حلب(شام) کا سقوط اور خاموش تماشائی بنی دنیا ....... مھدی حسن عینی کے قلم سے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th December 2016, 4:41 PM | اسپیشل رپورٹس |

مغیبات و بشارتوں کے ملک سیریا میں جب سےبشارالاسدکے ہاتھ میں زمام اقتدار آیا ہے.. اس نےتاتاریوں کےطرز پر سنیوں کاقتل عام،ان کی آبادیوں کوتاراج کرکےانکے بچوں وعورتوں پرنیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے پورےسیریامیں سنیوں  پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے، کئی لاکھ لوگ ہجرت کرگئے، جو رہ رہے ہیں وہ درختوں کے پتےاور کتے بلی کھانے پر مجبور ہیں، مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو اس میں یہ ضرور لکھے گا کہ ملک شام کی عوام پر بشار نے وہ ظلم ڈھائے جو آج تک  کسی کافر نےبھی مسلمانوں پرنہیں ڈھائے لیکن افسوس اس بات پر ھیکہ امت مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی یہ سب کچھ دیکھتی رہی ہے۔ کوئی ان مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونے والا تو دور ان کے لئے آواز بلند کرنے والا بھی موجود نہیں۔سب زندہ لاشیں ہیں، عالم اسلام کا سب سے بڑے ڈکٹیٹربشار نےاسلام کو بھی نہیں چھوڑا قرآن کریم میں تحریف کرمحرف شدہ قرآن شائع کروایا، احادیث رسول میں کتربیونت کی اوریہ سب مسلمانوں وعرب کے ازلی دشمن ایران واسرائیل کے ہمہ جہت تعاون سےہورہا ہے، امن کےٹھیکیداروں کا عالمی ادارہ"اقوام متحدہ "جو کہ دراصل لٹیروں کی ایک مہذب ترین تنظیم ہے، جس کااساسی مقصد متحد ہوکر اسلام وعالم اسلام پر یلغار کرنا ہے وہ روز اول سے ان تمام عالمی جرائم پرساکت ہے، جبکہ اس بات کے پختہ شواہد ہیں کہ بشارالاسد نےسنیوں کو سبوتاز کرنے کے لئےعالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئےسنی بستیوں پرمہلک ایٹمی ہتھیاروں وگیس بموں کابےدریغ استعمال کیاہے جس کے نتیجہ میں انسانی نسل کشی ہوئی ہےلیکن اس پرعالمی قوانین سازادارہ اقوام متحدہ بالکل خاموش ہےاور ظلم کے خلاف قیام امن کے لئے تشکیل دی گئی پانچ عالمی طاقتوں کا متحدہ محاذ "ناٹو"جسے افغانستان و عراق میں تو تباہی وقتل وغارت گری مچانے کے لئےاتاردیاگیاتھا پر شام میں جاری نسل کشی، تباہی،قتل عام اورعالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرنے پر بھی کرہ ارضی کے مسیحایونٹ"ناٹو"کو بشار کے خلاف کیوں نہیں اتارا گیا؟

کیونکہ سبھی عالمی طاقتوں اور مغربی اقوام کا واحد مقصد اسلام کا خاتمہ ہےجس کے لئےعربی و خلیجی ممالک میں عدم استحکام کابرقرار رہنا امر لابدی ہے. فی الحال چند دنوں سے حلب پوری طرح جل رہا ہے. وہاں منظم طریقہ سے نسل کشی کی جارہی  ہے. ایرانی روافض اور روسی کوافر کی مدد سے بشار اس مرتبہ حلب کے مسلمانوں کی تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی کوشش میں ہے. اتنے قیامت خیز حالات میں دکھاوے کے لئے بلائی گئی اقوام متحدہ کی میٹنگ میں شامی درندہ بلا کسی تامل کے اس نسل کشی اور قتل عام کو جائز اور دستوری بتلارہا ہے.

