سعودی کے نئے قانون سے ہندوستانی عوام سخت پریشان؛ 15 ماہ میں 7.2 لاکھ غیر ملکی ملازمین نے سعودی عربیہ کو کیا گُڈ بائی؛ بھٹکل کے سینکڑوں لوگ بھی ملک واپس جانے پر مجبور

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th July 2018, 12:03 AM | خلیجی خبریں | ساحلی خبریں | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:8/ جولائی (ایس او نیوز) سعودی عرب میں ویز ے کے متعلق نئے قانون کا نفاذ ہوتے ہی بھٹکل کے ہزاروں لو گ اپنی صنعت کاری، تجارت اور ملازمت کو الوداع کہتے ہوئے وطن واپس لوٹنے پر مجبورہوگئے  ہیں۔ اترکنڑا ضلع کے اس خوب صورت شہر بھٹکل کے  قریب 5000 لوگ سعودی عربیہ میں برسر روزگار تھے جن میں سے کئی لوگ واپس بھٹکل پہنچ چکے ہیں تو  بہت سارے لوگ اب اپنے شہر کی راہ لینے کی تیار ی میں ہیں۔

سعودی عرب کے جدہ، ریاض، دمام، الخوبر، ینبع، الجبیل، رحیمہ سمیت کئی شہروں میں بھٹکلی مسلمان گذشتہ پچاس سالوں سے برسررورزگار ہیں،  ان میں  کئی لوگ اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں تو  دیگر اپنے گھراور گھروالوں کی کفالت کے لئے گھر سے دور دراز قیام کئے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے  اپنی محنت کی کمائی میں بچت کرتے ہوئے سعودی کے مختلف شہروں  میں  خود کا کاروبار بھی  شروع کیا ہے   مگر اب انہیں  نئے قانو ن اور نئے ٹیکس کی بندشوں سے دشواری محسوس ہونے لگی ہے۔

ٹیکس کا نیا قانون : تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں سعودی عرب کی معیشت پوری طرح تیل پر ہی انحصار کرتی ہے، سعودی عرب، دبئی جیسے خلیجی ممالک کی معیشت کے  لئے دنیا بھر کے  سیاحوں کی آمدو رفت بڑی اہمیت رکھتی ہے،سیاحوں کی نقل وحمل سے ہونے والی کمائی وہاں کی حکومتوں کے لئے بڑی مدد ملتی ہے۔ ملک کو معاشی سطح پر مضبوط کرنے اور مقامی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے سعودی عرب نے اپنے قانون میں کئی ساری تبدیلیاں کی ہیں۔

 ایس او سے گفتگو کرتے ہوئے بھٹکل مسلم جماعت جدہ کے سابق سرگرم رکن عبدالحفیظ عسکری نے بتایا کہ نیا  قانون بننے سے پہلے سعودی عرب میں قیام پذیر فی خاندان کو ہر 6 ماہ  میں  200ریال فیس دینا ہوتا  تھا مگر اب نئے قانون کے مطابق ایک خاندان کے بجائے ہرایک فرد پر ماہانہ 200ریال فیس  ادا کرنا  ہوگا۔ 

عبدالحفیظ کے مطا بق جس طرح بھارتی شہریوں کے لئے  ’’آدھار کارڈ ‘‘ ہے اسی طرح وہاں  غیر ملکی شہر یوں کے لئے ’’اقامہ ‘‘ کارڈ ہے۔ پہلے اقامہ کے لئے  550ریال  دینے ہوتے تھے مگر اب  اقامہ کے لئے 5500ریال ادا کرنا ہوگا۔  ان کے مطابق چھٹیوں پر انڈیا جانے کی صورت میں پاسپورٹ پر انٹری اور ایکزٹ کے لئے پہلے کوئی چارج نہیں لگتا تھا، اب فی پاسپورٹ دو سو ریال  ماہانہ کے حساب سے چارج کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اگر اُنہیں اپنی پوری فیملی کے ساتھ تین ماہ کے لئے انڈیا جانا ہوتوانہیں اپنے ساتھ  بیوی اور چار بچوں   کے لئے ماہانہ دو سو ریال کے حساب سے تمام چھ ممبران کی فیس (دو سو ریال X چھ ممبران X تین ماہ)  3600 ریال ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر انڈیا میں چھ مہینہ رہنا ہو تو 7200 ریال ادا کرنے ہوں گے۔ (7200 ریال مطلب  132,048انڈین  روپیہ)۔

