مصر : سابق چیف آف اسٹاف صدارتی انتخابات میں حصّہ لیں گے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th January 2018, 10:04 PM | عالمی خبریں |

قاہرہ ، 12؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مصر میں سابق چیف آف اسٹاف لیفٹننٹ جنرل سامی عنان کی Arabism Egypt Party نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی سربراہ سامی عنان کو مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے بطور امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ پارٹی کے بیان کے مطابق عنان اپنی نامزدگی اور انتخابات میں حصّہ لینے پر آمادہ ہیں اور اس حوالے سے مصری عوام کو تفصیلات بتانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

سامی حافظ عنان فروری 1948 میں مصر کے صوبے دقہلیہ کے گاؤں سلامون میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فرانس میں حربی امور کے کالج میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ناصر ملٹری اکیڈمی سے نیشنل ڈیفنس فیلو شپ حاصل کی۔ انہوں نے مصری فوج میں بتدریج ترقی پاتے ہوئے 1998 میں آپریشنز برانچ کے سربراہ کا منصب حاصل کیا۔ جنوری 2000 میں وہ فضائی دفاعی افواج کے چیف آف اسٹاف اور پھر 2001 میں فضائی دفاعی افواج کے کمانڈر بنے۔ سال 2005 میں سابق صدر حسنی مبارک نے انہیں مصری افواج کا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا۔

اگست 2012 میں معزول صدر محمد مرسی نے عنان کو برطرف کر کے انہیں صدارتی مشیر مقرر کر دیا۔ سال 2014 کے اوائل میں عنان نے خود کو صدارتی انتخابات کے لیے نامزد کیا مگر کچھ ہی روز بعد وہ اس دوڑ سے دست بردار ہو گئے۔مصر میں سپریم انتخابی کمیشن نے پیر کے روز 2018 کے صدارتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا۔ ملک میں صدارتی انتخابات 26 سے 28 مارچ تک تین روز جاری رہیں گے۔ رن ڈاؤن کی صورت میں دوسرے مرحلے کا انعقاد مصر میں 24 سے 26 اپریل اور بیرون ملک 19 سے 21 اپریل تک ہو گا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

گولان پہاڑیوں کے قریب باغیوں کے ٹھکانوں پر شام کا قبضہ

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز نے ملک کے جنوب مغرب میں باغیوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے فوجی اہمیت کی ایک چوٹی تل الحارہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں سے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

افغانستان میں داعش نے 20 افراد اور طالبان نے 9 پولیس اہل کار ہلاک کر دیے

داعش کے ایک خودکش بمبار نے منگل کے روز شمالی افغانستان میں دھماکہ کر کے 20 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک طالبان کمانڈر بھی شامل ہے۔ جب کہ جنوبی صوبے ہلمند میں ایک سرکاری کمانڈو یونٹ نے طالبان کی جیل سے 54 لوگوں کو آزاد کر ا دیا۔