سعودی کے نئے قانون سے ہندوستانی عوام سخت پریشان؛ 15 ماہ میں 7.2 لاکھ غیر ملکی ملازمین نے سعودی عربیہ کو کیا گُڈ بائی؛ بھٹکل کے سینکڑوں لوگ بھی ملک واپس جانے پر مجبور

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th July 2018, 12:03 AM | خلیجی خبریں | ساحلی خبریں | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:8/ جولائی (ایس او نیوز) سعودی عرب میں ویز ے کے متعلق نئے قانون کا نفاذ ہوتے ہی بھٹکل کے ہزاروں لو گ اپنی صنعت کاری، تجارت اور ملازمت کو الوداع کہتے ہوئے وطن واپس لوٹنے پر مجبورہوگئے  ہیں۔ اترکنڑا ضلع کے اس خوب صورت شہر بھٹکل کے  قریب 5000 لوگ سعودی عربیہ میں برسر روزگار تھے جن میں سے کئی لوگ واپس بھٹکل پہنچ چکے ہیں تو  بہت سارے لوگ اب اپنے شہر کی راہ لینے کی تیار ی میں ہیں۔

سعودی عرب کے جدہ، ریاض، دمام، الخوبر، ینبع، الجبیل، رحیمہ سمیت کئی شہروں میں بھٹکلی مسلمان گذشتہ پچاس سالوں سے برسررورزگار ہیں،  ان میں  کئی لوگ اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں تو  دیگر اپنے گھراور گھروالوں کی کفالت کے لئے گھر سے دور دراز قیام کئے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے  اپنی محنت کی کمائی میں بچت کرتے ہوئے سعودی کے مختلف شہروں  میں  خود کا کاروبار بھی  شروع کیا ہے   مگر اب انہیں  نئے قانو ن اور نئے ٹیکس کی بندشوں سے دشواری محسوس ہونے لگی ہے۔

ٹیکس کا نیا قانون : تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں سعودی عرب کی معیشت پوری طرح تیل پر ہی انحصار کرتی ہے، سعودی عرب، دبئی جیسے خلیجی ممالک کی معیشت کے  لئے دنیا بھر کے  سیاحوں کی آمدو رفت بڑی اہمیت رکھتی ہے،سیاحوں کی نقل وحمل سے ہونے والی کمائی وہاں کی حکومتوں کے لئے بڑی مدد ملتی ہے۔ ملک کو معاشی سطح پر مضبوط کرنے اور مقامی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے سعودی عرب نے اپنے قانون میں کئی ساری تبدیلیاں کی ہیں۔

 ایس او سے گفتگو کرتے ہوئے بھٹکل مسلم جماعت جدہ کے سابق سرگرم رکن عبدالحفیظ عسکری نے بتایا کہ نیا  قانون بننے سے پہلے سعودی عرب میں قیام پذیر فی خاندان کو ہر 6 ماہ  میں  200ریال فیس دینا ہوتا  تھا مگر اب نئے قانون کے مطابق ایک خاندان کے بجائے ہرایک فرد پر ماہانہ 200ریال فیس  ادا کرنا  ہوگا۔ 

عبدالحفیظ کے مطا بق جس طرح بھارتی شہریوں کے لئے  ’’آدھار کارڈ ‘‘ ہے اسی طرح وہاں  غیر ملکی شہر یوں کے لئے ’’اقامہ ‘‘ کارڈ ہے۔ پہلے اقامہ کے لئے  550ریال  دینے ہوتے تھے مگر اب  اقامہ کے لئے 5500ریال ادا کرنا ہوگا۔  ان کے مطابق چھٹیوں پر انڈیا جانے کی صورت میں پاسپورٹ پر انٹری اور ایکزٹ کے لئے پہلے کوئی چارج نہیں لگتا تھا، اب فی پاسپورٹ دو سو ریال  ماہانہ کے حساب سے چارج کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اگر اُنہیں اپنی پوری فیملی کے ساتھ تین ماہ کے لئے انڈیا جانا ہوتوانہیں اپنے ساتھ  بیوی اور چار بچوں   کے لئے ماہانہ دو سو ریال کے حساب سے تمام چھ ممبران کی فیس (دو سو ریال X چھ ممبران X تین ماہ)  3600 ریال ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر انڈیا میں چھ مہینہ رہنا ہو تو 7200 ریال ادا کرنے ہوں گے۔ (7200 ریال مطلب  132,048انڈین  روپیہ)۔

