کرناٹک اسمبلی انتخابات: ناراض دعویداروں کو منالیا جائے گا: ڈاکٹر جی پرمیشور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 1:11 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 16؍اپریل(ایس او نیوز)کانگریس امیدواروں کے اعلان کے بعد بعض حلقوں میں ٹکٹ کے دعویداروں کی ناراضی کے متعلق کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ ناراض لیڈروں سے بات چیت کرکے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ آج اپنی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ ہر کانگریسی کا یہی مقصد ہے کہ پارٹی کو ریاست میں دوبارہ اقتدار پر لایا جائے۔اس کے لئے پارٹی نے تمام امکانات کا جائزہ لینے کے بعد ہی ٹکٹ کا اعلان کیا ہے۔ ٹکٹ ہر دعویدار کو دینا کسی پارٹی کے بس کی بات نہیں ، جو لوگ ٹکٹ سے محروم ہوئے ہیں ان کی ناراضی بھی فطری ہے، ان تمام کو طلب کرکے بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہر انتخاب میں تمام حلقوں سے متعدد دعویدار ٹکٹ کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ، ان تمام کو موقع نہیں دیا جاسکتا۔ جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملا ہے ، پارٹی انہیں متبادل مواقع ضرور فراہم کرے گی۔ انہوں نے ان خبروں کومسترد کردیا کہ پارٹی کے ٹکٹوں کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر بغاوت چھڑ گئی ہے، ٹکٹ سے محروم امیدواروں کی ناراضی کو فطری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آنے والے دو چار دنوں میں یہ ماحول اپنے آپ ٹھیک ہوجائے گا۔ چھ اسمبلی حلقوں کے لئے امیدواروں کا اعلان نہ کئے جانے کے بارے میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ تکنیکی وجوہات کے سبب یہ اعلان نہیں کیاجاسکا۔ایک دو دن میں یہ اعلان بھی کردیا جائے گا۔ شہر کے شانتی نگر اسمبلی حلقے سے این اے حارث کو ٹکٹ دئے جانے کی ڈاکٹر پرمیشور نے تصدیق کی اور کہاکہ ان کا نام بھی قطعی فہرست میں آجائے گا۔ صدر کانگریس راہل گاندھی کے دوبارہ کرناٹک دورے کے متعلق ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ جن آشیرواد یاترا کے پہلے مرحلے کو راہل گاندھی نے بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے، انتخابی سرگرمیاں تیز ہونے کے بعد 26؍ اپریل سے راہل گاندھی دوبارہ ریاست کا دورہ شروع کریں گے۔ اس روز وہ کورگ اور شمالی کینرا اضلاع کا دورہ کریں گے اس کے بعد 3اور 4مئی کو ریاست آئیں گے اور پھر انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں 8,9 اور 10 مئی کو ریاست میں مقیم رہیں گے، 10مئی کو بلگاوی میں ایک بہت بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرکے ریاست کی انتخابی مہم کوختم کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