بھٹکل میں کچرے کاڈھیراور گندگی۔ شہری ترقی کی پیشانی پر ایک بدنما داغ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th August 2018, 6:11 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 6؍اگست (ایس او نیوز) اگرضلع شمالی کینرا میں بیرونی ممالک کے رہنے و الے غیر رہائشی ہندوستانیوں کی بات کریں تو ان میں بھٹکل کے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اس لئے بیرونی ممالک کی شہری ترقیات اور وہاں کے صفائی ستھرائی کے نظام کو دیکھنے کے بعد وطن لو ٹ کر یہاں کے حالات سے موازنہ کرنا اور یہاں کی انتظامیہ کی  بد حالی دیکھ کر پریشان ہوجانا فطری بات ہے۔

پلاسٹک تھیلیوں کا استعمال: بھٹکل میں تعمیراتی سرگرمیوں کی اگر بات کی جائے تو بیرونی ممالک کے خوبصورت نقشوں اور ماڈلس کو سامنے رکھ کر یہاں سر اٹھانے والی عمارتوں کا دلکش نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔لیکن اگر شہر  کی صفائی اور کچرا نکاسی کے پہلو سے دیکھیں اور جائزہ لیں تو پھر مایوسی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔شہر میں پلاسٹک پر پابندی کے خلاف اعلانات اور چیخ و پکار تو بار بار سنی جاتی ہے لیکن عملاً اس پر پابندی کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک تھیلیوں کا استعمال بے روک ٹوک جاری ہے۔اور جہاں دیکھو وہاں کچرا پھینکنے کے لئے انہی پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال ہورہا ہے۔دراصل پلاسٹک کی تھیلیاں تیار کرنے والے کارخانے معمول کے مطابق جب اپنا مال مارکیٹ میں سپلائی کررہے ہیں تو پھر ظاہر بات ہے کہ اس کا استعمال بھی عوام کریں گے ہی۔ایسی صورت میں پابندی کے نتائج کیا نکلیں گے اس پر سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔

کچرا نکاسی کے مسائل: اب اگر کچرا نکاسی کے مسئلے کاجائزہ لیں توسوائے بھٹکل ٹاؤن میونسپالٹی کے پورے بھٹکل تعلقہ میں کچرا نکاسی ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے، اور اس تعلق سے کوئی عملی سوچ اور فکر بھی نہیں ہے۔جالی اور ہیبلے پنچایت میں کچرانکاسی اور اسے ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول انتظام ہے ہی نہیں۔ ان علاقوں سے عوام کچرا تھیلیوں میں بھر کر لاتے ہیں اور کسی سنسان سڑک پر یاکسی کونے اور موڑ پر خاموشی کے ساتھ پھینک کر رفو چکر ہوجاتے ہیں۔اس طرح سڑک کنارے لگنے والے کچرے کے ڈھیر لاوارث جانوروں اور آورہ کتوں کے لئے غذا فراہم کرنے کے مراکز بن جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان سڑکوں اور راستوں پر سے گزرنا عوام کے لئے انتہائی دشوار کن مسئلہ بن کر رہ جاتا ہے۔

عوامی بیداری مہم: کچھ عرصے پہلے بیرونی ممالک سے چھٹیوں میں بھٹکل آنے والے غیر رہائشی ہندوستانیوں نے اپنے ہاتھوں میں دستانے پہن کرسڑکوں کے کنارے لگے ہوئے ڈھیر خود اپنے ہاتھوں سے صاف کرنے کی مہم چلائی تھی تاکہ عوام کے اندر اپنے علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے کا شعور بیدار ہو اور دوسری طرف گرام پنچایت کے افسران کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوجائے۔ لیکن ڈھاک کے وہی تین پات کے مصداق چند ہی دنوں بعد پھر وہی صورتحال پیدا ہوگئی اور ان علاقوں میں دوبارہ کچر اپھینکنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

عوام کے بے حسی: حالانکہ ٹاؤن میونسپالٹی کے حدود میں کچرا نکاسی اور اس کو ٹھکانے کا انتظام کیا گیا ہے اور یہ سسٹم بہتر انداز میں کام کر رہا ہے۔لیکن یہاں اب بھی عوام کے اندر صفائی کے تعلق سے اپنی ذمہ داری کا احساس پوری طرح نہیں جاگا ہے۔ بلدیہ حدود میں بھی لوگوں کو سڑکوں کے کنارے پلاسٹک کی تھیلیوں میں کچرا یہاں وہاں پھینکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ جو کچرا نکاسی مرکز میں جمع کیا جاتا ہے اسے کھاد بنانے کے لئے بھی استعمال نہیں کیا جاتاہے۔ گیلا او ر سوکھا کچرا الگ کیے بغیر یونہی ڈھیر لگادی جاتی ہے۔ان سب مسائل کا حل کیا ہے اس طرف کوئی بھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہا ہے اس لئے پتہ نہیں کہ عوام کو اس سے چھٹکارہ کب نصیب ہوگا۔

بھٹکل ٹاؤن میونسپالٹی کی سینئر ہیلتھ انسپکٹر سوجیا سومن نے بتایا کہ عوام کے اندر سوکھا کچرا اور گیلا کچرا الگ الگ کرکے دینے کے بارے میں کوئی ذمہ داری کا احساس نہیں ہے۔ اس طرح کچرا الگ کرکے دینے سے اس کچرے کو کھاد میں تبدیل کرنے کاکام کیا جاسکتا ہے۔لیکن سب کچرا یک ساتھ ملاکر لوگ پھینک دیتے ہیں جس سے مشکل پیش آرہی ہے۔

