سعودی کے نئے قانون سے ہندوستانی عوام سخت پریشان؛ 15 ماہ میں 7.2 لاکھ غیر ملکی ملازمین نے سعودی عربیہ کو کیا گُڈ بائی؛ بھٹکل کے سینکڑوں لوگ بھی ملک واپس جانے پر مجبور

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th July 2018, 12:03 AM | خلیجی خبریں | ساحلی خبریں | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:8/ جولائی (ایس او نیوز) سعودی عرب میں ویز ے کے متعلق نئے قانون کا نفاذ ہوتے ہی بھٹکل کے ہزاروں لو گ اپنی صنعت کاری، تجارت اور ملازمت کو الوداع کہتے ہوئے وطن واپس لوٹنے پر مجبورہوگئے  ہیں۔ اترکنڑا ضلع کے اس خوب صورت شہر بھٹکل کے  قریب 5000 لوگ سعودی عربیہ میں برسر روزگار تھے جن میں سے کئی لوگ واپس بھٹکل پہنچ چکے ہیں تو  بہت سارے لوگ اب اپنے شہر کی راہ لینے کی تیار ی میں ہیں۔

سعودی عرب کے جدہ، ریاض، دمام، الخوبر، ینبع، الجبیل، رحیمہ سمیت کئی شہروں میں بھٹکلی مسلمان گذشتہ پچاس سالوں سے برسررورزگار ہیں،  ان میں  کئی لوگ اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں تو  دیگر اپنے گھراور گھروالوں کی کفالت کے لئے گھر سے دور دراز قیام کئے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے  اپنی محنت کی کمائی میں بچت کرتے ہوئے سعودی کے مختلف شہروں  میں  خود کا کاروبار بھی  شروع کیا ہے   مگر اب انہیں  نئے قانو ن اور نئے ٹیکس کی بندشوں سے دشواری محسوس ہونے لگی ہے۔

ٹیکس کا نیا قانون : تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں سعودی عرب کی معیشت پوری طرح تیل پر ہی انحصار کرتی ہے، سعودی عرب، دبئی جیسے خلیجی ممالک کی معیشت کے  لئے دنیا بھر کے  سیاحوں کی آمدو رفت بڑی اہمیت رکھتی ہے،سیاحوں کی نقل وحمل سے ہونے والی کمائی وہاں کی حکومتوں کے لئے بڑی مدد ملتی ہے۔ ملک کو معاشی سطح پر مضبوط کرنے اور مقامی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے سعودی عرب نے اپنے قانون میں کئی ساری تبدیلیاں کی ہیں۔

 ایس او سے گفتگو کرتے ہوئے بھٹکل مسلم جماعت جدہ کے سابق سرگرم رکن عبدالحفیظ عسکری نے بتایا کہ نیا  قانون بننے سے پہلے سعودی عرب میں قیام پذیر فی خاندان کو ہر 6 ماہ  میں  200ریال فیس دینا ہوتا  تھا مگر اب نئے قانون کے مطابق ایک خاندان کے بجائے ہرایک فرد پر ماہانہ 200ریال فیس  ادا کرنا  ہوگا۔ 

عبدالحفیظ کے مطا بق جس طرح بھارتی شہریوں کے لئے  ’’آدھار کارڈ ‘‘ ہے اسی طرح وہاں  غیر ملکی شہر یوں کے لئے ’’اقامہ ‘‘ کارڈ ہے۔ پہلے اقامہ کے لئے  550ریال  دینے ہوتے تھے مگر اب  اقامہ کے لئے 5500ریال ادا کرنا ہوگا۔  ان کے مطابق چھٹیوں پر انڈیا جانے کی صورت میں پاسپورٹ پر انٹری اور ایکزٹ کے لئے پہلے کوئی چارج نہیں لگتا تھا، اب فی پاسپورٹ دو سو ریال  ماہانہ کے حساب سے چارج کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اگر اُنہیں اپنی پوری فیملی کے ساتھ تین ماہ کے لئے انڈیا جانا ہوتوانہیں اپنے ساتھ  بیوی اور چار بچوں   کے لئے ماہانہ دو سو ریال کے حساب سے تمام چھ ممبران کی فیس (دو سو ریال X چھ ممبران X تین ماہ)  3600 ریال ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر انڈیا میں چھ مہینہ رہنا ہو تو 7200 ریال ادا کرنے ہوں گے۔ (7200 ریال مطلب  132,048انڈین  روپیہ)۔