جناب عبدالحفیظ   نے بتایا کہ لوگوں کی تنخواہیں اتنی نہیں ہیں کہ وہ نئی اضافی  فیسوں کا بوجھ اُٹھا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ    وہ قریب 30 سال  سے سعودی میں اکائونٹنٹ کی حیثیت سے کام کررہے تھے، مگر نئے قانون سے پریشان ہوکر اپنی پوری فیملی کے ساتھ واپس بھٹکل آگئے ہیں۔

یہ تو انفرادی سطح پر ہوا ،تجارت ،  ملازمت اور صنعت کی بات کریں تو حالات  مزید ابتر ہے ۔سعودی عربیہ کے ایک  معروف بھٹکلی بزنس مین  قمر سعدا نے بتایا کہ  جس طرح غیر ملکی ملازمین پر نئے چارجس عائد کئے گئے ہیں اُسی طرح بزنس کرنے والوں کے لئے بھی قانون میں زبردست تبدیلیاں کی گئ ہے۔ قمر سعدا کے مطابق  سعودی عرب کی وزارت برائے محنت اور وزارت برائے سماجی ترقی نے کچھ ماہ قبل ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے سعودی میں کام کر رہے تارکین وطن کو 12 شعبوں میں ملازمت کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سعودی میں مقیم 30 لاکھ سے زائد ہندوستانیوں میں  تشویش   کی لہر دوڑ گئی  ہے۔

سعودی ذرائع کے مطابق محنت اور سماجی ترقی کے وزیر ڈاکٹر علی الغفیث نے گزشتہ ماہ  ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ان 12 شعبوں کا تذکرہ کیا جس میں اب تارکین وطن کام نہیں کر پائیں گے۔جس کے مطابق  گھڑی کی دکان، چشمے کی دکان، میڈیکل اسٹور، الیکٹریکل اور الیکٹرانک دکان، کار اسپیئر پارٹس، بلڈنگ میٹریل، کارپیٹ، آٹو موبائل اور بائیک دکان، ہوم فرنیچر اور ریڈیمیڈ آفس میٹریل، ریڈیمیڈ گارمنٹ، برتن کی دکان، کیک اور پیسٹری۔یہ  تمام  بارہ شعبے  اب صرف وطنی لوگ ہی   سنبھال سکیں گے  اور ہندوستانی یا غیر ملکی  ان میں سے کوئی بھی اپنے طور پر بزنس نہیں کرسکیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اورسعودی حکومت کے ذریعہ جاری اس حکم نامے پر ستمبر 2018 سے  عمل کیا جائے گا۔

ایس او سے گفتگو کرتے ہوئے جناب  تاج الدین عسکری نے بتایا کہ وہ گذشتہ چالیس سالوں سے سعودی عربیہ میں برسرروزگار تھے۔ ان کے مطابق   اب نئے قوانین سے  ہزاروں کی تعداد میں ایشیائی ممالک کے لوگ سعودی کو خیرباد کہتے ہوئے واپس اپنے وطن لوٹ رہے ہیں، مزید  بتایا کہ انہوں نے  حال ہی میں 45 ہزار ریال کی ایک  کار خریدی تھی، مگر جب نیا قانون بنا اور مجھے واپس انڈیا آنا پڑا تو اُس کار کو بحالت مجبوری صرف 6 ہزار ریال میں بیچنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جو لوگ سعودی کو خیر باد کہہ کر وطن واپس لوٹ رہے ہیں، اُنہیں  اپنے  گھر کے فرنیچرس، برتن اور کئی قیمتی چیزوں کو بھی ایسے ہی  چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے، جس کے وہاں کوئی خریدار نہیں مل رہے ہیں۔

سات لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کے انخلاء سے سعودی عربیہ میں بزنس ٹھپ پڑگیا ہے، بازاراور مارکیٹ سنسان ہیں،کئی  اسکول اور  کالجس  بند ہونے کے درپے ہے۔ جن لوگوں کی دکانیں ہیں، اُنہیں نئے قانون کے مطابق ستمبر تک خالی کرنا ہے اور جن لوگوں کا کاروبار 12 شعبوں میں شامل نہیں ہیں، وہ بھی بازاروں میں گاہک نہ ہونے سے پریشان ہیں۔

