جرمنوں کی نظر میں ٹرمپ شمالی کوریا اور روس سے زیادہ بڑا خطرہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th December 2017, 9:03 PM | عالمی خبریں |

برلن 5دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک تازہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ جرمن شہری ملکی خارجہ پالیسی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شمالی کوریا، روس اور ترکی سے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ کیوربر فاؤنڈیشن کے تحت کرائے گئے اس سروے میں جرمن خارجہ پالیسی کے لیے چینلجز کے بارے میں جرمن عوام سے رائے لی گئی ہے۔ اس فہرست میں جرمن باشندوں نے مہاجرین کے بحران کی وجہ سے لاحق تشویش کو ملک کے لیے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ سروے کے مطابق 26 فیصد جرمن باشندوں نے سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کی اتنی بڑی تعداد کی ملک میں موجودگی اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ملکی صلاحیت کی بابت خدشات کا اظہار کیا۔انہوں نے پوٹن کو ٹرمپ سے بہتر اور اپنے اپنے ملک کے لیے مفید سمجھا ہے ۔ امریکا اور امریکی صدر ٹرمپ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر نمایاں ترین موضوع رہا، جس کی بابت 19 فیصد جرمن باشندوں نے اپنے خدشات ظاہر کیے۔ 17 فیصد باشندوں نے ترکی اور فقط دس فیصد جرمنوں نے شمالی کوریا کو خطرہ قرار دیا جب کہ روس کو ملک کے لیے خطرہ سمجھنے والے جرمن باشندوں کی تعداد صرف آٹھ فیصد تھی ۔جنوری میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف تو پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکا کے انخلا کا علان کر کے جرمنی میں تشویش کی لہر دوڑا دی اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام کی توثیق سے متعلق متعدد متنازعہ بیانات پر بھی جرمنی میں کئی طرح کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جرمنی کی تجارتی پالیسیوں اور نیٹو اتحاد کے لیے برلن حکومت کی کم مالی معاونت پر بھی تنقیدکی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان ان تمام موضوعات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔اسی تناظر میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل، جو عموما انتہائی محتاط انداز سے بیانات دیتی ہیں، کو یہ تو کہنے پر مجبور کر دیا کہ برلن حکومستقبل میں امریکا پر انحصار نہیں کر پائے گی۔ جرمن چانسلر کہہ چکی ہیں کہ یورپ کو اپنا مقدر خود اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا۔اکتوبر میں کرائے گئے اس سروے میں ایک ہزار پانچ بالغ جرمن شہریوں سے رائی لی گئی۔ اس سروے میں قریب 56 فیصد جرمن باشندوں نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو’خراب‘ یا ’بہت خراب‘ قرار دیا۔جرمن حکومت کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ جرمنی کو عالمی تنازعات میں زیادہ موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اس سروے کے مطابق 52 فیصد جرمن باشندوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کی جرمن پالیسی، یعنی جنگی تنازعات سے دوری، ہی پر کاربند رہنے کے حق میں رائے دی۔

ایک نظر اس پر بھی