سعودی عربیہ: اسکولوں کے فائنل امتحانات کے بعدبڑی تعدادمیں ہوگا طلباء کا خروج؛ نئی پالیسی سے کئی فیملی بھی وطن واپس جانے پر مجبور

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th March 2018, 9:16 PM | خلیجی خبریں |

جدہ 13؍مارچ(ایس او نیوز) سعودی عربیہ میں خارجی باشندوں کے تعلق سے اپنائی گئی جدید پالیسی نے ایک طرف ملازمت اور دوسری طرف تجارت پیشہ افراد کے لئے بے انتہا مشکلات اور مصائب کاسلسلہ شروع کردیا ہے۔ سب سے بڑھ کر متاثر ہونے والے افراد وہ ہیں جو اپنی فیمیلی کے ساتھ سعودی عربیہ کے مختلف شہروں میں آباد ہیں۔ ویزا کے نئے قوانین ،بڑھی ہوئی قیمتوں کے علاوہ عمارتوں کے نئے قوانین، اجیر فیس اور فیمیلی کے لئے dependent's feeکے نام پر جو ماہانہ ٹیکس لگایا گیا ہے اس سے پریشان ہوکر اب تمام بیرونی ممالک کے باشندے سعودی سے انخلاء یا اپنے بیوی بچوں کو اپنے اپنے وطن واپس بھیجنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

 ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی اس نئی پالیسی سے متاثرہونے والوں میں ایک بہت بڑا شعبہ طالب علموں کا ہے، جن کی بڑی تعداد فائنل امتحانات کے بعد اپنے اپنے ملکوں کی طرف واپس لوٹے گی۔ لیکن یہ طلباء برادری کے لئے ایک دکھ اور رنج کا موڑ بن گیا ہے کیونکہ ان میں سے کثیر تعداد وہ ہے جو یہیں سعودی شہروں میں پیداہوئے، یہیں پلے بڑھے اور اسکولوں میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے آئے ہیں۔ایسی صورت میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے اپنے ہم جماعت ساتھیوں اور سعودی عربیہ کے ماحول کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہنا بے حد درد اور کرب انگیز لمحہ بن گیا ہے۔ سعودی عرب سے یہ خروج ان کے لئے ذہنی اور جذباتی حیثیت سے ایک صدمہ بن گیا ہے، جس کے بارے میں و ہ روزانہ اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں سے گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ 

یہاں کے کمیونٹی اسکولوں میں فائنل امتحانات مارچ میں اور نجی اسکولوں میں یہ امتحانات مئی اور جون میں اختتام پزیر ہورہے ہیں۔ اور ان تمام اسکولوں کو طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد کے اخراج کا مرحلہ درپیش ہے۔جدہ میں موجود ایک بہت مشہور اسکول کے ذمہ دار نے بتایا کہ ’’کچھ جماعتوں میں طلباء کی نصف سے زائد تعداد نے اطلاع دی ہے کہ وہ لوگ امتحانات کے بعد اسکول سے خارج ہونے والے ہیں۔‘‘کچھ اسکول والے والدین سے یہ جانکاری حاصل کررہے ہیں کہ کتنے لوگ ان کے اسکول میں اپنی تعلیم جاری رکھنے اور کتنے لوگ اسکولوں سے نکل جانے والے ہیں۔ایک اور بڑے اسکول کے ذمہ دار نے بتایا کہ ہم اسکول کی عمارتوں کابہت بھاری کرایہ اداکرتے ہیں، اس لئے ہمیں آئندہ اپنے اسکولوں میں باقی رہنے والی طلباء کی تعداد کے بارے میں تیقن کرلینا ضروری ہوگیا ہے۔ چونکہ نئے داخلوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے اور اسکولوں کے اخراجات بڑھتے جارہے ہیں، اس لئے امکانی طور پر کئی اسکولوں کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کچھ اسکول والے ماہانہ اسکول فیس کے بجائے یکمشت رقم طلب کررہے ہیں اور کچھ اسکول والے بچوں کے خروج کو روکنے کے لئے ترغیبی سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔دمام سے ملی ایک اطلاع کے مطابق وہاں پر موجود ایک مشہور اسکول نے پہلے سے موجود طلبا ء کے اخراج اور نئے داخلوں میں کمی کے پس منظر میں نیا داخلہ لینے والوں کے لئے اپنی ماہانہ فیس ایک سو ریال سے بڑھاکر چار سو ریال ماہانہ کردی ہے۔

لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ ایک دو مہینوں کے بعد سعودی عرب کے نئے قوانین اور خارجیوں کے تعلق سے نئی پالیسی سے جو شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوگا وہ تعلیم گاہیں ہونگی جن کی سرگرمیوں پر بالواسطہ ایسامنفی اثر پڑے گاکہ بہت سارے تعلیمی ادارے شاید ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے۔ اور ان تعلیمی اداروں کی وجہ سے دوستی اوریگانگت میں بندھے ہوئے ہزاروں طلباء اپنے ذہنوں میں یادوں کا البم سجائے ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

دبئی میں شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام گیٹ دو گیدر؛مرحوم باشو بھائی کی خدمات کو خراج عقیدت

شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام البستان ریسیڈنس میں شیروریئن کا گیٹ ٹو گیدر منعقد کیا گیا۔ جس میں گرین ویلی اسکول شیرور کے بانی مرحوم جناب عبدالقادر عرف باشو بھائی کو ان کی بے لوث خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا

سعودی عرب : پانچ شہروں میں خواتین کے لیے ڈرائیونگ اسکولز قائم

سعودی عرب میں محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد بن عبداللہ البسامی کا کہنا ہے کہ مملکت میں خواتین کی ڈرائیونگ سے معلق تمام مطلوبہ امور کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض سعودی جامعات کے تعاون سے خواتین کے لیے کئی ماڈل ڈرائیونگ اسکولز بھی متعارف کروا ...