گوری لنکیش کے قاتل گرفتار ہوسکتے ہیں تو بھٹکل میں ہوئے قتل کے مجرم کیوں گرفتار نہیں ہوتے؟!

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 4th July 2018, 9:10 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

کاروار4؍جولائی (ایس او نیوز) صحافی اور دانشور گوری لنکیش کے قتل کے سلسلے میں ملزمین کی گرفتاریاں ہوتی جارہی ہیں اور اس کیس کی پیش رفت مرحلہ وار سامنے آتی جارہی ہے۔اسی طرح قلمکار اور دانشور کلبرگی کے قتل میں بھی دھیمی رفتار سے ہی سہی تفتیش آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن سی آئی ڈی اور سی بی آئی کی طرف سے ہر طرح کی تفتیش اور کوشش کے باوجود بھٹکل کے سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر یو چترنجن اور بی جے پی لیڈر تمپّا نائک کے قتل کو دسیوں برس گزرنے کے بعد بھی قاتلوں کاپتہ چل نہیں پایا ہے۔اور یہ معاملہ یونہی ٹھنڈے بستے میں پڑا ہوا ہے۔

فی الحال ہوناور کے پریش میستا کا معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے ، اس لئے بھٹکل کے یہ دو سابقہ معاملات کے سلسلے میں کوئی حرکت ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔لیکن ہر انتخاب کے موقع پر ایک خاص سیاسی پارٹی ان دونوں معاملوں کو اچھالنے کا موقع ضرور نکالتی ہے۔ پھر اس کے بعد چترنجن اور تمپّا نائک کے معاملات  پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

جب بھی کسی کا قتل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ہم لوگ ایسے افراد کی فہرست بناتے ہیں جو مقتول کو پسند نہ کرنے والوں میں شامل ہوتے ہیں۔لیکن گوری لنکیش کے قتل کا ملزم پرشو رام واگھ مورے گوری کے قتل کے مہینوں بعد بھی اسے ناپسند کرنے والوں کی فہرست سے باہر تھا۔قتل سے ایک ہفتہ پہلے ہی یو ٹیوب پر واگھ مورے کو گوری لنکیش کی پہچان کروائی گئی تھی اور اسے قتل کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ لیکن یہ شخص اس سے پہلے سندگی میں فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کی نیت سے پاکستانی جھنڈا لہرانے کے معاملے میں پولیس کے ہتھے چڑھ چکا تھا۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ واگھ مورے کی گوری لنکیش سے جان پہچان نہیں بھی تھی تب بھی یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ہر مرحلے پر اس کی رہنمائی بیرونی افراد کی جانب سے کی جارہی تھی۔ اسی مقام پر بھٹکل کے معاملات بھی یاد آتے ہیں۔

چترنجن اور تمپّا نائک کا قتل ہونے کے بعدجن لوگوں سے تفتیش کی گئی ہے اس فہرست میں ایک یا دو نہیں بلکہ درجنوں افراد شامل ہیں ۔ ان میں بہت سے افراد ایسے تھے جو مقتولوں کو ناپسند کیا کرتے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے پولیس تھانہ اور کچہری کا کبھی منھ نہیں دیکھا تھا مگر ان دو قتل کے معاملات کی تحقیقات کے لئے انہیں وہاں جانا پڑا ۔لیکن قاتلوں کا پتہ چل ہی نہیں سکا۔