جناب عبدالحفیظ   نے بتایا کہ لوگوں کی تنخواہیں اتنی نہیں ہیں کہ وہ نئی اضافی  فیسوں کا بوجھ اُٹھا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ    وہ قریب 30 سال  سے سعودی میں اکائونٹنٹ کی حیثیت سے کام کررہے تھے، مگر نئے قانون سے پریشان ہوکر اپنی پوری فیملی کے ساتھ واپس بھٹکل آگئے ہیں۔

یہ تو انفرادی سطح پر ہوا ،تجارت ،  ملازمت اور صنعت کی بات کریں تو حالات  مزید ابتر ہے ۔سعودی عربیہ کے ایک  معروف بھٹکلی بزنس مین  قمر سعدا نے بتایا کہ  جس طرح غیر ملکی ملازمین پر نئے چارجس عائد کئے گئے ہیں اُسی طرح بزنس کرنے والوں کے لئے بھی قانون میں زبردست تبدیلیاں کی گئ ہے۔ قمر سعدا کے مطابق  سعودی عرب کی وزارت برائے محنت اور وزارت برائے سماجی ترقی نے کچھ ماہ قبل ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے سعودی میں کام کر رہے تارکین وطن کو 12 شعبوں میں ملازمت کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سعودی میں مقیم 30 لاکھ سے زائد ہندوستانیوں میں  تشویش   کی لہر دوڑ گئی  ہے۔

سعودی ذرائع کے مطابق محنت اور سماجی ترقی کے وزیر ڈاکٹر علی الغفیث نے گزشتہ ماہ  ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ان 12 شعبوں کا تذکرہ کیا جس میں اب تارکین وطن کام نہیں کر پائیں گے۔جس کے مطابق  گھڑی کی دکان، چشمے کی دکان، میڈیکل اسٹور، الیکٹریکل اور الیکٹرانک دکان، کار اسپیئر پارٹس، بلڈنگ میٹریل، کارپیٹ، آٹو موبائل اور بائیک دکان، ہوم فرنیچر اور ریڈیمیڈ آفس میٹریل، ریڈیمیڈ گارمنٹ، برتن کی دکان، کیک اور پیسٹری۔یہ  تمام  بارہ شعبے  اب صرف وطنی لوگ ہی   سنبھال سکیں گے  اور ہندوستانی یا غیر ملکی  ان میں سے کوئی بھی اپنے طور پر بزنس نہیں کرسکیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اورسعودی حکومت کے ذریعہ جاری اس حکم نامے پر ستمبر 2018 سے  عمل کیا جائے گا۔

ایس او سے گفتگو کرتے ہوئے جناب  تاج الدین عسکری نے بتایا کہ وہ گذشتہ چالیس سالوں سے سعودی عربیہ میں برسرروزگار تھے۔ ان کے مطابق   اب نئے قوانین سے  ہزاروں کی تعداد میں ایشیائی ممالک کے لوگ سعودی کو خیرباد کہتے ہوئے واپس اپنے وطن لوٹ رہے ہیں، مزید  بتایا کہ انہوں نے  حال ہی میں 45 ہزار ریال کی ایک  کار خریدی تھی، مگر جب نیا قانون بنا اور مجھے واپس انڈیا آنا پڑا تو اُس کار کو بحالت مجبوری صرف 6 ہزار ریال میں بیچنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جو لوگ سعودی کو خیر باد کہہ کر وطن واپس لوٹ رہے ہیں، اُنہیں  اپنے  گھر کے فرنیچرس، برتن اور کئی قیمتی چیزوں کو بھی ایسے ہی  چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے، جس کے وہاں کوئی خریدار نہیں مل رہے ہیں۔

سات لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کے انخلاء سے سعودی عربیہ میں بزنس ٹھپ پڑگیا ہے، بازاراور مارکیٹ سنسان ہیں،کئی  اسکول اور  کالجس  بند ہونے کے درپے ہے۔ جن لوگوں کی دکانیں ہیں، اُنہیں نئے قانون کے مطابق ستمبر تک خالی کرنا ہے اور جن لوگوں کا کاروبار 12 شعبوں میں شامل نہیں ہیں، وہ بھی بازاروں میں گاہک نہ ہونے سے پریشان ہیں۔

 ریاست کے دیگر مقامات سے ساحلی پٹی کے شہر بھٹکل سے موازنہ کریں تو بھٹکل سے خلیجی ممالک کا رشتہ کچھ زیادہ ہی ہے ،سعودی عرب میں نافذ نئے قانون کی    وجہ سے  گذشتہ ایک ہفتہ میں 20 سے زائد خاندان سعودی عرب کو خیر آباد کہتے ہوئے اپنے وطن بھٹکل پہنچے ہیں۔ وہاں رہائش پذیر کنڑیگاس کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں کی بات کریں تو سعودی عرب کی صنعت ، تجارت وغیرہ مکمل طورپر ختم ہوتی جارہی ہے۔

