گورکھپور حادثہ: آکسیجن سلینڈر پہنچانے والی کمپنی کے مالک منیش بھنڈاری کے گھر چھاپہ ماری

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th August 2017, 11:21 AM | ملکی خبریں |

گورکھپور،12؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گورکھپور میڈیکل کالج میں لکویڈ آکسیجن سلینڈر پہنچانے والی کمپنی پشپا سیلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے دفتر پر گزشتہ رات سے چھاپہ ماری ہوئی ہے۔ اس کمپنی کے مالک منیش بھنڈاری کے گھر اور اس کے رشتہ داروں کے یہاں بھی چھاپہ ماری ہوئی ہے۔ منیش بھنڈاری لیکن فرار بتایا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ بھی سوال ہوتاہے کہ اگرپیسے باقی رہے تواس کی ذمہ داری یوگی سرکارہے یاگیس کمپنی کی ۔کہیں معاملے پرپردہ ڈالنے کے لیے الٹی چھاپہ ماری تونہیں ہورہی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ گورکھپور میں گزشتہ پانچ دنوں میں 60 بچوں کی دردناک موت نے کئی سوال کھڑے کر دئے ہیں، جان گنوانے والے بچوں میں 5 نوزائیدہ بھی تھے، اسپتال میں ہونے والی کل اموات 30 ہیں۔اموات کی وجہ سرکاری طور پر اگرچہ نہیں بتائی جا رہی ہو لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے آکسیجن کی کمی ہی وجہ ہے۔اگرچہ یوپی حکومت کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی سے موت نہیں ہوئی، 9 تاریخ کی آدھی رات سے لے کر 10 تاریخ کی آدھی رات کو 23 اموات ہوئیں جن میں سے 14 اموات نو نیٹل وارڈ یعنی نومولود بچے کو رکھنے کے وارڈ میں ہوئی جس چھوٹے بچے رکھے جاتے ہیں۔ یہ بھی حیرت انگیز ہے کہ 10 اگست کی رات کو آکسیجن کی سپلائی خطرناک طور پر کم ہو گئی۔بابا راگھوداس میڈیکل کالج میں واقع نہرو اسپتال میں بھرتی 30 بچوں کی موت کے معاملے پر مختلف سماجی تنظیم اور سیاسی پارٹیاں آج میڈیکل کالج کے احاطے میں دھرنا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر میڈیکل کالج پہنچ گئے ہیں۔مظاہرہ کر رہے لوگوں میں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے کارکنان شامل ہیں۔ مظاہرین مذکورہ واقعہ میں داخل ڈاکٹر، پرنسپل اور سپرنٹنڈنٹ پر قتل کا معاملہ درج کرکے ان سب کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ مرے بچوں کے خاندانوں کو 20۔20 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

گورنر جموں وکشمیر آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کریں: بھیم سنگھ

نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلیٰ ،سابق رکن اسمبلی اور اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزکیوٹیو چیرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرہ سے درخواست کی ہے کہ وہ جموں وکشمیر آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کریں۔