عوام پوچھ رہے ہیں کہ بنگلورو جیسے بہت بڑے شہر میں پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیے گئے قتل کے ملزمان ایک کے بعد ایک گرفتار ہوتے جارہے ہیں، لیکن بھٹکل جیسے چھوٹے سے علاقے میں انجام دئے گئے قتل کے ان دو معاملات میں قاتلوں کا پتہ نہ چلنے کی وجوہات کیا ہیں؟ساحلی علاقے میں سیاسی پارٹیاں جن قتل کے معاملات سے فائدہ اٹھاتی ہیں ان میں سے صرف بھٹکل ہی کے معاملات کو چھوڑ کر بقیہ معاملوں میں ملزمین گرفتار کیے جاچکے ہیں۔تمام سیاسی پارٹیوں نے ریاست کی راج گدی سنبھالی مگر ان دو قتل کے ملزمین کو گرفتار کرنا تو دور کی بات ہے، اس کی عدالتی جانچ کی رپورٹ بھی پیش نہیں کی گئی ہے۔اور جان بوجھ کر بھٹکل کے ان دونوں معاملا ت سے ہاتھ اٹھا لینے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔(چترنجن کی آخری رسومات میں شامل ہونے اور ان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا وعدہ کرنے والے ایل کے ایڈوانی ہی اب ایک کونے میں سکڑ کر رہ گئے ہیں!)

بھٹکل میں باہر سے ملنے والی ہدایات کے مطابق جرائم انجام دینے کی وارداتیں کم نہیں ہیں۔ جانوروں کی سپلائی روکنے اور ناگ بن میں گائے کا گوشت پھینکنے جیسے معاملات میں پھنسنے والے اور مشتبہ افراد کی فہرست لمبی ہے۔ بہت سے نوجوان واگھ مورے جیسی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں۔ اور یہ سلسلہ یہاں 1993سے اب تک چل رہا ہے۔ عوام اس بات پر تعجب کا اظہار کررہے ہیں کہ بھٹکل میں ہوئے دو لیڈروں کے قتل سے کن کن لوگوں کو فائدہ پہنچا، کون کون لوگ اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، اُس زاوئے سے  چھان بین ہی نہیں کی گئی ہے اور  ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بناکر چھان بین کرنے کی وجہ سے ہی  حقائق پر سے پردہ نہیں اُٹھ رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کینرا پارلیمانی حلقہ : انتخابی غیر قانونی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنے 206سی سی ٹی وی کیمروں کی نصب کاری

اپریل مئی میں منعقد ہورہے لوک سبھاانتخابات کو صاف شفا ف رکھنے  کے لئے شہری اور گاؤں کی سطح پر پہلی مرتبہ 206سی سی ٹی وی کیمروں کی نصب کاری کرتے ہوئے انتخابات کی نگرانی کی جائے گی۔

مودی حکومت میں اننت کمارہیگڈے تنہا داغدار وزیر : ہندو لیڈر سورج سونی کا مرکزی وزیر پر کڑا وار

’وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت والی حکومت میں صرف اننت کمارہیگڈے ہیایک  داغدار وزیر ہیں، انہیں وزارت کا عہدہ دئیے جانےکی وجہ سے ہی ملک میں روزگار مواقع میں کمی ہوئی ہے۔ ہندو لیڈر سورج نائک سونی نے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے خلاف حملہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا بیان دیا۔

بھٹکل فائر بریگیڈ عملے نے کیا ٹریٹمنٹ پلانٹ سے ضائع ہونے والے پانی کومحفوظ کرنے کا انتظام

بھٹکل ساگر روڈ پرپینے کے پانی کی صفائی کے لئے قائم ٹریٹمنٹ پلانٹ سے ضائع ہونے والے پانی کا صحیح استعمال کرنے کے لئے بھٹکل فائر بریگیڈ عملے میں شامل رمیش شیٹی نے اپنے طور پر اسے محفوظ کرنے کا انتظام کردیا ہے۔

ہندو لیڈر سورج نائک سونی نے اننت کمار ہیگڈے کو کہا،مودی حکومت کا داغدار وزیر؛ اُس کی مخالفت میں کام کرنے کے لئے نوجوانوں کی ٹیم تیار

ضلع شمالی کینرا میں ایک نوجوان ہندو لیڈر کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والے کمٹہ کے سورج نائک سونی نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں چل رہی مرکزی حکومت میں اننت کمار ہیگڈے کی حیثیت ایک داغداروزیر کی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں ...

