جمعیۃ العلماء ہند کی قومی مجلس عاملہ میں طلاق ثلاثہ اور یوپی میں لائوڈ اسپیکرسمیت کئی قومی و ملی مسائل پر بحث و تمحیص کے بعد اہم فیصلے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th January 2018, 1:22 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ۱۲؍ جنوری (ایس او نیوز/موصولہ رپورٹ)  جمعیۃ  علما ء ہند کی قومی مجلس عاملہ کا اجلا س جمعہ کو  مفتی کفایت اللہ ہال، بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند کے ز یر صدارت منعقد ہوا جس میں طلاق ثلاثہ پر حکومت کی طرف سے قانون سازی اور یوپی میں لاؤڈ اسپیکر سے متعلق جاری کردہ ہدایات سمیت کئی قومی وملی مسائل پربحث و تمحیص کے بعد اہم فیصلے کیے گئے ۔

طلاق ثلاثہ بل پر حکومت کی جانب سے ہٹ دھرمی پر مبنی رویے کی سخت تنقید کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اسے ناقابل قبول او رمسلمانوں کے لیے ناقابل عمل قراردیا، اس سے متعلق مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایک اہم تجویز منظور ہوئی ، جس میں صاف لفظو ں میں کہا گیا ہے کہ دستور ہند میں دیے گئے حقوق کے تحت مسلمانوں کے مذہبی اور عائلی معاملات میں عدالت یا پارلیامنٹ کو مداخلت کا ہر گز حق نہیں ہے ، لہذا اگر پارلیامنٹ کوئی ایسا قانون بنائے گی یا حکومت ہند کی طرف سے ایسا کوئی آرڈیننس لایا جائے گا جس سے شریعت میں مداخلت ہو تی ہے ،وہ مسلمانوں کے لیے ہرگز قابل عمل نہیں ہو گا اور مسلمان بہر صورت شریعت پر عمل کرنا اپنے اوپر فرض سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہیں گے ۔ مجلس عاملہ کے ذریعہ منظور کردہ تجویز میں مسودہ قانون کو مسلم مطلقہ خواتین کے ساتھ ناانصافی قراردیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت اس کاقوی امکا ن ہے کہ مطلقہ خواتین ہمیشہ کے لیے معلق ہو جائیں اور ان کے لیے دوبارہ نکاح اور از سرنو زندگی شروع کا کرنے کا ر استہ یکسر قطع ہو جائے ، اس طرح طلا ق کے جواز کا مقصد فوت ہو جائے گا ۔اس کے علاوہ مرد کے جیل جانے کی سزا عملی طور پر عورت اور بچوں کو بھگتنی پڑے گی ۔ مزید برآں جس قوم کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے ان کے نمائندوں سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا ، نیز مذہبی فرقے ، شریعت کے ماہرین اداروں اور تنظیموں نے اس مسئلے کے حل کے لیے شریعت کے دائرے میں جو تجاویز پیش کی ہیں ،انھیں یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔ حکومت ہٹ دھرمی کا رویہ اپنا تے ہوئے انصاف اور رائے عامہ کو طاقت کے ذریعہ روندنے پر آمادہ نظر آتی ہے جو کسی بھی جمہوریت کے لیے باعث شرم ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس قانون کے پس پشت مسلمانوں پر کسی نہ کسی طرح یونیفارم سول کوڈتھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کا مقصدخواتین کے ساتھ انصاف کے بجائے مسلمانوں کو مذہبی آزادی سے محروم کرنا ہے جو ہر گز منظورنہیں ہے ۔

مجلس عاملہ نے تجویز میں تمام مسلمانوں سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ بالخصوص طلاق بدعت سے پوری طرح احتراز کریں او رشریعت کے حکم کے مطابق نکاح طلاق اور دیگر عائلی معاملات کو طے کریں تاکہ اس بہانے سے حکومتوں کو دخل اندازی کا موقع نہ مل سکے ۔ خانگی تنازعات کی صورت میں محاکم شرعیہ کے ذریعہ فیصلہ کا راستہ اختیار کریں اور سرکاری عدالتوں اور مقدمہ بازی سے احتراز کریں ۔

اس تجویز کے تناظر میں مجلس عاملہ کی کارروائی پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ سرکار مسلمانوں پر شریعت کے خلاف قانون ہر گز نہ تھوپے ، سرکار جس طرح کا رویہ اختیار کررہی ہے وہ درحقیقت جمہوری اقدار کی پامالی ہے ۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ آ ج کے اجلاس میں یوپی میں لاؤڈ اسپیکر سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جس کے متعلق ایک تجویز یہ کہا گیا ہے کہ ’’الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے لاؤڈاسپیکر کے استعمال سے متعلق حالیہ احکامات کے بارے میں جمعےۃ علماء ہند کا یہ اجلاس سبھی مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مساجد کے لاؤڈاسپیکروں کی انتظامیہ سے اجازت لینے کے لیے قانونی کارروائی پوری کریں اور اگر کسی جگہ کوئی پریشانی پیش آئے تو مرکزی اور صوبائی جمعےۃ کے ذمہ داروں سے رابطہ کریں اور حکومت یوپی سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے میں فرقہ وارانہ تفریق نہ ہونے دیں بلکہ سبھی فرقو ں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرتے ہوئے یکساں طور پر قانون کا نفاذ کرے۔‘‘

