔ کشمیر میں اس وقت بغاوت ہے ، روز سیکڑوں لوگ حکومت ہند کے خلاف سڑکوں پر نکل کر آزادی کے نعرے لگاتے ہیں، ادھر سرحد پار سے پاکستان آئے دن گولی باری کرتا ہے، ہمارے فوجی مارے جارہے ہیں اس پورے تناظر میں ’ کشمیری مسلمان‘ مرکزی کرادر ہے ۔ ادھر اسلامی ریاست پاکستان ہمارے فوجی یعنی’ ہندو‘ ہندوستان پر حملہ کر رہاہے۔ بس کشمیر میں جس قدر مارکاٹ ہوگی ، اس طرح باقی ہندوستان میں مودی اور سنگھ اس کو ہندو-مسلم کا رنگ دیں گے۔ آخر سیکڑوں کیا ہزاروں کی موت کے بعدیہ نعرہ چلے گا کہ مودی نے سرکش مسلمانوں کا سر کچل دیا اور اس طرح مودی ’ہندو انگ رکشک‘ بن جائیں گے۔ اس طرح سن 2002 کا گجرات اب کشمیر میں دہرایا جائے گا تاکہ کسان، دلت ،نوجوان اور تاجر سب اپنے اپنے مسائل بھول کر مودی ’ہندو انگ رکشک‘ کے نام پر ووٹ ڈال دیں ، ساتھ میں رام مندر کی تعمیر شروع کرواکر اس حکمت عملی پربگھار لگا دی جائے گی۔

یہ ہے اس وقت مسئلہ کشمیر کا حل جو مودی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے استعمال کرنے کے کام آسکتاہے۔ میری دعا ہے کہ میرا مضمون غلط ثابت ہو ، کیونکہ اس آڑ میں بے حد خون بہے گااور سارا ہندوستان منافرت کی آگ میں جھلس اٹھے گا۔ مگر آثار پرخطر ہیں اور کشمیر جنت سے جہنم کی کگار پر ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا کے بعد نتن سندیسارا بھی 5000 کروڑلوٹ کر فرار

نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا کے بعد ایک دیگر کاروباری نتن سندیسارا ہندوستانی بینکوں کو ہزاروں کروڑ روپے کا دھوکہ دے کر ملک سے فرار ہو گیا ہے۔ خبروں کے مطابق وہ فیملی کے ساتھ نائیجیریا میں ہے۔

سماج کلیان بورڈ کی صدر پدما شکلا کے ساتھ دو درجن لوگوں نے بی جے پی چھوڑا

مدھیہ پردیش میں اسمبلی کے الیکشن جیسے جیسے نزدیک آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے سیاسی گہما گہی بڑھتی جا رہی ہے ۔ لیڈروں کے ذریعہ ایک پارٹی سے استعفیٰ دے کر دوسری پارٹی کی رکنیت لینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔ اسی سلسلے میں پیر کو کابینہ وزیر کادرجہ حاصل اور ریاست کے سماجی بہبود ...

ملک کا آئین اورجمہوریت خطرے میں، امن اورسیکولرازم کی راہ پرچل کرہی ملک کرسکتا ہے ترقی: مولانا ارشد مدنی

ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں مرکزی دفترجمعیۃعلماء ہندکے مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال ۱؂ بہادرشاہ ظفرمارگ نئی دہلی میں جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ،

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...