کرشنا طاس میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک،کئی ذخائر سے پانی چھوڑا گیا، 60 افراد جزائر میں پھنس گئے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 22nd September 2017, 11:00 PM | ریاستی خبریں |

گلبرگی، 22ستمبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) کرناٹک کے کرشنا طاس میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے، کیونکہ باگل کوٹ ضلع کے المائٹی ریزروائر میں پانی کاشدید بہاؤ دیکھا جا رہا ہے ۔ ریزروائر کے نچلے علاقوں میں شدید پانی کے چھوڑنے کے سبب دریا کنارے واقع مواضعات میں سیلاب کا خطرہ بنا ہوا ہے ۔کرشنا بھاگیہ جل نگم لمیٹیڈ (کے بی جے این ایل) کے ذرائع نے بتایا کہ ریزروائر میں پانی کا بہاؤ 99,822 کیوزک رہا ہے ۔ حکام کی جانب سے 519.570 میٹر تک پانی کے ذخیرہ کو برقرار رکھا اور ریزروائر سے 167,00 کیوزک پانی چھوڑا گیا۔ اسی طرح المائٹی ریزروائر میں نچلے حصہ کے نارائن پور ڈیم میں بھی پانی کا شدید بہاؤ دیکھا گیا۔ حکام نے اس کے تمام 15 دروازے کھولتے ہوئے 117,914 کیوزک پانی چھوڑا۔ اس میں 127 ہزار کیوزک پانی کا بہاؤ دیکھا گیا۔ رائچور سے موصولہ اطلاع کے مطابق 15 خاندانوں کے 60 افراد کل شب سے لنگا سگور تعلقہ کے کادادل ہلی' ماگراہلی اور اومکار ہلی جزائر پھنسے ہوئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ ان سے مسلسل ربط میں ہے اور بچاؤ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ محصور افراد آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں سے اپنے بکروں کو خطرہ کے پیش نظر اپنے متعلقہ علاقوں کو واپس ہونا نہیں چاہتے ۔ محکمہ ریونیو کے حکام نے چوکسی کا انتباہ دیا اور دریا کی صورتحال پر انتظامیہ نظر بنائے ہوئے ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

ہبلی :پٹاخوں سے گھر میں لگی آگ ، کئی اشیاء جل کر خاک : کوئی جانی نقصان نہیں

دیوالی کے موقع پر پٹاخوں کو پھوڑنے کو لےکر سرکاری و غیر سرکاری طورپر احتیاطی تدابیر اختیار کرنےکے سلسلےمیں کئی احکامات جاری کئے جاتےہیں اور رہنمائی کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجو د ہر سال پٹاخوں سے جانیں تلف ہونے  بچوں کی بینانی متاثر ہونے   پر سماجی ذمہ داران تشویش کا اظہار ...

وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار کا اعلان نہ ہونے کی کانگریس کی انتخابی امید پر کوئی اثر نہیں ہوگا: جی پرمیشور

کرناٹک ریاستی کانگریس نے آج یہاں کہا کہ اسمبلی انتخابوں سے پہلے ریاست میں وزیر اعلیٰ عہدہ کے امید وار کے نام کا اعلان نہیں کئے جانے سے پارٹی کی امیدوں پر اس کاکوئی اثرنہیں پڑے گا۔