مجلس عاملہ کے اجلاس میں تنظیم کے سوسال مکمل ہونے پر جشن صدسالہ تقریبات پر بھی گفتگو ہوئی ، اس سے متعلق سرگرمی تیز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی نیز طے پایا کہ اگلے سال ۲۲؍۲۳ اور ۲۴؍فروری۲۰۱۹ء کو دیوبند میں صدسالہ کا اختتامی اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ مجلس عاملہ نے قضیہ فلسطین پر امریکہ اور اسرائیل کے رویے کی سخت مذمت کی اور فلسطینی عوا م کے ساتھ یگانگت اور یک جہتی کا اظہار کیا ، مجلس عاملہ نے ا سرائیلی وزیر اعظم کے ذریعہ دورہ ہند پر بھی تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کو فلسطینی کاز کی حمایت کی دیرینہ پالیسی پر قائم رہنا چاہیے ۔

اجلاس میں صدر کے علاوہ یہ شخصیات شریک ہوئیں : مولانا امان اللہ قاسمی نائب صدر جمعےۃ علماء ہند ،مو لانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ، مولانا حسیب صدیقی خازن جمعےۃ علماء ہند،شکیل احمدسید ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ، مولانا مفتی محمد سلمان منصور پو ری استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد ، مولانا رحمت اللہ میر کشمیری ،مولانا متین الحق اسامہ صدر جمعیۃ علماء یوپی، مولانا مفتی احمد دیولہ گجرات ، مولانا بدرالدین اجمل صدر جمعےۃ علماء آسام، مولانا قاری شوکت علی ویٹ،مولانا محمد رفیق مظاہری صدر جمعیۃ علما ء گجرات، مولانا عبدالقدوس پالن پوری ،مولانا مفتی جاوید اقبال نائب صدر جمعیۃ علماء بہار، قاری محمد امین صدر جمعےۃ علماء راجستھان ، مولانا محمداسلام قا سمی صدر جمعےۃ اتراکھنڈ ،مولانا مفتی محمدراشد اعظمی استاذ دارالعلوم دیوبند ، مولانا سید سراج الدین معینی ندوی اجمیر، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت ،مولانا علی حسن مظاہر ی ناظم اعلی جمعےۃ علماء پنجاب ، ہریانہ وہماچل ، حاجی محمد ہارون بھوپال، مولانا نیاز احمد فاروقی ایڈوکیٹ ، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات صدرجمعےۃ علماء امروہہ، ڈاکٹر سعید الدین قاسمی ، مولانا عبدالقادر آسام ، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃعلماء ہند ۔

طلاق ثلثہ سے متعلق قانون سازی پر تجویز
جمعیۃ  علما ء ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس طلاق ثلثہ سے متعلق قانون سازی کی کوشش کو مسلمانوں کے شرعی ؍ عائلی معاملات میں مداخلت قراردیتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہے کہ :
(۱) طلاق ثلثہ پر سزا کا جو مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے اس سے مسلم مطلقہ خواتین کے ساتھ انصاف نہیں بلکہ سخت نا انصافی کا خطرہ ہے، اس لیے اسے ہر گز قبول نہیں کیا جاسکتا ۔اس قانون کے تحت اس کاقوی امکا ن ہے کہ مطلقہ خواتین ہمیشہ کے لیے معلق ہو جائیں اور ان کے لیے دوبارہ نکاح اور از سرنو زندگی شروع کرنے کا ر استہ یکسر قطع ہو جائے ، اس طرح طلا ق کے جواز کا مقصد فوت ہو جائے گا ۔اس کے علاوہ مرد کے جیل جانے کی سزا عملی طور پر عورت اور بچوں کو بھگتنی پڑے گی ۔اس کے مزید نقائص حکومت پر مختلف ذرائع سے پوری طرح واضح کیے جاچکے ہیں، مزید برآں جس قوم کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے ان کے نمائندوں سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا ، نیز مذہبی فرقے ، شریعت کے ماہرین اداروں اور تنظیموں نے اس مسئلے کے حل کے لیے شریعت کے دائرے میں جو تجاویز پیش کی ہیں ،انھیں یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔ حکومت ہٹ دھرمی کا رویہ اپنا تے ہوئے انصاف اور رائے عامہ کو طاقت کے ذریعہ روندنے پر آمادہ نظر آتی ہے جو کسی بھی جمہوریت کے لیے باعث شرم ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس قانون کے پس پشت مسلمانوں پر کسی نہ کسی طرح یونیفارم سول کوڈتھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کا مقصدخواتین کے ساتھ انصاف کے بجائے مسلمانوں کو مذہبی آزادی سے محروم کرنا ہے جو ہر گز منظورنہیں ہے ۔