جناب عبدالحفیظ   نے بتایا کہ لوگوں کی تنخواہیں اتنی نہیں ہیں کہ وہ نئی اضافی  فیسوں کا بوجھ اُٹھا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ    وہ قریب 30 سال  سے سعودی میں اکائونٹنٹ کی حیثیت سے کام کررہے تھے، مگر نئے قانون سے پریشان ہوکر اپنی پوری فیملی کے ساتھ واپس بھٹکل آگئے ہیں۔

یہ تو انفرادی سطح پر ہوا ،تجارت ،  ملازمت اور صنعت کی بات کریں تو حالات  مزید ابتر ہے ۔سعودی عربیہ کے ایک  معروف بھٹکلی بزنس مین  قمر سعدا نے بتایا کہ  جس طرح غیر ملکی ملازمین پر نئے چارجس عائد کئے گئے ہیں اُسی طرح بزنس کرنے والوں کے لئے بھی قانون میں زبردست تبدیلیاں کی گئ ہے۔ قمر سعدا کے مطابق  سعودی عرب کی وزارت برائے محنت اور وزارت برائے سماجی ترقی نے کچھ ماہ قبل ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے سعودی میں کام کر رہے تارکین وطن کو 12 شعبوں میں ملازمت کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سعودی میں مقیم 30 لاکھ سے زائد ہندوستانیوں میں  تشویش   کی لہر دوڑ گئی  ہے۔

سعودی ذرائع کے مطابق محنت اور سماجی ترقی کے وزیر ڈاکٹر علی الغفیث نے گزشتہ ماہ  ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ان 12 شعبوں کا تذکرہ کیا جس میں اب تارکین وطن کام نہیں کر پائیں گے۔جس کے مطابق  گھڑی کی دکان، چشمے کی دکان، میڈیکل اسٹور، الیکٹریکل اور الیکٹرانک دکان، کار اسپیئر پارٹس، بلڈنگ میٹریل، کارپیٹ، آٹو موبائل اور بائیک دکان، ہوم فرنیچر اور ریڈیمیڈ آفس میٹریل، ریڈیمیڈ گارمنٹ، برتن کی دکان، کیک اور پیسٹری۔یہ  تمام  بارہ شعبے  اب صرف وطنی لوگ ہی   سنبھال سکیں گے  اور ہندوستانی یا غیر ملکی  ان میں سے کوئی بھی اپنے طور پر بزنس نہیں کرسکیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اورسعودی حکومت کے ذریعہ جاری اس حکم نامے پر ستمبر 2018 سے  عمل کیا جائے گا۔

ایس او سے گفتگو کرتے ہوئے جناب  تاج الدین عسکری نے بتایا کہ وہ گذشتہ چالیس سالوں سے سعودی عربیہ میں برسرروزگار تھے۔ ان کے مطابق   اب نئے قوانین سے  ہزاروں کی تعداد میں ایشیائی ممالک کے لوگ سعودی کو خیرباد کہتے ہوئے واپس اپنے وطن لوٹ رہے ہیں، مزید  بتایا کہ انہوں نے  حال ہی میں 45 ہزار ریال کی ایک  کار خریدی تھی، مگر جب نیا قانون بنا اور مجھے واپس انڈیا آنا پڑا تو اُس کار کو بحالت مجبوری صرف 6 ہزار ریال میں بیچنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جو لوگ سعودی کو خیر باد کہہ کر وطن واپس لوٹ رہے ہیں، اُنہیں  اپنے  گھر کے فرنیچرس، برتن اور کئی قیمتی چیزوں کو بھی ایسے ہی  چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے، جس کے وہاں کوئی خریدار نہیں مل رہے ہیں۔

سات لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کے انخلاء سے سعودی عربیہ میں بزنس ٹھپ پڑگیا ہے، بازاراور مارکیٹ سنسان ہیں،کئی  اسکول اور  کالجس  بند ہونے کے درپے ہے۔ جن لوگوں کی دکانیں ہیں، اُنہیں نئے قانون کے مطابق ستمبر تک خالی کرنا ہے اور جن لوگوں کا کاروبار 12 شعبوں میں شامل نہیں ہیں، وہ بھی بازاروں میں گاہک نہ ہونے سے پریشان ہیں۔