سمجھا جارہا ہے کہ سعودی عربیہ کے نئے قانون سے غیر ملکی بالخصوص سعودی میں رہائش پذیر ہندوستانی عوام سخت پریشان ہیں اور اُن کے لئے واپس انڈیا جانے کے علاوہ اب دوسرا کوئی چارہ باقی  نہیں بچا ہے۔ 

خبر ہے کہ اب تک بیس  سے زائد بھٹکلی فیملی سعودی کو خیر باد کہتے ہوئے  واپس بھٹکل آچکی ہے اور واپس آنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس بات کی بھی اطلاع ہے کہ اکثر لوگوں نے  حج  کرکے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا ہے، جبکہ کئی لوگوں نے اپنی فیملی کو بھٹکل چھوڑ کر نئی اُمیدوں کے ساتھ   واپس سعودی بھی گئے ہیں  ۔ غالباً اُنہیں  توقع ہے کہ سعودی مارکٹ کی خراب  پوزیشن کو  دیکھتے ہوئے سعودی قانون میں  تھوڑی  بہت نرمی لائی جاسکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے لوگ سعودی عربیہ میں  چالیس اور پچاس سال سے  ملازمت کررہے ہیں اور اچھی تنخواہ ملنے کی وجہ  سے سالوں سال  وہیں پر مقیم ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ  اس سے سعودی باشندوں کو ملازمت ملنے میں دشواریاں پیش آنے لگیں جس کے پیش نظر سعودی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

سعودی عرب سے 2017 سے 2018 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک 7 لاکھ سے زائد  غیرملکی  ملازمین  سعودی عربیہ کو گڈ بائی کرچکے ہیں اور روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ واپس اپنے ملک جانے پر مجبور ہیں۔ میڈیا رپورٹ پر بھروسہ کریں تو 2600 غیرملکی یومیہ کی بنیاد پر سعودی عربیہ  کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق 2017 کے آغاز سے تاحال 7.2لاکھ غیر ملکی مزدور سعودی عربیہ  سے نکل چکے ہیں ۔

دوسری جانب 2018 کی پہلی سہ ماہی (جنوری سے مارچ) کے اختتام پر سعودی شہریوں میں بیروزگاری کی شرح 12.9 فیصد تک پہنچ گئی، 1.07 ملین سعودی روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔محکمہ شماریات کے سربراہ ڈاکٹر فہد التخیفی نے پریس کانفرنس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران 2لاکھ 34ہزار سے زائد غیرملکی سعودی عربیہ  سے نکل چکے ہیں۔ سعودی مردوں میں بیروزگاری کی شرح 7.6 فیصد اور خواتین میں 30.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعدادوشمار 2018 کی پہلی سہ ماہی کے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

دبئی میں راہل نے اخبار نویسوں سے کہا؛ ’بی جے پی مشتعل اور غیر روادار؛ کررہی ہے ہمارے اداروں کو برباد؛ مگر ہم اب اُنہیں ایسا کرنے دیں گے

متحدہ عرب امارات کے دورہ پر پہنچے راہل گاندھی نے دبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر راست حملہ کیا اور  کہ  ’’بی جے پی مشتعل اور غیر روادار ہو رہی ہے اور ہمارے اداروں کو برباد کر رہی ہے، جیسا کہ  سپریم کورٹ ، ریزرو بینک اور الیکشن کمیشن   آف انڈیا  میں ...

دبئی میں راہول گاندھی نے کہا؛ میں آپ کے من کی بات سننے آیا ہوں؛ ہزاروں کی بھیڑ میں راہول کا چل گیا جادو؛ راہول۔راہول کے نعرے

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے کہاکہ آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات کے بعد مرکز میں ان کی حکومت بننے پر آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔متحدہ عرب امارات کے اپنے پہلے دورہ پر آئے مسٹر گاندھی نے جمعہ کو شرمک کالونی میں رہنے والے ہندوستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ...