گرام پنچایتوں کی ناکامی: بھٹکل تعلقہ کے گرام پنچایتوں کے تعلق سے بات کریں تودوایک گرام پنچایتوں کو چھوڑکر بقیہ تمام علاقوں میں کہیں بھی کچرا ٹھکانے لگانے کا مرکز موجود نہیں ہے۔ہیبلے پنچایت علاقے کی گندگی کے بارے میں توکچھ کہنا ہی بیکار ہے۔ عوام کے اندر صفائی ستھرائی اور ماحولیاتی آلودگی کے تعلق سے بے پروائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے گھروں کا کچرا پلاسٹک کی تھیلیوں میں بھر یا تو سڑکوں کے کنارے پھینک دیتے ہیں یا پھر پاس کے ندی نالوں میں اسے بہا دیتے ہیں۔اس پورا شہر کا شہر ہے کچرے کے ڈھیر میں بدل جاتا ہے۔اور آنے والے دنوں میں درپیش آلودگی اور بیماریوں کے خطرات کی نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔

سڑک کنارے استنجا خانے: شہر کو ایک طرف کچرا اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف سڑک کنارے پیشاب خانے دوسرا اہم مسئلہ ہیں۔یہاں لاکھوں روپے کی لاگت سے تحصیلدار آفس کی عمارت سے متصل ایک عام استنجا خانہ تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی تعمیر دس سال سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے، مگر اس کا افتتاح آج تک نہیں کیا گیا ہے اور وہ یونہی بند پڑا ہوا ہے۔بھٹکل بس اسٹانڈ کی عمارت پچھلے دنوں گرجانے کے بعد وہاں پر موجود استنجا خانہ استعمال کرنے کی سہولت بھی عوام کے لئے نہیں رہی ہے۔ شہر میں آنے والے مسافر بسوں سے اترتے ہی ادھر اُدھر پیشاب خانے تلاش کرتے ہیں اور پھر مجبور ہوکر سڑک کنارے ہی اپنا کام انجام دے کر چلتے بنتے ہیں۔

اس پس منظر میں کہا جاسکتا ہے کہ تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کے راہ پر گامزن شہر بھٹکل کی پیشانی پرکچرا نکاسی اور گندگی کے مسائل ایک بد نما داغ بن کر رہ گئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

 قطر  حلقہ ادب اسلامی کے زیراہتمام ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی صدارت میں  نعتیہ اجلاس ومشاعرہ کا انعقاد

بڑی مسرت کی بات ہے کہ حلقہء ادب اسلامی۔قطر نے 8 نومبر 2018م کی شب اپنا سالانہ نعتیہ اجلاس ومشاعرہ  ادار ہ ادب اسلامی ہند کے کل ہند صدر  ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی صدارت میں منعقد کیا، موصوف محترم، حلقے کی خصوصی دعوت پر دوحہ قطر تشریف لائے ہوے تھے، اجلاس میں ڈاکٹر رضوان رفیقی فلاحی ...

دوحہ قطر میں ’جدید ادبی تحریکات و نظریات پر ایک نظر‘توسیعی خطبہ کا انعقاد : ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی    کا پرمغز خطاب

جدید ادبی تحریکات و نظریات پر ایک نظر، اس عنوان کے تحت مؤرخہ 10 نومبر 2018م سنیچر کی شام حلقہء ادب اسلامی قطر نے ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی صاحب کی ہندوستان سے آمد کی مناسبت سے استفادہ کرتے ہوئے ایک توسیعی خطبہ کا اہتمام کیا، ڈاکٹر صاحب حلقہ کے سالانہ نعتیہ اجلاس و مشاعرہ کی صدارت کے ...

شادی میں شرکت مہنگی پڑی : 9خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ ؛آج بھی انسانیت سوز روایت زندہ ؟

گاؤں کے ذمہ دار کی اجازت کے بغیر شادی میں شریک ہونے پر 9خاندانوں کابائیکاٹ کرتے ہوئے انہیں گاؤں سے ہی باہر کئے جانے کا غیرانسانی واقعہ پیش آیاہے۔ سماجی مقاطعہ ، عدم تعاون جیسے ناسور آج بھی زندہ رہنے کی تازہ مثال ہے۔

گوا میں فارمولین کے بہانے بیرونی ریاستوں کی مچھلی پر پابندی : کیا  علاقائی تنگ نظری اور مقامی مفاد اہم وجہ ؟

ریاست گوا کی سرکار پڑوسی و بیرونی ریاستوں سے آنے والی مچھلیوں پر عائد کی گئی پابندی  کے نتیجےمیں گوا کے مچھلی شائقین  اور ہوٹل صنعت کاری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ فی الحال گوا میں  مطلوبہ مچھلی  سپلائی نہیں ہونےکی وجہ سے مچھلی  کی قیمتیں آسمان کو چھور ہی ہیں ۔اس کے علاوہ گوا کو ...

کاروار: اننت کمار دوستانہ تعلقات کے مالک تھے: مرکزی وزیر کے انتقال پر ضلع نگراں کار وزیر دیش پانڈے کا تعزیتی پیغام

اترکنڑا ضلع نگراں کار وزیر آر وی دیش پانڈے نے مرکزی وزیر برائے کھاد اور پارلیمانی معاملات اننت کمار کے انتقال پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

بھٹکل انجمن اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول میں مولانا آزاد کے یوم پیدائش پر ’’یوم ِ تعلیم ‘‘ کا انعقاد  

امام الہند ،بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش پر طلبا کو ان کی شخصیت سے متعارف کرانے اور وطن عزیز کی آزادی کے لئے ان کی طرف سے پیش کی گئی قربانیوں کو پیش کرنے کی غرض سے اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول بھٹکل میں مولانا آزاد لینگویج اینڈ لائبریری کلب کے ...