 ریاست کے دیگر مقامات سے ساحلی پٹی کے شہر بھٹکل سے موازنہ کریں تو بھٹکل سے خلیجی ممالک کا رشتہ کچھ زیادہ ہی ہے ،سعودی عرب میں نافذ نئے قانون کی    وجہ سے  گذشتہ ایک ہفتہ میں 20 سے زائد خاندان سعودی عرب کو خیر آباد کہتے ہوئے اپنے وطن بھٹکل پہنچے ہیں۔ وہاں رہائش پذیر کنڑیگاس کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں کی بات کریں تو سعودی عرب کی صنعت ، تجارت وغیرہ مکمل طورپر ختم ہوتی جارہی ہے۔

سمجھا جارہا ہے کہ سعودی عربیہ کے نئے قانون سے غیر ملکی بالخصوص سعودی میں رہائش پذیر ہندوستانی عوام سخت پریشان ہیں اور اُن کے لئے واپس انڈیا جانے کے علاوہ اب دوسرا کوئی چارہ باقی  نہیں بچا ہے۔ 

خبر ہے کہ اب تک بیس  سے زائد بھٹکلی فیملی سعودی کو خیر باد کہتے ہوئے  واپس بھٹکل آچکی ہے اور واپس آنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس بات کی بھی اطلاع ہے کہ اکثر لوگوں نے  حج  کرکے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا ہے، جبکہ کئی لوگوں نے اپنی فیملی کو بھٹکل چھوڑ کر نئی اُمیدوں کے ساتھ   واپس سعودی بھی گئے ہیں  ۔ غالباً اُنہیں  توقع ہے کہ سعودی مارکٹ کی خراب  پوزیشن کو  دیکھتے ہوئے سعودی قانون میں  تھوڑی  بہت نرمی لائی جاسکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے لوگ سعودی عربیہ میں  چالیس اور پچاس سال سے  ملازمت کررہے ہیں اور اچھی تنخواہ ملنے کی وجہ  سے سالوں سال  وہیں پر مقیم ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ  اس سے سعودی باشندوں کو ملازمت ملنے میں دشواریاں پیش آنے لگیں جس کے پیش نظر سعودی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

سعودی عرب سے 2017 سے 2018 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک 7 لاکھ سے زائد  غیرملکی  ملازمین  سعودی عربیہ کو گڈ بائی کرچکے ہیں اور روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ واپس اپنے ملک جانے پر مجبور ہیں۔ میڈیا رپورٹ پر بھروسہ کریں تو 2600 غیرملکی یومیہ کی بنیاد پر سعودی عربیہ  کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق 2017 کے آغاز سے تاحال 7.2لاکھ غیر ملکی مزدور سعودی عربیہ  سے نکل چکے ہیں ۔

دوسری جانب 2018 کی پہلی سہ ماہی (جنوری سے مارچ) کے اختتام پر سعودی شہریوں میں بیروزگاری کی شرح 12.9 فیصد تک پہنچ گئی، 1.07 ملین سعودی روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔محکمہ شماریات کے سربراہ ڈاکٹر فہد التخیفی نے پریس کانفرنس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران 2لاکھ 34ہزار سے زائد غیرملکی سعودی عربیہ  سے نکل چکے ہیں۔ سعودی مردوں میں بیروزگاری کی شرح 7.6 فیصد اور خواتین میں 30.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعدادوشمار 2018 کی پہلی سہ ماہی کے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران میں قید ضلع شمالی کینرا کے ماہی گیروں نے رہائی کی اپیل کے ساتھ جاری کیا نیا ویڈیو؛ اُترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر نے جلد رہائی کی دی یقین دہانی

ایرانی سمندری حدود کے خلاف ورزی کرنے کے الزام میں دبئی سے ماہی گیری کے لئے نکلنے والے شمالی کینرا کے جن 18افراد کو ایرانی حفاظتی دستے نے گزشتہ تقریباً ساڑھے تین مہینوں سے ’کشتیوں میں قید‘کررکھا ہے ، انہوں نے ایک نیا ویڈیو جاری کرتے ہوئے مجلس اصلاح وتنظیم، دبئی جماعت ، ضلع ...