ایران سے رہا ہونے والے سبھی ہندوستانی ماہی گیر خیروعافیت کے ساتھ دبئی پہنچ گئے

کل منگل کو ایرانی عدالت کے حکم سے رہا ہونے والے ضلع اُتر کنڑا کے 18 ماہی گیر سمیت جملہ 28 ماہی گیروں کی دونوں بوٹ  آج بدھ رات کو خیر و عافیت کے ساتھ دبئی پہنچ گئی۔ جس کے ساتھ ہی سبھی ماہی گیروں کے گھروالوں اور دوست احباب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

دبئی کے قریب عجمان گراونڈ میں جمعہ سے شروع ہورہا ہے نوائط پریمئر لیگ کا شاندار کرکٹ ٹورنامنٹ

بھٹکل کمیونٹی کا T20کرکٹ مقابلہ ’ایز ٹیکس نوائط پریمیئر لیگ‘ (این پی ایل) نام سے 4جنوری جمعہ کے دن 4بجے عجمان میں شروع ہوگا۔ اس بات کی اطلاع این پی ایل کی جانب سے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے دی گئی ہے۔

دبئی میں بی پی ایل کرکٹ ٹورنامنٹ کا 15 مارچ سے ہوگا شاندار آغاز؛5جنوری سے ہوگا ٹیموں کا اندراج، وزٹ ویزا پردبئی میں موجود کھلاڑیوں کے لئے بھی سنہرا موقع

دبئی میں بھٹکل پریمئیر لیگ  المعروف  بی پی ایل کرکٹ کا آٹھواں ٹورنامنٹ  مورخہ 15 مارچ 2019 ؁ سے شروع ہوگا، البتہ بی پی ایل کے لئے ٹیموں کا اندراج 3/ جنوری سے شروع ہوگا۔ اس بات کی اطلاع  ٹورنامنٹ کے کمشنر    جوکاکوشمس الدین ضیاء نے دی۔

ایران میں بوٹ میں نظر بند بھٹکل سمیت اُترکنڑا کے ماہی گیر بہت جلد رہا ہونے کی توقع

دبئی سے ماہی گیر ی کے دوران  ایران سرحد پارکرنے کے الزام میں  ایران نیوی  کی تحویل میں بوٹ میں ہی نظر بند بھٹکل ، کمٹہ سمیت اترکنڑا ضلع کے 18ماہی گیر وں کی رہائی کے لئے جاری قانونی کارروائی آخری مراحل میں ہے۔

چیتے کی کھال فروخت کرنے کے دوران کنداپور میں بھٹکل کے پانچ افراد سمیت دس گرفتار

یہاں شاستری سرکل کے قریب غیر قانونی طورپر چیتے کی کھال فروخت کرنے کے الزام میں بینگلور کی سی آئی ڈی فوریسٹ یونٹ  نے دس افراد کو گرفتار کرلیا ہے جس میں پانچ کا تعلق بھٹکل، تین کا تعلق بیندور اور ایک ایک کا تعلق ، منڈگوڈ اور  ہوناورسے ہے۔ گرفتاری کی یہ واردات جمعہ کی دوپہر کو ...

مینگلور کے قریب پڈیل ہائی وے پر گیس ٹینکر اُلٹ گئی؛ گیس رسنے کی اطلاع کے بعد نیشنل ہائی وے بند

یہاں پڈیل۔ مرولی ہائی وے پر ایک گیس سے بھری ٹینکر اُلٹ جانے سے  گیس رسنا شروع ہوجانے  سے نیشنل  ہائی وے کو پولس نے بند کردیا ہے جس کے نتیجے میں  سڑک کے دونوں کنارے  ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا ۔ بتایا گیا ہے کہ پولس نے حفاظتی اقدامات کے تحت آس پاس کے سبھی علاقوں کے مکینوں کو ...

کاروار:انکولہ ۔ہبلی ریلوے لائن کی سدراہ بنے ماحولیاتی این جی اوز کو ملنے والی مالی امداد کی جانچ کریں : رکن اسمبلی روپالی نائک کامرکزی ریلوے وزیر سے مطالبہ

ریاست کے ساحلی علاقے سے شمالی کرناٹک  کو جوڑنے والی ’قسمت کی ریکھا‘ انکولہ ۔ ہبلی ریلوے لائن کی تعمیرمیں جو ماحولیاتی اداروں ، این جی اوزاور ماہرین سدراہ بنے ہوئے ہیں دراصل یہ تمام  بیرونی ممالک کی  کروڑوں دولت کے تعاون سے بےبنیاد چیخ وپکار کررہے ہیں کاروار انکولہ کی رکن ...