 ریاست کے دیگر مقامات سے ساحلی پٹی کے شہر بھٹکل سے موازنہ کریں تو بھٹکل سے خلیجی ممالک کا رشتہ کچھ زیادہ ہی ہے ،سعودی عرب میں نافذ نئے قانون کی    وجہ سے  گذشتہ ایک ہفتہ میں 20 سے زائد خاندان سعودی عرب کو خیر آباد کہتے ہوئے اپنے وطن بھٹکل پہنچے ہیں۔ وہاں رہائش پذیر کنڑیگاس کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں کی بات کریں تو سعودی عرب کی صنعت ، تجارت وغیرہ مکمل طورپر ختم ہوتی جارہی ہے۔

سمجھا جارہا ہے کہ سعودی عربیہ کے نئے قانون سے غیر ملکی بالخصوص سعودی میں رہائش پذیر ہندوستانی عوام سخت پریشان ہیں اور اُن کے لئے واپس انڈیا جانے کے علاوہ اب دوسرا کوئی چارہ باقی  نہیں بچا ہے۔ 

خبر ہے کہ اب تک بیس  سے زائد بھٹکلی فیملی سعودی کو خیر باد کہتے ہوئے  واپس بھٹکل آچکی ہے اور واپس آنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس بات کی بھی اطلاع ہے کہ اکثر لوگوں نے  حج  کرکے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا ہے، جبکہ کئی لوگوں نے اپنی فیملی کو بھٹکل چھوڑ کر نئی اُمیدوں کے ساتھ   واپس سعودی بھی گئے ہیں  ۔ غالباً اُنہیں  توقع ہے کہ سعودی مارکٹ کی خراب  پوزیشن کو  دیکھتے ہوئے سعودی قانون میں  تھوڑی  بہت نرمی لائی جاسکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے لوگ سعودی عربیہ میں  چالیس اور پچاس سال سے  ملازمت کررہے ہیں اور اچھی تنخواہ ملنے کی وجہ  سے سالوں سال  وہیں پر مقیم ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ  اس سے سعودی باشندوں کو ملازمت ملنے میں دشواریاں پیش آنے لگیں جس کے پیش نظر سعودی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

سعودی عرب سے 2017 سے 2018 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک 7 لاکھ سے زائد  غیرملکی  ملازمین  سعودی عربیہ کو گڈ بائی کرچکے ہیں اور روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ واپس اپنے ملک جانے پر مجبور ہیں۔ میڈیا رپورٹ پر بھروسہ کریں تو 2600 غیرملکی یومیہ کی بنیاد پر سعودی عربیہ  کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق 2017 کے آغاز سے تاحال 7.2لاکھ غیر ملکی مزدور سعودی عربیہ  سے نکل چکے ہیں ۔

دوسری جانب 2018 کی پہلی سہ ماہی (جنوری سے مارچ) کے اختتام پر سعودی شہریوں میں بیروزگاری کی شرح 12.9 فیصد تک پہنچ گئی، 1.07 ملین سعودی روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔محکمہ شماریات کے سربراہ ڈاکٹر فہد التخیفی نے پریس کانفرنس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران 2لاکھ 34ہزار سے زائد غیرملکی سعودی عربیہ  سے نکل چکے ہیں۔ سعودی مردوں میں بیروزگاری کی شرح 7.6 فیصد اور خواتین میں 30.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعدادوشمار 2018 کی پہلی سہ ماہی کے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل مسلم جماعت بحرین کا سالانہ جلسہ؛ اجتماعیت پر دیا گیا زور

بھٹکل مسلم جماعت بحرین کا سالانہ جلسہ ۲۰ ستمبر ۲۰۱۸ بروز جمعرات کو بحرین کے حمالہ علاقہ میں واقع ایک وسیع وِلّا میں منعقد کیا گیا۔ جناب عبدالفتّاح خلیفہ نے جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے ممبران کا استقبال کیا، مولوی فوّاز سعدا ندوی نے تلاوتِ قرآن پاک سے جلسہ کو پُر رونق بنایا، اس کے ...

سعودی عرب کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دورے کے دوران وہاں کی قیادت سے ہونے والی ملاقات میں سعودی عرب کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں بطور تیسرے شراکت دار شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

بھٹکلی نوجوان ابصر محتشم کی شارجہ قبرستان میں ہوئی تدفین؛ جنازے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے کی شرکت

بھٹکل کے نوجوان ابصر محتشم  جس کی نعش جمعرات کو  شارجہ میں واقع اُسی کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی، آج کاغذی کاروائیوں کے بعد میت کو اُس کے بھائی اور رشتہ داروں کے حوالے کردی گئی۔

دبئی میں ملازمت کرنے والے بھٹکل کے نوجوان کی شارجہ میں موت؛ آج کی گئی نوجوان کی شناخت

بھٹکل  گڈلک روڈ کے رہائشی محمد ابصر محتشم (30) جس کی نعش   متغیر  حالت میں  شارجہ میں اُسی کے فلیٹ سے 23اگست کو برآمد کی گئی تھی، آج اُس کے  بھائیوں کی مدد سے شناخت کے بعد اُن کے حوالے کرنے کاغذی کاروائی جاری ہے۔ توقع ہے کہ کل پیر کو میت بھائیوں کے حوالے کی جائے گی اور کل ہی ...

