گجرات کے سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ 22 سال قدیم کیس میں گرفتار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th September 2018, 12:47 PM | ملکی خبریں |

احمدآباد 6 ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو 22 سال قبل ایک شخص کو مبینہ طور پر منشیات رکھنے سے کے الزام میں گرفتار کرنے سے متعلق ایک کیس کے ضمن میں گجرات سی آئی ڈی نے آج گرفتار کرلیا۔ کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے ڈائرکٹر جنرل پولیس اشیش بھاٹیہ نے کہا کہ سنجیو بھٹ اور دیگر سات افراد کو اور کیس میں پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے جن میں چند سابق پولیس ملازمین بھی شامل ہیں جو ماضی میں بناس کانٹھا پولیس اسٹیشن سے منسلک تھے۔ سنجیو بھٹ 1996ء میں بناس کانٹھا ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس تھے۔ تفصیلات کے مطابق بھٹ کی قیادت میں بناس کانٹھا پولیس نے 1996ء میں ایک وکیل سومر سنگھ راج پروہت کو تقریباً ایک کیلو منشیات قبضہ میں رکھنے کے الزام کے تحت گرفتار کیا تھا۔ بناس کانٹھا پولیس نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ اس ضلع کے پالن پور ٹاؤن کی ایک ہوٹل کے ایک کمرہ سے جو راج پروہت کے زیرقبضہ تھا، یہ منشیات دستیاب ہوئے تھے۔ تاہم راجستھان پولیس کی تحقیقات سے انکشاف ہوا تھا کہ راج پروہت کو بناس کانٹھا پولیس نے جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا تھا کہ بناس کانٹھا پولیس نے راج پروہت کا راجستھان کے پالی ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا تھا۔ گجرات ہائیکورٹ نے اس سال جون میں اس مقدمہ کی تحقیقات سی آئی ڈی کے تفویض کیا تھا۔ چنانچہ سی آئی ڈی نے بھٹ کے خلاف عائد الزامات میں مواد پاتے ہوئے انہیں گرفتار کیا۔ مرکزی وزارت امور داخلہ نے بھٹ کو 2015ء میں خدمات سے ’’غیرمجاز غیاب‘‘ کی بنیاد پر برطرف کردیا تھا۔ سنجیو بھٹ بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی کے کٹر مخالف ہیں۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر وزیراعظم اور ان کی پارٹی بی جے پی کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا کرتے ہیں۔ بھٹ نے 25 اگست سے غیرمعینہ مدت کا برت شروع کرنے والے پاٹیدار لیڈر ہاردک ڈٹیل سے گذشتہ ہفتہ ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ بی جے پی کی زیرحکمرانی احمدآباد میونسپل کارپوریشن نے حال ہی میں سنجیو بھٹ کی رہائش گاہ بھی منہدم کردیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

آر ایس ایس ’سونے کی چڑیا‘ پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، تعلیمی ادارے، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن سب پر آہستہ آہستہ قبضہ ہورہا ہے؛ راہول گاندھی کا خطاب

کانگریس صدر راہل گاندھی نے دہلی کے سری فورٹ میں ملک کے مختلف حصوں کے ماہرین تعلیم سے بات چیت کرتے ہوئے  کہا کہ میں یہاں استاد کے طور پر نہیں آیا ہوں، بلکہ طالب علم کی حیثیت سے آیا ہوں تاکہ آپ کے خیالات کو سن سکوں۔ ملک کے تعلیمی نظام کے سلسلے میں میری بھی سوچ ہے، لیکن میں تعلیمی ...

رافیل تنازعہ بن گیا مودی حکومت کے گلے کی ہڈی؛ تیجسوی یادو نے مانگا مودی کا استعفیٰ؛ ڈی ایم کے نے کی جانچ کی مانگ؛ عاپ لیڈر نے رافیل ڈیل کو بتایا بڑا گھوٹالہ

رافیل طیارے کے معاملے پر  فرانس کے سابق صدراولاند کے بیان کے بعد رافیل معاہدہ اب مودی حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ فرانس کے سابق صدر اولاند نے جیسے ہی جھوٹ کا پردہ فاش کیا کہ   وزیراعظم نریندر مودی کے اصرار پر انل امبانی کی کمپنی کو کنٹریکٹ دیا گیا،  مودی حکومت بیک فٹ پر ...

صحافیوں پر بڑھتے حملوں پرسخت تشویش؛ نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں تیس سے زائدتنظیموں کی شرکت

صحافت اور انسانی حقوق سے وابستہ 30سے زائد تنظیموں نے مودی حکومت کے دور اقتدار میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ان کے قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے جمہوریت اور اظہار کی آزادی کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔

رافیل بد عنوانی معاملہ:فرانسوا کے بیان سے مرکزی سرکار کو گھیرنے کی اپوزیشن کی تیاری

کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن پارٹیوں نے رافیل سودا معمالے میں فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند کے بیان کی بنیاد پر مرکزی سرکار کو گھیرنے کی نئے سرے سے تیاری شروع کر دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس کے لئے کانگریس نے پہل کی ہے ۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کئی اپوزیشن لیڈروں سے بات کی ہے ۔

پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات سے فرحت خان باعزت بری؛ تحقیقاتی دستوں کو منھ کی کھانی پڑی

سماج وادی پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ  چودھری منور سلیم کے ذاتی معاون فرحت خان کو آج دہلی کی خصوصی عدالت نے پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے جیسے سنگین الزامات سے باعزت بری کر دیا ، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) ...

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ویمنس ونگ نے کی تین طلاق ارڈیننس کی سخت مخالفت؛ کہا،یہ ہندو ووٹرس کو خوش کرنے کی کوشش ہے

بی جے پی حکومت کی جانب سے تین طلاق پر عجلت میں آرڈیننس کو منظورکرناغیر دستوری،عصبیت و عداوت پر مبنی اقلیت کے خلاف سیاسی چال ہے۔تین طلاق دینے والے شوہر کو تعزیرات ہند کے تحت سزاء کامستحق قراردینا سراسر غیر انسانی اور ظالمانہ اقدام ہے۔ حکومت نے تین طلاق کے خلاف قانون سازی کے وقت ...