حلب کی اندوہ ناک صورت حال پراقوامِ متحدہ کے ھنگامی اجتماع میں تمام تر بےحیائی کے ساتھ شام کی غیرقانونی حکومت کے نمائندے  نے کہا.، حلبب یادیگرشامی شہروں میں شام اوراس کی اتحادی افواج جوکچھ بھی کارروائیاں کررھی ھیں، وہ قانون اور دستور کے مطابق ھیں اورعوام کودھشت گردوں سے بچانے کے لیے کی جارھی ھیں. اسے شایدمعلوم نہیں یاوہ کھلے عام دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاھتاھے، جودیکھ رھی ھیں کہ ایران وروس کی مددسے بشار لعین کی فوج عام،نہتے اورمعصوم شہریوں پربم وبارود انڈیل رھی ھے،چندماہ اورچندسال کے بے خطا بچوں کوخاک وخون میں تڑپایاجارھاھے، جانوں کوتہہ تیغ کرنے کے ساتھ عفت مآب ماؤں اوربہنوں کی ردائے عصمت تاتار کی جارھی ھے، اورنوبت اس حدتک الم ناک موڑپرپہنچ چکی ھے کہ شامی شہری علمائے اسلام سے اپنی بیوی، بیٹیوں اوربہنوں کوقتل کردینے کی اجازت مانگ رھے ھیں؛  تاکہ اپنی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھ ھونے والی زیادتی نہ دیکھ سکیں.....

حقیقت یہ ہے کہ بشار الاسد اپنے ظالم وسفاک حامیوں کے لشکرکے ساتھ مل کر شامی شہریوں کی نسل کشی کررھاھے،  اسلامی دنیاشایدکسی معجزے کے انتظارمیں ھے، عالمی برادری ساحل کی تماشائی ھے .اپنے باشندوں و شہریوں پر انسانیت سوزمظالم کی وجہ سے ﺷﺎﻣﯽ ﺻﺪﺭ ﺑﺸﺎﺭ ﺍﻻﺳﺪ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﻠﮏ ﮐﯽﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﻼﻗﯽ و انسانی  ﺣﻖ ﮐﮭﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ۹۰ ﻓﯿﺼﺪ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮔﻨﻮﺍ ﭼﮑﮯﮨﯿﮟ۔  ‘‘داعش،النصرہ فرنٹ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں پر حملے کے نام پر شامی سرکاری فوجیں اور ﺭﻭسی افواج   ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮯسے شام کے تاریخی شہر حلب میں جس پیمانہ پربمباری کررہی ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں بےگناہ شہری ہلاک اور سینکڑوں مفلوج ہوچکے ہیں، ۔

رپورٹ کےﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ  ﺍﻓﺴﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧﺭﻭﺱ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻓﻀﺎﺋﯽ ﺣﻤﻠﮯﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺟﮩﺎﮞ ﺁﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﺁﺋﯽ کاوجود بھی نہیں ہے، ﺷﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﻮﻝ ﻭﺍﺭ ﺍﺏ ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﺎﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﭼﮑﺎﮨﮯ۔  ﺩﺭﺍﺻﻞ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺑﮍﯼﻃﺎﻗﺘﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺱ، ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﭘﺮایک الگ ہی کھیل  ﮐﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﺮﺏﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ، ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺑﺸﺎﺭ ﺍﻻﺳﺪ ﮐﮯﻣﺨﺎﻟﻒ صرف اس لئے  ﮨﯿﮟ تاکہ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺩﺧﻞ ﮐﺮﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺎﻝ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟﺑﺎنٹ لیں ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﭘﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍسد ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻟﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺎﻏﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ، ﭘﯿﺴﮧﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻨﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﺩﻭﮨﺮﺍ ﺭﻭﯾﮧ ﺭﮨﺎﮨﮯ۔  ﻭﮦﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﮔﺮﻭﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺣﮑﻮﻣﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﻨﻈﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ 

ﯾﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻟﺒﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻘﺎﻋﺪﮦﮐﻮ ﺭﻭﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﻠﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﭘﺲ ﭘﺮﺩﮦ ﻭﮦ ﺩﺍﻋﺶ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﺎﮨﮯ۔ ﻭﺭﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﺒﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﻞﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﻮ ﺧﺘﻢﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ،ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ،ﺟﺮﻣﻨﯽ، ﻓﺮﺍﻧﺲ، ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺭ ﺩﺍﻋﺶ ﻧﺎﻣﯽ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﮔﺮﻭﭖﮨﮯ؟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮯﭘﯿﭽﮭﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﻤﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮨﮯ : 

ﻇﻠﻢ ﭘﯿﺸﮧ، ﻇﻠﻢ ﺷﯿﻮﮦ، ﻇﻠﻢ ﺭﺍﮞ ﻭﻇﻠﻢ ﺩﻭﺳﺖ

ﺩﺷﻤﻦِ ﺩﻝ، ﺩﺷﻤﻦِ ﺟﺎﮞ، ﺩﺷﻤﻦِ ﺗﻦ ﺁﭖ ﮨﯿﮟ.

دوسری جانب روس دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر بےگناہوں پر ہوائی حملہ کرکے عالم عرب پراپنا سکہ بٹھانے کی کوشش کررہا ہے، ایسےحالات میں جبکہﺷﻤﺎﻟﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﺣﻠﺐ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﺎﻣﺮﮐﺰ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﻮﺻﻮﻟﮧ ﺍﻃﻼﻋﺎﺕﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﺎﺭﺕﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ،  ﺟﻮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﮯﺑﺎﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽﮐﻢ ﭘﮍﺗﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ہاسپٹل بند ہوچکے ہیں،آخری ڈاکٹر بھی شہید ہوچکا ہے، پورا شہر جل رہا ہے، آج وہاں نہ دفاع کے لئے مرد بچیں ہیں، نہ بیوہ ہونے کے لئے عورتیں،  نہ ہی یتیم ہونے کے لئے بچے،  اور نہ ہی کسی کا سہارا بننے کے لئے نوجوان،  انسان تو کجا اشجار و احجار، نباتات اور حیوانات بھی بھسم ہورہے ہیں،  اب جبکہ ایک مدت مدید سے تمام ترصلیبی وصیہونی مشنریاں شیعی ممالک، اور دیگر قوتوں کو عالم اسلام کے خلاف جم کر استعمال کررہی ہیں، اور فوجی سطح کےعلاوہ ظلم سےانتقام کےنام پرپہلے "حزب اللہ"اوراب داعش جیسی عالمی دہشتگرد، انسان دشمن،فرعون صفت ظالم وجابر"کفریہ" جماعتیں اتار کرپوری دنیا میں امن و سلامتی کےخاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلام کی صاف ستھری شبیہ کو داغدار اور مسلمانوں کو ہراساں کرنا چاہتی ہیں،