 قطر  حلقہ ادب اسلامی کے زیراہتمام ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی صدارت میں  نعتیہ اجلاس ومشاعرہ کا انعقاد

بڑی مسرت کی بات ہے کہ حلقہء ادب اسلامی۔قطر نے 8 نومبر 2018م کی شب اپنا سالانہ نعتیہ اجلاس ومشاعرہ  ادار ہ ادب اسلامی ہند کے کل ہند صدر  ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی صدارت میں منعقد کیا، موصوف محترم، حلقے کی خصوصی دعوت پر دوحہ قطر تشریف لائے ہوے تھے، اجلاس میں ڈاکٹر رضوان رفیقی فلاحی ...

دوحہ قطر میں ’جدید ادبی تحریکات و نظریات پر ایک نظر‘توسیعی خطبہ کا انعقاد : ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی    کا پرمغز خطاب

جدید ادبی تحریکات و نظریات پر ایک نظر، اس عنوان کے تحت مؤرخہ 10 نومبر 2018م سنیچر کی شام حلقہء ادب اسلامی قطر نے ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی صاحب کی ہندوستان سے آمد کی مناسبت سے استفادہ کرتے ہوئے ایک توسیعی خطبہ کا اہتمام کیا، ڈاکٹر صاحب حلقہ کے سالانہ نعتیہ اجلاس و مشاعرہ کی صدارت کے ...

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

سعودی شہزادے کی گیارہ ماہ بعد رہائی

سعودی عرب میں گذشتہ سال بدعنوانی پرکریک ڈاؤن کے عمل کی تنقید کرنے والے سعودی شہزادے خالد بن طلال کو کئی ماہ کی حراست کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔شہزادہ خالد بن طلال کے رشتہ داروں نے سوشل میڈیا پر ان کی تصویر پوسٹ کی ہے جس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ گذشتہ ایک دو روز ...

منگلورو:آر ایس ایس پرچارک تربیتی کیمپ میں امیت شاہ کی شرکت۔ سرخ دہشت گردی ، رام مندر، سبریملا اور انتخابات پر ہوئی خاص بات چیت

ملک کی مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی مصروفیت کے باوجود بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے منگلورو میں آر ایس ایس ’ پرچارکوں‘ کے لئے منعقدہ 6 روزہ تربیتی کیمپ کے اختتام سے ایک دن پہلے ’سنگھ نکیتن‘ میں پہنچ نے کے لئے وقت نکالااور تربیتی کیمپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

بھٹکل میں والوو بس کی درخت سے ٹکر؛ ٹہنی گرکر بس کے اندر گھس گئی؛ایک کی موقع پر موت

مینگلور سے مسافروں کو بھر کر بھٹکل بس اسٹائنڈ پر اُتارنے کے بعد والوو بس کو  ڈپو میں لے جانے کے دوران  ساگر روڈ پر  واقع ایک درخت کی ٹہنی سے ٹکراجانے کے نتیجے میں  بس کنڈیکٹر کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت پنچیّا مٹاپتی (35) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

بھٹکل : شمس مونٹسری کے معصوم بچے چاچا نہرو کے بھیس میں :طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے نمائش اور بازار کا اہتمام

14نومبر بھارت کے پہلے وزیرا عظم جواہر لال نہرو کے یوم پیدائش کی مناسبت سے تربیت ایجوکیشن سوسائٹی کی نیو شمس مونٹسری اسکول میں معصوم اور چھوٹے چھوٹے بچے چاچا نہرو کی ٹوپی اور لباس میں ملبوس ہوتے ہوئے انوکھے انداز میں پروگرام منایا۔

کل جمعہ کو کاروار میں ہوگا جائیداد کی رجسٹریشن اور اسٹامپنگ سہولیات سے لیس کاویری آن لائن خدمات کا افتتاح

رجسٹریشن اینڈ اسٹامپ محکمہ کے عوامی معاون منصوبے ’’کاویری آن لائن خدمات ‘‘ کا 16نومبر بروز جمعہ کو باقاعدگی کے ساتھ افتتاح کئے جانے کا ضلع نگراں کاروزیر اور وزیر برائے تحصیل آر وی دیش پانڈے نے اعلان کیا۔

 ضلع ہیسکام محکمہ کی جانب سے 17نومبر کو  کاروار اور ہوناور میں ہیسکام عدالت کا قیام

اتر کنڑا ضلع محکمہ ہیسکام کی جانب سے 17نومبر کو کاروار اور ہوناور معاون علاقہ میں ہیسکام گاہکوں کے لئے کمی بیشی اور ان کی شکایات کی سماعت کے لئے عدالت کا اہتمام کئے جانےکی محکمہ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں جانکاری دی گئی ہے۔

