قرض معافی کے نام پر کسانوں کے ساتھ بھدا مذاق،سی پی ایم مودی اوریوگی سرکارکے خلاف احتجاج شروع کرے گی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 11:13 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم)سے منسلک آل انڈیا کسان مہا سبھا نے اتر پردیش کے کسانوں کے ساتھ قرض معافی کے نام پر بھدا مذاق کیے جانے کا حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کسانوں کی بدتر ہوتی جا رہی حالت اور بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کے خلاف 18ستمبرکویہاں آل انڈیا کانفرنس منعقد کی جائیگی جس کے ذریعہ 'جن ایکتا-جن ادھیکارتحریک کی شروعات کی جائے گی۔مہا سبھا کے جنرل سکریٹری اور سابق ممبر پارلیمنٹ حنان ملا اور نائب صدر این کے شکلا نے آج یہاں صحافیوں کو بتایا کہ کانفرنس میں تقریباََ100تنظیمیں شامل ہوں گی اور وہ مودی حکومت دور اقتدار میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معیشت میں روز بروز آتی گراوٹ کے علاوہ گوری لنکیش جیسے صحافیوں کے قتل اور کسانوں کی خودکشی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے بعدراجدھانی میں 9نومبر کو پارلیمنٹ کے سامنے تین دن کا دھرنا بھی دیا جائیگا۔

ایک نظر اس پر بھی

بائیں بازو پارٹیاں 6 ڈسمبر کو ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی

  ایودھیا میں 6 ڈسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہادت واقعہ کے خلاف بائیں بازو پارٹیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابری مسجد شہادت کی 25 ویں برسی کے ان تمام بائیں بازو پارٹیاں ملک بھر میں ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی۔

اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا:ملائم سنگھ یادو

سماج وادی پارٹی (ایس پی)کے بانی ملائم سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کو آج بھی مسلمانوں کی حمایت حاصل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لئے تھے۔