سعودی سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کرنے والا مجرم کون تھا 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st April 2018, 12:57 PM | خلیجی خبریں |

ریاض20 اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) سعودی عرب کے صوبے عسیر میں جمعرات کے روز ایک چیک پوسٹ پر فائرنگ کے واقعے میں چار سکیورٹی اہل کار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس مجرمانہ کارروائی میں شریک افراد میں 34 سالہ بندر الشہری بھی شامل تھا جو سعودی شہری دفاع کا اہل کار تھا۔ الشہری سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ عسیر صوبے کے دو ضلعوں المجاردہ اور بارق کے درمیان ہائی وے پر پیش آیا۔۔بندر الشہری جائے وقوع سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع تنومہ ضلعے میں اپنے والدین اور 11 بہن بھائیوں کے ساتھ سکونت پذیر تھا۔الشہری کے ایک عزیز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ غیر متوازن زندگی گزارنے کا عادی تھا۔ گذشتہ برس وہ ریاض میں ٹائر اسکریچنگ کے دوران ایک خطرناک حادثے کا شکار ہو کر دو ماہ تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہا۔ الشہری اکثر وبیشتر گھر سے اچانک غائب ہو جاتا اور پھر دو یا تین روز بعد واپس لوٹ آتا تھا۔ موسم گرما میں الشہری کے کزنز جب اس کے گھر قیام کے لیے جمع ہوتے تھے تو اس وقت بھی وہ زیادہ تر وقت اپنے دوستوں کے ساتھ گھر سے باہر گزارتا تھا۔سعودی سکیورٹی حکام نے جمعرات کے روز چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے بقیہ عناصر کے نام نہیں بتائے۔ فائرنگ کے واقعے میں تین سکیورٹی اہل کار فوری طور پر شہید ہو گئے تھے جب کہ چوتھے زخمی اہل کار نے بعد میں دم توڑا۔

ایک نظر اس پر بھی

دبئی میں شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام گیٹ دو گیدر؛مرحوم باشو بھائی کی خدمات کو خراج عقیدت

شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام البستان ریسیڈنس میں شیروریئن کا گیٹ ٹو گیدر منعقد کیا گیا۔ جس میں گرین ویلی اسکول شیرور کے بانی مرحوم جناب عبدالقادر عرف باشو بھائی کو ان کی بے لوث خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا

سعودی عرب : پانچ شہروں میں خواتین کے لیے ڈرائیونگ اسکولز قائم

سعودی عرب میں محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد بن عبداللہ البسامی کا کہنا ہے کہ مملکت میں خواتین کی ڈرائیونگ سے معلق تمام مطلوبہ امور کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض سعودی جامعات کے تعاون سے خواتین کے لیے کئی ماڈل ڈرائیونگ اسکولز بھی متعارف کروا ...

دبئی کے معروف ڈاکٹر اسماعیل قاضیا سے ایک ملاقات جن کے تینوں بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں

طبی میدان یعنی میڈیکل سے وابستگی کو بہت ہی معتبر اور مقدس سمجھا جاتاہے ، گرچہ جدید دورمیں مادیت کی وجہ سے اس میں کچھ کمی ضرور آئی ہے مگر آج بھی ایسے بے شمار طبیب ہیں جو عوام کی بھلائی کی خاطر ڈاکٹری پیشہ سے وابستہ رہتے ہوئے مخلصانہ خدمات انجام دے رہےہیں۔ مسلمانوں نے طب کے میدان ...