تاج محل مقبرہ یا مندر، صاف کرے وزارت ثقافت: انفارمیشن کمیشن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th August 2017, 11:33 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مرکزی انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) نے مرکزی وزارت ثقافت سے پوچھا کہ تاج محل شاہجہاں کے ذریعہ بنوایا گیا ایک مقبرہ ہے یا شیو مندر ہے، جسے ایک راجپوت بادشاہ نے مغل بادشاہ کو تحفے میں دیا۔ یہ سوال ایک آر ٹی آئی درخواست کے ذریعے پوچھا گیا تھا۔انفارمیشن کمشنر سریدھر اچارہل نے حالیہ حکم میں کہا کہ وزارت کو اس معاملے پر تنازعہ ختم کرنا چاہئے، ساتھ ہی سفید سنگ مرمر سے بنے اس قبر کے بارے میں شک دور کرنا چاہئے۔انہوں نے سفارش کی ہے کہ وزارت تاج محل کی اصل سے جڑے معاملات پر اپنے موقف کے بارے میں معلومات دیں، ساتھ ہی کہا کہ مؤرخ پاک بحریہ بلوط اور ایڈووکیٹ یوگیش سکسینہ کی تحریروں کی بنیاد پر اکثر کئے جانے والے دعووں پر بھی معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سمیت کچھ کیس کورٹ میں برخاست کئے گئے جبکہ کچھ زیر التواء تھے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی کے ایس آراینگر نام کے ایک شخص نے آر ٹی آئی ڈال کر ہندوستانی ورثہ تحفظ (ASI) سے یہ پوچھا تھا کہ آگرہ میں واقع یہ یادگار تاج محل ہے یا تیجو مہالے؟ اے ایس آئی رپورٹ کے مطابق حقائق۔ثبوتوں کے ساتھ انہوں نے پوچھا کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ تاج محل تاج محل نہیں ہے اور یہ 'توجو مہالے ہے۔ شاہجہاں نے اس کی تعمیر نہیں کیا بلکہ بادشاہ مان سنگھ نے ہدیہ کیاتھا۔بتادیں کہ تاج محل کو دنیا کے سات عجائب میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اسے مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی بیگم ممتاز کی یاد میں بنوایا تھا۔انفارمیشن کمشنر نے کہا کہ اے ایس آئی کو درخواست گزار کو بتانا ہوگا کہ محفوظ جگہ تاج محل میں کیا کوئی کھدائی کی گئی ہے، اگر ایسا ہے تو اس میں کیا ملا۔ انہوں نے کہا کہ کھدائی کے بارے میں فیصلہ ملحق قابل اتھارٹی کو لینا ہوگا۔ کمیشن کھدائی یا خفیہ کمروں کو کھولنے کی ہدایت نہیں دے سکتا۔

ایک نظر اس پر بھی

سنیمامیں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں،قومی گیت کولازمی نہیں کیاجاسکتا؛قومی ترانہ پرسپریم کورٹ نے کہا، ہمیں اپنے ہاتھوں میں حب الوطنی نہیں رکھنی چاہیے

سنیماگھروں میں قومی گیت لازمی بنانے کے فیصلہ کے ایک سال بعد ایک موڑ آیاہے۔اب سپریم کورٹ نے سینٹرکوبتایاہے کہ وہ اس معاملے میں خودفیصلہ کرتے ہیں، ہر کام کو عدالت میں داخل نہیں کیاجاسکتاہے۔