حزب اللہ اور اس طرح کی شدت پسند تنظیمیں جنہیں اسرائیل وامریکہ نیز ایران فوجی ودفاعی امداد بھیجتےہیں اور مکمل پشت پناہی کرتے ہیں ان کے ذریعہ عراق وشام نیز لبنان میں سنیوں کی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے، اور ان دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کرنےکے نام پر دوسرا عالمی سپر پاور"روس"عرصہ سے "سیریا"میں نہتوں پر فضائی حملہ کرکے بشار جیسےجلادکا ساتھ دے رہاہے، امریکہ و روس کی دوغلی پالیسیوں،بشار کےموروثی  ظالمانہ تیور کے سبب شام بدستور جل رہا ہے،ادھر عراق تباہ ہورہا ہے، ایسے وقت میں  شاہ سلمان وحافظ اردغان نیز پاکستان کو ظلم کےاس طوفان سے ٹکرانے کے لئے بادبان کھول دیناچاہئے، ساری دنیا کےانصاف پسند ممالک کو جوڑ کر انہیں ساتھ لےکرشام پر متحد ہوکر حملہ کرکےبشار کے ظلم و جبر سے وہاں کے نہتوں کو بچانا اور انکی بازآبادکاری کے لئےہرممکن قدم اٹھاناچاہئے، فلسطین کی کھلی حمایت وتعاون کرکےاسےاسرائیل کے ظلم سے بچانا چاہئے. اسی میں عالم اسلام اوراسلام کی بھلائی ہے.کیونکہ حالات بتارہے ہیں کہ دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر ہے، اب بھی اگرعرب و عجم کے اسلامی راہنماخواب خرگوش سے ناجاگےتوانہیں ایسی تباہی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے جس سےبچانے والا مسیحا "مھدی وعیسی"سےپہلے کوئی نہیں آئےگا. کیونکہ قیامت کے دن ہم سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ شام والے کیا انسان نہیں تھے.؟ حلب جل رہا تھا لیکن ہم سوئے رہے،  ماؤوں کی عصمتیں تار تار ہوتی رہیں، ہم مدہوش رہے بہنوں کے دوپٹے جلائے جاتے رہے ہم بے خبر رہے،بچوں کی سسکیاں آسمان تک پہنچتی رہی ہمارے کان بہرے رہے، بوڑھے درد سے کراہتے رہے ہم بے درد بنے رہے ، نوجوان آس لگائے رہے ہم بے حسی کی چادر تانےرہے. کروڑوں انسانی جانیں گنواکر، لاکھوں بچوں اور عورتوں کو بیوا و یتیم کر،کروڑوں انسانوں کو مفلوج و لاچار کرواکر بھی ملک شام دنیائے انسانی بالخصوص مسلمانان عالم کی توجہ کیوں نہیں کھینچ پارہا ہے؟؟

کیوں نہیں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں راجدھانی کی سڑکوں سے  لے کر پورے ملک میں  منظم احتجاج کرپوری دنیا کو بشار کے ظلم کے خلاف اٹھنے کی دعوت نہیں دیتی؟ اقوام متحدہ کو چھوڑدیں، او،آئی،سی کے نام سے بنے اسلامی ممالک کی متحدہ تنظیم پر تو دباؤ بنایا جاسکتا ہے. حلب جل رہا ہے،  شام لٹ رہا ہے.عالم اسلام پر سکوت طاری ہے، دنیا منجمد ہوچکی  ہے.عالمی امن کےٹھیکیدار برف کی طرح جامد ہوچکے ہیں، ضروت ھیکہ برصغیر کے امن پسند عوام اور یہاں کے  مسلمان بائیکاٹ کریں اقوام متحدہ کا، امریکہ کا،روس کا،ایران کا، جب ان کی معیشت گرےگی تو وہ شام کو چھوڑ راہ فرار لینگے، تب عرب کامسئلہ اہل عرب خود سلجھالینگے.بشار سے اسی کی زبان میں نمٹ لینگے.انشاءاللہ 

جب تک دوغلی پالیسی والے دہشت گرد سپرپاور امریکہ و روس شام کو اپنی حالت پرنہیں چھوڑ دیتے، یونہی کٹتے رہینگے ہمارے بھائی،یونہی لٹتی رہیگی بہنوں کی عصمتیں، اسی لئےساری دنیا کے امن پسند ظلم مخالف لوگوں، جماعتوں اور تنظیموں کو مل کربشار،اقوام متحدہ، امریکہ اور روس  و ایران کا بائیکاٹ کرناچاہئے، ان کی معیشت کمزور کرنے کے لئے مل کرساری دنیا سے ان کے سفارتی تعلقات منقطع کرانے کے ساتھ ساتھ ان کے پروڈکٹس کو اپنے لئے شجر ممنوعہ بنانے کے لئےقدم اٹھانا چاہئے،تاکہ اپنی معیشت کی فکر میں خطہ سے یہ دہشت گرد انسانی خونوں کی ر سیاں قوتیں نکل جائیں اورپھر عرب کا معاملہ اہل عرب خود نمٹاسکیں. علاوہ ازیں پوری دنیا کے  تمام مساجد میں ائمہ کرام کی جانب سے قنوت نازله کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے.

