جسٹس لویا کو زہر دیا گیا، ’کیراوان‘ کا نیا انکشاف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th February 2018, 1:26 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی12فروری(ایجنسی)ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج برج گوپال ہرکشن لویا کی مشتبہ حالت میں ہوئی موت کے سلسلے میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ جج لویا کی موت سے متعلق میڈیکل رپورٹ کی گہرائی سے جانچ کے بعد پتہ چلاہے کہ لویا کی موت غالباً سر کو گہری چوٹ پہنچنے سے ہوئی ہوگی یا پھر انھیں زہر دیا گیا ہوگا۔ یہ دعویٰ جج لویا کی موت پر اہم انکشاف کرنے والی میگزین ’کیراوان‘ میں کیا گیا ہے۔ ’جسٹس لویا فرضی انکانٹر میں مارے گئے سہراب الدین معاملہ کی سماعت کررہے تھے جس میں اہم ملزم بی جے پی قومی صدر امیت شاہ ہیں۔کیراوان‘ کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان کے سرفہرست فارنسک ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر آر کے شرما نے جج لویا کی موت سے متعلق میڈیکل رپورٹ کی جانچ کرنے کے بعد جانچ ایجنسیوں کے اس دعویٰ کو خارج کر دیا ہے کہ لویا کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی تھی۔

ڈاکٹر آر کے شرما کے مطابق میڈیکل رپورٹس کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ یا تو لویا کے دماغ کو کوئی چوٹ پہنچی ہو یا پھر انھیں زہر دیا گیا ہو۔ ڈاکٹر شرما ایمس میں فورنسک میڈیسن اور ٹاکسیکولوجی محکمہ کے سربراہ رہ چکے ہیں اور 22 سالوں تک انڈین ایسو سی ایشن آف میڈیکو۔لیگل ایکسپرٹس کے سربراہ رہے ہیں۔ ڈاکٹر شرما نے لویا کی پوسٹ مارٹم اور ہسٹو پیتھولوجی رپورٹ، جس میں لویا کے وِسرا کا نمونہ بھی شامل تھا، کے کیمیکل انالیسس کے نتائج کی جانچ کے بعد اپنی رائے ظاہر کی۔ ان کی رائے مہاراشٹر محکمہ خفیہ کے اس نتیجہ سے مختلف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لویا کی موت پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر شرما نے کہا ’’ہسٹو پیتھولوجی رپورٹ میں مایوکارڈیل انفارکشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے نتیجوں میں دل کے دورے کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔ ان میں تبدیلی ضرور ظاہر کئے گئے ہیں لیکن یہ دل کا دورہ نہیں ہے۔‘‘

ڈاکٹر شرما نے اپنی بات کو مزید تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ ’’پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی رگوں میں کیلسی فکیشن پایا گیا ہے۔ کیلسی فکیشن جہاں پایا جاتا ہے وہاں دل کا دورہ نہیں پڑ سکتا۔ رگوں میں اگر کیلشیم جمع ہوجائے تو وہ فشار خون کو کبھی رخنہ انداز نہیں کرتی۔‘‘ لویا کی موت سے متعلق بھی ڈاکٹر شرما نے کچھ سوال کھڑے کئے ہیں۔ سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ لویا نے رات تقریباً 4 بجے طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی تھی اور انھیں صبح 6.15 بجے مردہ قرار دیا گیا۔ اس پر ڈاکٹر شرما کہتے ہیں کہ ’’اس کا مطلب ہوا کہ طبیعت خراب ہونے اور موت کے درمیان دو گھنٹے کا فرق ہے۔ دل کے دورہ کے آثار ظاہر ہونے کے بعد اگر کوئی 30 منٹ سے زیادہ زندہ رہ جائے تو دل میں واضح تبدیلی نظر آنے لگتی ہے۔ لیکن یہاں ایسی کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر شرما کے مطابق جج لویا کی میڈیکل رپورٹ میں ڈیورا کو جما ہوا پایا گیا ہے۔ یہ دماغ کی چاروں طرف موجود سب سے باہری سطح ہوتی ہے۔ یہ کسی صدمے کی حالت میں متاثر ہو جاتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دماغ پر کسی قسم کی چوٹ، یعنی کوئی جسمانی حملہ ہوا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ لویا کی بہن ڈاکٹر انورادھا بیانی نے بتایا تھا کہ انھوں نے جب موت کے بعد پہلی بار اپنے بھائی کی لاش دیکھی تھی تو اس وقت ان کی گردن اور شرٹ پر پیچھے کی جانب خون کے نشان تھے۔‘‘