کاروار: بحریہ ہفتہ کی مناسبت سے بحریہ اڈے کے زیراہتمام اسکولی بچوں کے لئے پینٹنگ مقابلہ کا انعقاد

ہندوستانی بحریہ کے زیراہتمام منائے جارہے ’’بحریہ ہفتہ 2018‘‘ کی مناسبت سے بحریہ اڈے کاروار کی جانب سے 11نومبر 2018کو دئوئیدنا سیوا سنگھ ہال میں اسکول بچوں کے لئے منعقد کئے گئے  ڈرائنگ اور پینٹنگ مقابلہ  میں 47اسکولوں کے 280طلبا شریک ہوئے۔

منگلورو:آر ایس ایس پرچارک تربیتی کیمپ میں امیت شاہ کی شرکت۔ سرخ دہشت گردی ، رام مندر، سبریملا اور انتخابات پر ہوئی خاص بات چیت

ملک کی مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی مصروفیت کے باوجود بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے منگلورو میں آر ایس ایس ’ پرچارکوں‘ کے لئے منعقدہ 6 روزہ تربیتی کیمپ کے اختتام سے ایک دن پہلے ’سنگھ نکیتن‘ میں پہنچ نے کے لئے وقت نکالااور تربیتی کیمپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

جعلی ڈگری کے ذریعہ دہلی یونیورسٹی میں داخلے کا معاملہ ڈوسو صدر انکت اے بی وی پی سے برطرف

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جعلی ڈگری تنازعہ کی وجہ سے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈوسو) کے صدر انکت بسویا کو عہدہ سے استعفیٰ دینے کے ساتھ ہی انکوائری مکمل ہونے تک تنظیم سے برطرف کردیا ہے۔

مختارعباس نقوی نے کیا ہندوستان کے بین الاقوامی تجارتی میلے میں ہنر ہاٹ کا افتتاح

اقلیتی امورکے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج نئی دہلی کے پرگتی میدان میں ہندوستان کے بین الاقوامی تجارتی میلے میں ہنرہاٹ کا افتتاح کیاہے۔جوکاریگروں اور دستکاروں کوبااختیار بنانے کے لیے ایک معتبربرانڈبن گیاہے۔ ہنرہاٹ کااہتمام14 نومبر سے 27 نومبر 2018 کے دوران کیا جارہا ...

بھارت۔ تائیوان ایس ایم ای ترقیاتی فورم تائیپی میں شروع 

vایم ایس ایم ای کے سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار پانڈا 13 سے 17 نومبر 2018 تک چلنے والے بھارت 150 تائیوان ایس ایم ای ترقیاتی فورم کے اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔ فورم میں کل اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر پانڈا نے کہا کہ بھارت میں ایم ایس ایم ای کی پوزیشن کلیدی اہمیت کی حامل ہے

گری راج سنگھ کے ہاتھوں ایم ایس ایم ای کے پویلین کاافتتاح

ایم ایس ایم ای کے وزیر مملکت گری راج سنگھ نے آج نئی دہلی میں 38 ویں بھارت۔بین الاقوامی تجارتی میلے (آئی آئی ٹی ایف) میں ایم ایس ایم ای کے پویلین کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ معیاری سازوسامان کی تیاری اور گاوؤں کی صنعتوں کی جامع ترقی ملک کی ترقی میں ...

ریرا صنعت میں مثبت تبدیلی پیدا کررہا ہے:ہردیپ سنگھ پوری 

ہاؤسنگ اور شہری امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ ریرا (آر ای آر اے) کے اس نئے دور میں ہم صنعت میں مثبت تبدیلی کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریرا کے نفاذ کے دوسرے سال میں مجھے خوشی ہے کہ 6 شمال مشرقی ریاستوں اور مغربی بنگال کو چھوڑ کر تمام ...

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

کہ اکبر نام لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!ایم ودود ساجد

میری ایم جے اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔میں جس وقت ویوز ٹائمز کا چیف ایڈیٹر تھا تو ان کے روزنامہ Asian Age کا دفتر جنوبی دہلی میں‘ہمارے دفتر کے قریب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ 2003/04 میں شاہی مہمان کے طورپرحج بیت اللہ سے واپس آئے تو انہوں نے مکہ کانفرنس کے تعلق سے ایک طویل مضمون تحریر ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...