مناسک حج کی ادائیگی کے دوران اردنی خاتون نے بچے کو جنم دے دیا

مزدلفہ میں شب قیام کے بعد حجاج کرام پہلے دن کی رمی کے لئے منیٰ پہنچ گئے ہیں اورقربانی کے بعد حجاج کرام کاسرمنڈوا کر احرام کھولنے کاعمل بھی جاری ہے اورمناسک حج کی ادائیگی کے دوران اردنی خاتون نے بچے کو جنم دے دیا۔

بھٹکل انجمن پی یوکالج طلبا ٹیم کی کھیل  کے میدان میں شہنشائیت جاری : تیراکی میں 14 اور کراٹے میں 3گولڈ سمیت کئی تمغے انجمن کے نام

انجمن پی یوکالج بھٹکل کی کھلاڑیوں کی شاندار پرفارمنس جاری ہے۔ کبڈی اور فٹ بال میں ضلع سطح پر چمپئین بننے کے بعد باسکٹ بال میں رنر اپ کا خطاب جیتا تو اب ضلع لیول کے تیراکی (سوئمنگ )میں 14گولڈ ،09سلور اور 01برانج میڈل جیتا ہے تو کراٹے میں 3گولڈ اور 2سلور میڈل جیت کر کھیل کے میدان میں ...

بھٹکل انجمن پی یوکالج  فٹ بال ٹورنامنٹ میں چمپئین تو باسکٹ بال ٹورنامنٹ میں رنر اپ

تعلیمات عامہ اترکنڑا ضلع اور وائی ٹی ایس ایس کالج یلاپور کے اشتراک سے مالادیوی کھیل میدان کاروار میں منعقدہ ضلع لیول فٹ بال ٹورنامنٹ میں چمپئین شپ کاخطاب جیتاہے تو اسی طرح منڈگوڈ کے لویالا کالج میں منعقدہ ضلع سطح کے باسکٹ بال ٹورنامنٹ میں انر اپ کا خطاب جیت کر کالج اور شہر کا ...

موڈبیدری:پرشانت پجاری قتل کیس کے ملزم پرحملہ۔ زخمی خطرے سے باہر

ہندوتووادی کارکن اور پھولوں کے تاجر پرشانت پجاری کے قتل میں ملزم بنائے گئے امتیاز نامی شخص پر گنٹل کٹّے قریب صبح 5.30بجے موٹر بائک سواروں نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے امتیاز کو زخمی حالت میں منگلورو کے ایک نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امتیاز پر جان لیوا ...

نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا کے بعد نتن سندیسارا بھی 5000 کروڑلوٹ کر فرار

نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا کے بعد ایک دیگر کاروباری نتن سندیسارا ہندوستانی بینکوں کو ہزاروں کروڑ روپے کا دھوکہ دے کر ملک سے فرار ہو گیا ہے۔ خبروں کے مطابق وہ فیملی کے ساتھ نائیجیریا میں ہے۔

سماج کلیان بورڈ کی صدر پدما شکلا کے ساتھ دو درجن لوگوں نے بی جے پی چھوڑا

مدھیہ پردیش میں اسمبلی کے الیکشن جیسے جیسے نزدیک آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے سیاسی گہما گہی بڑھتی جا رہی ہے ۔ لیڈروں کے ذریعہ ایک پارٹی سے استعفیٰ دے کر دوسری پارٹی کی رکنیت لینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔ اسی سلسلے میں پیر کو کابینہ وزیر کادرجہ حاصل اور ریاست کے سماجی بہبود ...

ملک کا آئین اورجمہوریت خطرے میں، امن اورسیکولرازم کی راہ پرچل کرہی ملک کرسکتا ہے ترقی: مولانا ارشد مدنی

ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں مرکزی دفترجمعیۃعلماء ہندکے مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال ۱؂ بہادرشاہ ظفرمارگ نئی دہلی میں جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ،

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...