(۲) دستور ہند میں دیے گئے حقوق کے تحت مسلمانوں کے مذہبی اور عائلی معاملات میں عدالت یا پارلیامنٹ کو مداخلت کا ہر گز حق نہیں ہے ، لہذا اگر پارلیامنٹ کوئی ایسا قانون بنائے گی یا حکومت ہند کی طرف سے ایسا کوئی آرڈیننس لایا جائے گا جس سے شریعت میں مداخلت ہو تی ہے ،وہ مسلمانوں کے لیے ہرگز قابل عمل نہیں ہو گا اور مسلمان بہر صورت شریعت پر عمل کرنا اپنے اوپر فرض سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہیں گے ۔

(۳) تمام مسلمانوں سے پر زور اپیل ہے کہ وہ بالخصوص طلاق بدعت سے پوری طرح احتراز کریں او رشریعت کے حکم کے مطابق نکاح طلاق اور دیگر عائلی معاملات کو طے کریں تاکہ اس بہانے سے حکومتوں کو دخل اندازی کا موقع نہ مل سکے۔

(۴) خانگی تنازعات کی صورت میں محاکم شرعیہ کے ذریعہ فیصلہ کا راستہ اختیار کریں اور سرکاری عدالتوں اور مقدمہ بازی سے احتراز کریں ۔

لاؤڈ اسپیکر سے متعلق تجویز 
الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے لاؤڈاسپیکر کے استعمال سے متعلق حالیہ احکامات کے بارے میں جمعیۃ  علماء ہند کا یہ اجلاس سبھی مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مساجد کے لاؤڈاسپیکروں کی انتظامیہ سے اجازت لینے کے لیے قانونی کارروائی پوری کریں اور اگر کسی جگہ کوئی پریشانی پیش آئے تو مرکزی اور صوبائی جمعیۃ  کے ذمہ داروں سے رابطہ کریں۔ اس موقع پر  حکومت یوپی سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں فرقہ وارانہ تفریق نہ ہونے دیں بلکہ سبھی فرقو ں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرتے ہوئے یکساں طور پر قانون کا نفاذ کرے۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر 2002 کا گجرات بن سکتا ہے

آخر کشمیر میں گونر راج نافذ ہو ہی گیا۔ کشمیر کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہاں اب ساتویں بار گونر راج نافذ ہوا ہے ، ویسے بھی کشمیر کے حالات نا گفتہ بہہ ہیں۔ وادی کشمیر پر جب سے بی جے پی کا سایہ پڑا ہے تب ہی سے وہاں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ پہلے تو مفتی سعید اور محبوبہ مفتی نے ...

راجستھان میں ’لو جہاد‘ کے نام پر ماحول خراب کرنے کی کوشش 

راجستھان کے ہنڈون میں لو جہاد کے نام پر بجرنگ دل پر ماحول بگاڑنے کا الزام لگا یا ہے، ہنڈون کے جس کانگریس کونسلر نفیس احمد پر بجرنگ دل نے لو جہاد کا الزام لگایا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک من گھڑت کہانی ہے۔

چھتیس گڑھ میں مضبوط طاقت ہے کانگریس، اتحاد کی ضرورت نہیں :پی ایل پنیا

آل انڈیا کانگریس کمیٹی جنرل سیکریٹری اور چھتیس گڑھ کے پارٹی معاملات کے انچارج پی ایل پنیا کا کہنا ہے کہ کانگریس ریاست میں مضبوط قوت ہے اور اس کے اندر کسی اتحاد کے بغیر اسمبلی انتخابات جیتنے کی طاقت ہے۔

ایمرجنسی نے جمہوریت کوقانونی تاناشاہی میں بدل دیا: ارون جیٹلی

مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے آج یاد کیا کہ کس طرح تقریبا چار دہائی قبل وزیر اعظم اندرا گاندھی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے ایمرجنسی لگائی گئی تھی اور جمہوریت کو آئینی آمریت میں تبدیل کر دیا گیا۔

گنگامیں جمع گندگی کولے کرنتیش کمارکا مرکزی حکومت پرسخت حملہ

بہار کے وزیر اعلی نتیش کماران دنوں ہر روز اپنی بات کوبے باکی سے رکھ رہے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو ہوئی نیتی آیوگ کی میٹنگ میں انہوں نے پی ایم نریندر مودی کے سامنے ریاست کے مسائل رکھنے کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر ماحولیات ہرش وردھن کو مشورہ دیا کہ دہلی واپس جاکر مرکزی سطح وزیر ...