کم سن بیٹے سے آن لائن جسم فروشی کروانے والی ماں کو سزائے قید

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th August 2018, 12:04 PM | عالمی خبریں |

برلن،9؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جرمنی کی ایک عدالت نے اپنے 9 سالہ بیٹے سے آن لائن جسم فروشی کروانے والی 48سالہ خاتون کو ساڑھے بارہ برس قید کی سزا سنائی ہے۔ اس جرمن شہری کے 39 سالہ پارٹنر کو بھی بارہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ان دونوں پرڈارک نیٹ کے ذریعے کم عمر بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والوں کے لیے کم سن بیٹے سے آن لائن جسم فروشی کروانے کا الزام ثابت ہو گیا تھا۔ ڈارک نیٹ انٹرنیٹ کا وہ حصہ ہے جہاں عام صارفین رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ پولس کے مطابق یہ ماں اور اس کا بوائے فرینڈ ایک پیڈوفائل سرکل کے مرکزی کردار بھی تھے۔اس جوڑے کا نام بیرِن ٹی اور کرسٹیان ایل بتایا گیا ہے اور دونوں نے عدالت میں یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے 9 سالہ بچے کو کئی مرد گاہکوں کے ساتھ سیکس پر مجبور کیا۔ علاوہ ازیں اس جوڑے نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس کم سن بچے کے جنسی استحصال میں وہ خود بھی ملوث تھے۔تفتیش کاروں نے بیرِن اور اس کے بوائے فرینڈ پر60 دفعات کے تحت مقدمہ چلایا تھا، جن میں اس جوڑے پر زبردستی جسم فروشی کروانے سے لے کر ریپ اور جسمانی اذیت پہنچانے تک بہت سے الزامات عائد کیے گئے تھے۔اس جوڑے پر الزام تھا کہ اس نے اس خاتون کے ایک 9 سالہ بیٹے کو دو برس کے دوران ہزاروں یورو لے کر کئی ملکی اور غیر ملکی مردوں کے حوالے کیا، جنہوں نے اس بچے کا ریپ اور استحصال کیا۔علاوہ ازیں کئی واقعات میں انہوں نے بچے کے ساتھ سیکس کے عمل کو فلمایا بھی اور بعد ازاں ایسی ویڈیوز آن لائن فروخت بھی کیں۔ کئی ویڈیوز میں بچے کے چہرے پر ماسک چڑھایا گیا تھا اور اسے باندھا بھی گیا تھاجرمن پولس نے ستمبر سن 2017 میں ایک نامعلوم شخص کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے بعد اس نیٹ ورک کا پتہ چلایا تھا۔9 سالہ بیٹے کی ماں اور اس کے بوائے فرینڈ سمیت 8 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ کرسٹیان ایل پہلے بھی بچوں کے جنسی استحصال کے جرم میں سزا یافتہ ہے۔اس مقدمے میں اب تک جرمنی سے ایک اور سوئٹزرلینڈ اور اسپین سے تعلق رکھنے والے 3 مردوں کو آٹھ تا دس برس قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

جرمنی سے افغان مہاجرین کا ایک اور گروہ ڈی پورٹ

جرمنی سے ڈی پورٹ کیے گئے چھیالیس مزید افغان مہاجرین وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ افغان حکام نے بتایا ہے کہ یہ مہاجرین ایک طیارے کے ذریعے بدھ کے دن کابل ایئر پورٹ پہنچے۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

مراکش میں گینگ ریپ کے مجرموں کی بریت کے خلاف عوام سراپا احتجاج

مراکش میں ایک پندرہ سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کیجرم میں قید مجرموں کی بریت اور رہائی کے خلاف ہزاروں افراد نے سڑکوں پراحتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے گینگ ریپ جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