سپریم کورٹ میں مہاراشٹر حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات میں لویا کے نام سے ناگپور کے میٹڈرینا اسپتال کا ایک بل بھی ہے جہاں انھیں مردہ قرار دیا گیا تھا۔ میٹریڈنا کے افسران کا جہاں ایک طرف کہنا ہے کہ لویا کو دل کے دورے کی شکایت پر وہاں لایا گیا تھا وہیں اسپتال میں بل میں ’نیورو سرجری‘ کا تذکرہ ہے۔ ڈاکٹر شرما کا کہنا ہے کہ یہ بات حیران کرنے والی ہے کہ ’’آخر کار پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈیورا میں رکاوٹ آنے کی وجہ کیوں نہیں درج کی گئی‘‘۔ شرما کہتے ہیں ’’اس بات کا امکان ہے کہ انھیں زہر دیا گیا ہو۔ ان کے ہر ایک عضو میں رکاوٹ پائی گئی ہے۔‘‘

لویا کے وِسرا کے کیمیکل اینالیسس کا نتیجہ ان کی موت کے 50 دن بعد آیا تھا جس میں کسی زہر کا تذکرہ نہیں تھا۔ ناگپور کے مقامی فورنسک سائنس لیب میں کئے گئے اس جانچ پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لویا کی موت کے کل 36 دن بعد 5 جنوری 2015 کو شروع ہوئی وِسرا جانچ 14 دن بعد 19 جنوری 2015 کو مکمل ہوئی۔ شرما کا کہنا ہے کہ عام طور سے ایک یا دو دن میں ہونے والی اس جانچ میں اتنا طویل عرصہ کیوں لگا؟

اس کے علاوہ اس پورے معاملے میں وِسرا نمونہ کن کن ہاتھوں سے ہو کر گزرا، اس سلسلے میں بھی سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جانچ کے لئے بھیجی گئی وِسرا کے ساتھ منسلک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی فرق ہے جو کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ومت کی ممکنہ وجہ ’کورونری آرٹری انسفیشینسی‘ بتائی گئی ہے، جب کہ وِسرا کی رپورٹ میں ’’اے کیس آف سڈین ڈیتھ‘‘ کہا گیا ہے۔

سی بی آئی کے مشیر رہ چکے ڈاکٹر آر کے شرما فورنسک میڈیکو۔لیگل موضوعات پر پانچ کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ لویا کی موت کے دستاویزوں کا مطالعہ کرنے کے بعد شرما نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ تو ہونی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ان دستاویزات میں جو کچھ دیکھنے کو ملتے ہیں، وہ ایک جانچ کو لازمی بناتے ہیں۔‘

ایک نظر اس پر بھی

اے ایم یوریزرویشن: مولانا ولی رحمانی نے پیش کیا 50-50 کا فارمولہ، اولڈ بوائزنے ٹھکرائی تجویز

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق  بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یوکو لے کرپولرائزیشن کی سیاست کی جارہی ہے۔ اس پرپرسنل لا بورڈ نے 50 فیصد مسلم اور 50 فیصد دلت ریزرویشن  کی تجویز پیش کردی۔

چنئی میں 12سالہ بچی کی 7 مہینوں تک عصمت دری ؛ 17 گرفتار؛ عدالت میں وکیلوں نے کیا ملزموں پر حملہ؛ کوئی نہیں لڑے گا کیس

چنئی میں 11سال کی بچی کی مبینہ طور سے عصمت دری کرنے کے الزام میں پولیس نے18  لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اپارٹمنٹ میں سات مہینوں تک بچی کا جنسی استحصال کیا۔ گرفتار ملزموں کو منگل کو کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں مشتعل ہجوم نے ملزموں کی پٹائی کردی۔