کرناٹک میں نوٹیفکیشن کے پہلے دن 6؍امیداروں کی نامزدگیاں داخل 

ریاست میں لوک سبھا الیکشن کے پہلے مرحلہ میں 14؍سیٹوں پر 18؍اپریل کو ہونے والے الیکشن کے لئے پرچہ نامزدگی کرنے کا آغاز ہوگیا ۔ پہلے دن چار حلقوں میں6؍ امیدواروں کی جانب سے 11؍ مزدگیاں داخل کئیں۔ یہ اطلاع ریاستی الیکشن افسر سنجیو کمار نے دی۔

بنگلورو کے تینوں پارلیمانی حلقوں میں ڈی سی پیز کی زیرنگرانی سخت بندوست لائسنس یافتہ 7؍ہزار ہتھیارات تحویل میں :پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار

پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار نے بتایا کہ بنگلور سنٹرل ،بنگلور نارتھ اور بنگلور ساؤتھ لوک سبھا حلقوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے پولیس افسروں کی نگرانی میں پولیس کا سخت بندوبست کیاگیا ہے۔

شمالی کینرا پارلیمانی حلقہ میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی کسرت : کیا ہیگڈے کو شکست دینا آسان ہوگا ؟

ضلع اترکنڑا  میں   کانگریسی لیڈران کی موجودہ حالت کچھ ایسی ہے جیسے بغیر رنگ روپ والے فن کار کی ہوتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے بالکل ایک دو دن پہلے تک الگ الگ تین گروہوں میں تقسیم ہوکر  من موجی میں مصروف ضلع کانگریسی لیڈران  مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق  ان کی بھاگم بھاگ کو دیکھیں ...

شمالی کینرا پارلیمانی سیٹ کو جے ڈی ایس کے حوالے کرنے پر کانگریسی لیڈران ناراض؛ کیا دیش پانڈے کا دائو اُلٹا پڑ گیا ؟

ایک طرف کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت نے ساجھے داری کے منصوبے پر عمل کرکے سیٹوں کے تقسیم کے فارمولے پر رضامند ہونے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف کچھ اضلاع سے کانگریس پارٹی کے کارکنان اور مقامی لیڈران میں بے اطمینانی کی ہوا چل پڑی ہے۔ جس میں ضلع اڈپی کے علاوہ شمالی کینرا ...

پاکستان پر فضائی حملے سے بی جے پی کے لئے پارلیمانی الیکشن کا راستہ ہوگیا آسان !  

پاکستان کے بہت ہی اندرونی علاقے میں موجود دہشت گردی کے اڈے پر ہندوستانی فضائی حملے سے بی جے پی کو راحت کی سانس لینے کا موقع ملا ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات جیتنے کی راہ آسان ہوگئی۔اور اب وہ سال2017میں یو پی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کی طرز پر درپیش لوک سبھا انتخابات جیتنے کے ...

ہندوستان میں اردو زبان کی موجودہ صورتحال، عدم دلچسپی کے اسباب اوران کا حل ۔۔۔۔ آز: ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

یہ آفتاب کی طرح روشن حقیقت ہے کہ اردو بھی ہندی، بنگلہ، تلگو، گجراتی، مراٹھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی طرح آزاد ہندوستان کی قومی اور دستوری زبان ہے جو دستورِ ہند کی آٹھویں شیڈول میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اردو ہندوستان کی زبان نہیں ہے۔ جو ایسا کہتا ہے اور ...

آننت کمار ہیگڈے۔ جو صرف ہندووادی ہونے کی اداکاری کرتا ہے ’کراولی منجاؤ‘کے چیف ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی کے قلم سے

اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے جو عین انتخابات کے موقعوں پر متنازعہ بیانات دے کر اخبارات کی سُرخیاں بٹورتے ہوئے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اُس کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو کے ایڈیٹر نے  اپنے اتوار کے ایڈیشن میں اپنے ...

کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع ...