ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd January 2019, 11:37 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو،23؍جنوری (ایس او  نیوز) سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔کیونکہ یہ عمل کثرت پسند معاشرہ کو کثرت سے جوڑتا ہے۔ ملک کے تئیں آبادی کے رشتہ کو استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بروز منگل محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقدہ دستور ہند پر مباحثہ نامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آئین اور دستور جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے ،اس کو مؤثر طریقہ سے فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ رکاوٹیں کھڑی کرنے والی قوتوں اور جمہوری اداروں پر قدغن لگانے کی کوششوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔ آئین کی حفاظت آپسی تعاون اور بقائے باہمی سے ممکن ہے ۔ شہری کو اس کا رہائشی حق فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انتخابی عمل کو نہایت شفاف اورمؤثر بنانا چاہئے تاکہ مقامی ،ریاستی اور قومی سطح کے مسائل کے حل کیلئے راستہ ہموار ہوسکے ۔ ایسا انتخابی نظام لانے کی ضرورت ہے جس میں اکثریت اوراقلیت کے مابین کافرق عصبیت کی نذر نہ ہواور اکثریت اوراقلیت کا توازن بگڑنہ پائے ۔ حامد انصاری نے قدرتی وسائل کی تقسیم کاری،وفاقی نظام ،سماجی انصاف ،اختیار اورمالیات کی اتھارٹی ودیگر حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے خطاب کواختتام تک پہنچایا۔پونجی پتی اور دولت مندوں کی تجوریاں بھرنے اور سرمایہ کاروں کو ملک کی دولت لوٹنے کی راہ ہموار کرنے کیلئے دلت طبقات ، آدی واسیوں اور خواتین پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ اس تلخ حقیقت کااظہار سی پی ایم پالیٹ بیرو کی رکن براندا کرات نے کیا ۔ کرات نے کہا کہ قبائل اور آدی واسیوں کو اپنے رہائش پذیر مقامات میں بسیرا کرنے اور گزر معاش کیلئے جدوجہد کرنے کا خصوصی آئینی حق حاصل ہے ۔ اس کے باوجود ان کو خانہ بدوش کرنے کی منظم سازش رچی جارہی ہے ۔ سنسد میں خواتین کو ریزرویشن فراہم کرنے کا مسودہ 2009ء سے 2019ء تک ایوان میں پڑا ہوا ہے ۔ اس کو تنفیذی شکل دینے میں کسی بھی حکومت نے دلچسپی نہیں دکھائی ۔ اس طرح آدی واسیوں اور خواتین کو مسلسل اذیت سے گزارا جارہا ہے۔ انہوں نے زعفرانی ایجنڈہ پر کہا کہ آج سنگھ پریوار والے ذات ،دھرم ،غذا اور لباس کے نام سے عوام پر ہلہ بول رہے ہیں ۔ اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی پیشانی پر ملک دشمن ہونے کا لیبل چسپاں کیا جارہا ہے ۔ اس لئے عام عوام کو چاہئے کہ وہ بی جے پی کے سیاسی ایجنڈہ سے قبل از وقت آگہی و واقفیت حاصل کرلیں ورنہ بی جے پی کے رکن پارلیمان راکیش سنہا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اعلیٰ ذات میں موجود غریبوں کیلئے 10فی صد ریزرویشن جاری کرتے ہوئے بی جے پی نے ترقی پرور موقف اختیار کیا ہوا ہے ۔بی جے پی کے اس موقف کی مذمت چند تنظیموں کی مخالفت بے معنی و بے جا معلوم ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں غذا ،ذات اور دھرم کے نام سے ہورہے حملوں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ لیکن مغربی بنگال میں سی پی ایم کے اقتدار کی مدت میں اصول اور موقف کے نام پر ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ترنمول کانگریس انتظامیہ کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

بی جے پی کی مذمت: دریں اثناء بی جے پی کے ایس سی مورچہ کے قومی جنرل سکریٹری رامو اوررکن کونسل این روی کمار نے پروگرام کے انعقاد پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹمکور سدگنگا مٹھ کے سوامی کی فات کے غم میں ساراملک ڈوبا ہوا ہے ، ریاستی حکومت نے تین دنوں تک سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن ریاستی حکومت کے محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے دستور ہند پرمباحثہ نامی پروگرام کاانعقاد قابل مذمت ہے ۔ ریاستی حکومت نے تمام سرکاری پروگرام منسوخ کردےئے ہیں ۔ لیکن محکمہ سماجی بہبود نے پروگرام منعقد کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس محکمہ کا سوامی کے دیہانت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسی حرکت کہیں بھی کوئی بھی شخص قبول نہیں کرسکتا۔ انہوں نے سخت لہجہ میں کہا کہ سوگ وماتم کے موقع پر سابق نائب صد ر ہند حامد انصاری، سی پی ایم کی قائد برند ا کرات، کنہیا کمار ، اے آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کو پروگرام میں مد عو کرنا ناقابل فہم ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ پروگرام منصوبہ بند تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کینرا پارلیمانی امیدوار آنند اسنوٹیکر کی انتخابی مہم میں وزیراعلیٰ کمارا سوامی اور ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے کی شرکت

ضلع شمالی کینرا کی پارلیمانی سیٹ پرمرکزی وزیر اور بی جے پی امیدواراننت کمار ہیگڈے کے خلاف جنتادل ایس اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار آنند اسنوٹیکر کی تشہیری مہم میں اس وقت تیزی آگئی جب ریاستی وزیراعلیٰ کماراسوامی اور ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے نے مختلف مقامات پر انتخابی ...

ملک میں مجبور پی ایم چاہتی ہے کانگریس، کرناٹک میں ریلیوں میں پھرپاکستان کے حوالے سے مودی کاخطاب

معلق لوک سبھاکے تجزیئے کے درمیان اب بی جے پی نے واضح اکثریت مانگنی شروع کردی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو دعوی کیا کہ کانگریس ملک میں ایک مجبور وزیر اعظم بنوانا چاہتی ہے۔انہوں نے لوگوں سے مرکز میں قومی سلامتی پر زور دینے والی مضبوط حکومت بنوانے کی اپیل بھی کی۔شمالی ...

لوک سبھا انتخابات کا دوسرا مرحلہ ؛کشمیر سے کنیا کماری تک ہورہی ہے پولنگ؛ شام تک 61 فیصد پولنگ؛ جموں و کشمیر میں سب سے کم ووٹنگ

  لوک سبھا انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے صبح 7 بجے سے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ملک کی 12 ریاستوں کی 95 لوک سبھا سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، جس کے لئے 1.78 لاکھ پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ اس میں 1629 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے دوران اتر پردیش کی 8، مغربی ...

ہیمنت کرکرے پرسادھوی کے نازیبا تبصرے پر کانگریس نے بی جےپی پر سادھا نشانہ ؛ ملک سے معافی مانگنے وزیراعظم مودی سے کیا مطالبہ

کانگریس نے بھوپال لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کی امیدوار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی طرف سے شہید ہیمنت کرکرے پر کئے گئے نازیبا تبصرے کو لے کر بی جے پی پر سخت نشانہ سادھا ہے اور  کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کو چاہئے کہ وہ ملک سے معافی مانگیں اور پرگیہ کے خلاف کارروائی کریں۔

سادھوی پرگیہ پر عدالت کو گمراہ کرکے ضمانت حاصل کرنے کا الزام؛ جمعیۃ العلما نے داخل کی عدالت میں عرضداشت

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے الیکشن لڑنے کے خلاف ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں جمعرات کو  بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل شاہد ندیم نے پانچ صفحات پر مشتمل عرضداشت داخل کی جسے ...

سادھوی پرگیہ کا شہید ہیمنت کرکرے پر نازیبا تبصرہ، کہا ؛ میری ’بددعا‘ سے ہوا تھا کرکرے کا خاتمہ

بی جےپی نے بھوپال پارلیمانی حلقہ سے جس  سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو  اپنا اُمیدوار بناکر میدان میں اُتارا ہے ، اُس نے  دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے  شہید ہونے والے  مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کے خلاف نازیبا تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ  اس کی بددُعا سے ...

لوک سبھا انتخابات ؛ کیا اُترپردیش میں پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں بھی مسلم-دلت اتحاد سے بی جے پی کا قلعہ ڈانواڈول ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابت کے پہلے مرحلے کی طرح اب دوسرے مرحلے میں بھی دلت مسلم اتحاد سے  بی جے پی کا قلعہ ڈانواڈول ہوتا نظر آرہا ہے۔ سمجھا جارہا ہے کہ اُترپردیش میں  جمعرات کو ہوئی پولنگ کے بعد رائے دہندگان کا جو رحجان سامنے آیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے  بی جے پی کے لئے واپسی کی اُمیدیں دم ...