لبنانی خاندان کی جرمنی میں 77 جائیدادیں کیوں ضبط کی گئیں؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st July 2018, 11:55 AM | عالمی خبریں |

برلن 21جولائی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) جرمن حکام نے کئی درجن رہائشی اپارٹمنٹس بحق سرکار ضبط کر لئے ہیں۔ ان جائیدادوں کے بارے میں جرمن حکام کا دعوی ہے کہ یہ شہر میں سرگرم "مجرموں کے ایک نیٹ ورک" کی ملکیت ہیں۔

جرمنی میڈیا کے مطابق ملک میں منظور کئے جانے والے ایک نئے قانون میں پولیس کو ایسی جائیداد ضبطی کا اختیار ہے جو ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ آمدن سے خریدی گئی ہو۔

برلن کے سرکاری استغاثہ نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے دارلحکومت میں سرکردہ جرائم پیشہ خاندان کے خلاف آپریشن کیا ہے۔ یہ خاندان لبنانی الاصل ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق نجی معلومات کے تحفظ سے متعلق قانون کی پاسداری کرتے ہوئے حکام نے گرفتار "قبیلے" کو "آر" کے نام سے شناخت کرائی ہے۔

حکام نے جن 77 جائیدادوں کو ضبط کیا ہے ان کی مالیت تقریباً 9.3 ملین یورو [10.8ملین ڈالرز] بنتی ہے۔

برلن کے چیف سیٹ پراسیکیوٹر جاگ راپاک نے جمعرات کے روز ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ 16 افراد سے منی لانڈرنگ کے شبہہ میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ تمام کا تعلق "آر قبیلے" سے ہے۔ان میں کسی کو ابھی باقاعدہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق متذکرہ خاندان کے خلاف کارروائی مالیاتی جرائم کی تفتیش کرنے والے حکام کی جانب سے کمرشل جائیدادوں اور 13 اپارٹمنٹس کی گذشتہ جمعہ کے روز تلاشی کے بعد عمل میں آئی۔

برلن سیٹ پولیس نے بتایا ہے کہ فلیٹس کے متعدد بلاک، سنگل مکانات، اپارٹمنٹس اور الاٹ کردہ درجنوں جائیدادیں لبنان الاصل خاندان کی ملکیت ہیں۔

حالیہ جائیداد ضبطی 2014ء میں برلن کے میری ینڈوف ڈسٹرکٹ میں بینک لوٹنے کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے سلسلے کی تازہ ترین کارروائی ہے۔ "سپارکاسے" نامی بینک لوٹنے کی اس کارروائی میں زوردار دھماکے سے بینک کی پوری عمارت تباہ ہو گئی تھی جبکہ اس میں سے رکھے گئے 9.16 ملین یورو بھی چرا لئے گئے تھے۔

ویب سائٹ کے مطابق "آر قبیلے" کا توفیق آر نامی ایک شخص بینک لوٹنے کی کارروائی کا مجرم قرار پایا تھا، تاہم چوری شدہ رقم واپس نہیں مل سکی تھی۔ تاہم بعد تفتیش کاروں کو بعد ازاں معلوم ہوا کہ سزا یافتہ توفیق آر کا ایک بھائی شہر میں جائیداد خریدنے میں مصروف تھا حالانکہ وہ ظاہری طور پر ریاستی وظیفے پر گذر بسر کر رہا تھا ۔

آر قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد حالیہ چند برسوں میں برلن کے اندر ہونے والے بینک چوری کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ گذشتہ برس اسی نیٹ ورک سے منسلک چار افراد، جن کی عمریں اٹھارہ سے بیس برس کے درمیاں تھیں، کو مارچ 2017 میں شہر کے بوڈے میوزیم سے 100کلوگرام کینڈین گولڈ کوائن چرانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اب تک اس چوری کی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی، تاہم بعد ازاں گرفتار ملزماں کو رہا کر دیا گیا۔ چرائے گئے قیمتی سکے برآمد نہیں کرائے جا سکے۔

ایک نظر اس پر بھی

نوازشریف کو کچھ ہوا تو عمران ذمہ دار ہوں گے :شہباز

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ حکومت نواز شریف کی صحت سے متعلق بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اوراہل خانہ کو انکی صحت سے متعلق کچھ آگاہ نہیں کیا جا رہا، نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم ہوں گے،نیازی صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ہم نئے صوبہ بنائیں گے، ...

وینزویلا:حکومت کے حامی اور مخالفین سڑکوں پر

وینزویلا کے دارالحکومت کارکاس میں حکومت کے حامی اور مخالفین سڑکوں پر نکل آئے۔ایک طرف صدر مادورو کی اپیل پر ہاتھوں میں وینزویلا کے پرچم لئے مظاہرین سڑکوں پر تھے تو دوسری طرف حزب اختلاف کے لیڈر ہوان گوآئیڈو کے حامی۔مادورو کے حامی شاویز کے انقلابِ بولیوار کی 20 ویں سالانہ یاد کے ...

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں تمام ای وی ایم ہیک کئے گئے تھے: امریکن سائبر ایکسپرٹ کا دعویٰ؛ کیا ای وی ایم نے بی جے پی کو اقتدار دلایا ؟

 امریکہ میں مقیم ایک سائبر ماہر سید شجاع نے دعویٰ کیا ہے کہ   ہندستان میں    سال 2014میں ہوئےعام انتخابات میں استعمال کی گئی  الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو  ہیک کیا گیا تھا۔ 543 سیٹوں والے اس الیکشن میں بی جے پی کو282 سیٹوں پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور سن 1984 کے بعد پہلی ...

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...