ایک نظر اس پر بھی

عید الفطر کے پیش نظر بھٹکل رمضان بازار میں عوام کا ہجوم؛ پاس پڑوس کے علاقوں کے لوگوں کی بھی خاصی بڑی تعداد خریداری میں مصروف

عیدالفطر کے لئے بمشکل تین دن باقی رہ گئے ہیں اور بھٹکل رمضان بازار میں لوگوں  کی ریل پیل اتنی بڑھ گئی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ عید کی تیاری میں مشغول مسلمان ایک طرف کپڑے، جوتے اور  دیگر اشیاء  کی خریداری میں مصروف ہیں تو وہیں رمضان بازار میں گھریلو ضروریات کی ہر چیز ...

اگر حزب اختلاف متحد رہا تو 2019میں مودی کاجانا طے ........از: عابد انور

اگر متحد ہیں تو کسی بھی ناقابل تسخیر کو مسخر کرسکتے ہیں،کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،مضبوط آہنی دیوار کو منہدم کرسکتے ہیں، جھوٹ اور ملمع سازی کوبے نقاب کرسکتے ہیں اور یہ اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں ثابت ہوگیا ہے۔ متحد ہوکر میدان میں اترے تو بی جے پی کو شکست ...

آئندہ لوک سبھا انتخابات: جے ڈی یو اور شیوسینا کے لیے چیلنج؛ دونوں کے سامنے اہم سوال، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی؟

شیوسیناسربراہ ادھو ٹھاکرے اور جے ڈی یو چیف نتیش کمار دونوں اس وقت این ڈی اے سے غیر مطمئن نظر آرہے ہیں۔ جس طرح سے اس باربی جے پی کا اثر ورسوخ بڑھا ہے، اس سے دونوں جماعتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔

اسمبلی انتخاب کے بعدبھٹکل حلقے میں کانگریس اور بی جے پی کے اندر بدلتا ہوا سیاسی ماحول؛ کیا برسات کا موسم ختم ہونے کے بعدپارٹیاں بدلنے کا موسم شروع ہو جائے گا ؟

حالیہ اسمبلی انتخاب میں کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا کی شکست کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر ہی سیاسی ماحول ایک آتش فشاں میں بدلتا جارہا ہے ۔ انتخاب سے پہلے تک بظاہرکانگریس پارٹی کا جھنڈا اٹھائے پھرنے اور پیٹھ پیچھے بی جے پی کی حمایت کرنے والے بعض لیڈروں کو اب ...

ہندو نیشنلسٹ گروپ سے اقلیتی طبقہ خوفزدہ، امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ

امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں 2017 کے دوران ہندو نیشنلسٹ گروپ کے تشدد کے سبب اقلیتی طبقہ نے خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کیا۔

مودی حکومت کے چار سال: بدعنوانی، لاقانونیت،فرقہ پرستی اور ظلم و جبر سے عبارت ......... از: عابد انور

ہندوستان میں حالات کتنے بدل گئے ہیں، الفاظ و استعارات میں کتنی تبدیلی آگئی ہے ، الفاظ کے معنی و مفاہیم اور اصطلاحات الٹ دئے گئے ہیں ،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہا جانے لگا ہے، قانون کی حکمرانی کا مطلب کمزور اور سہارا کو ستانا رہ گیا ہے، دھاندلی کو جیت کہا جانے لگا ہے، ملک سے ...