کاروار میں انکولہ ۔ہبلی ریلوے لائن منصوبےکو جاری کرنےعوامی احتجاج : قومی شاہراہ بند کرنے پر احتجاجی پولس کی تحویل میں

انکولہ۔ ہبلی ریلوے لائن منصوبہ، سرحد علاقہ کاروار میں صنعتوں کا قیام سمیت مختلف مانگوں کو لے کر لندن برج پر قومی شاہراہ کو بند کرتے ہوئے احتجاج کی تیاری میں مصروف کنڑا چلولی واٹال پارٹی کے واٹال ناگراج سمیت 21جہدکاروں کو پولس نے گرفتار کرنے کے بعد رہاکردیا۔

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ، بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد نے گواہی دی، دفاعی وکلاء عدالت سے غیر حاضر ، جرح اگلے ہفتہ متوقع

مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں سماعت روز بہ روز جاری ہے ، آج اس معاملے میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد کی گواہی عمل میں آئی

مثبت فکر اورتوانائی سے ملک کی ترقی ہوتی ہے:ارون جیٹلی 

مودی حکومت کے ناقدین کو بات بات پر احتجاج کرنے والا بتاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جمعرات کو ان پر جھوٹ گھڑنے اور ایک منتخب حکومت کو کمزور کرکے جمہوریت کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ طبی معائنہ کے لیے امریکہ دورہ پر گئے ارون جیٹلی نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اظہار رائے کی ...

عد لیہ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار پر پابندی لگانے والی کئی تجاویزمستردکیں 

سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار کے لئے لائسنس اور اس کاروبار پر پابندی لگانے والے کچھ تجاویز جمعرات کومنسوخ کردیئے۔ جسٹس اے کے سیکری کی صدارت والے بنچ نے مہاراشٹر کے ہوٹل، ریستوران اور بار ہاؤس میں فحش رقص پر پابندی اورعورتوں کے وقار کی حفاظت سے متعلق قانون 2016 کے کچھ دفعات ...

لوک سبھا انتخابات 2019؛ کرناٹک میں نئے مسلم انتخابی حلقہ جات کی تلاش ۔۔۔۔۔۔ آز: قاضی ارشد علی

جاریہ 16ویں لوک سبھا کی میعاد3؍جون2019ء کو ختم ہونے جارہی ہے ۔ا س طرح جون سے قبل نئی لوک سبھا کا تشکیل ہونا ضروری ہے۔ انداز ہ ہے کہ مارچ کے اوائل میں لوک سبھا انتخابات کا عمل جاری ہوجائے گا‘ اور مئی کے تیسرے ہفتے تک نتائج کا اعلان بھی ہوجائے گا۔ یعنی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت 17ویں ...

2002گجرات فسادات: جج پی بی دیسائی نے ثبوتوں کو نظر انداز کردیا: سابق IAS افسر و سماجی کارکن ہرش مندرکا انکشاف

 خصوصی تفتیشی ٹیم عدالت کے جج پی ۔بی۔ دیسائی نے ان موجود ثبوتوں کو نظر انداز کیاکہ کانگریس ممبر اسمبلی احسان جعفری جنہیں ہجوم نے احمدآباد کی گلمرگ سوسائٹی میں فساد کے دوران قتل کردیا تھا انہوں نے مسلمانوں کو ہجوم سے بچانے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے فساد پر قابو ...

ضلع اترکنڑا کے قحط زدہ تعلقہ جات میں بھٹکل بھی شامل؛ کم بارش سے فصلوں پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ

ضلع اُترکنڑا کے پانچ قحط زدہ تعلقہ جات میں بھٹکل کا بھی نام شامل ہے جس پر عوام میں تشویش پائی جارہی ہے۔ جس طرح  ملک بھر میں سب سے زیادہ بارش چراپونجی میں ہوتی ہے، اسی طرح بھٹکل کا ضلع کا چراپونچی کہا جاتا تھا، مگر اس علاقہ میں بھی  بارش کم ہونے سے بالخصوص کسان برادری میں سخت ...

بھٹکل کے سرکاری اسکولوں میں گرم کھانے کے اناج میں کیڑے مکوڑوں کی بھرمار

  اسکولی بچوں کو مقوی غذا فراہم کرتے ہوئے انہیں جسمانی طورپر طاقت بنانے کے لئے سرکار نے دوپہر کے گرم کھانا منصوبہ جاری کیاہے۔ متعلقہ منصوبے سے بچوں کو قوت کی بات رہنے دیجئے، حالات کچھ ایسے ہیں کہ تعلقہ کے اسکول بچوں کی صحت پر اس کے برے اثرات ہونے کا خطرہ ہے۔ گزشتہ 2مہینوں سے ...

نئے سال کی آمد پر جشن یا اپنامحاسبہ ................ آز: ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ہمیں سال کے اختتام پر، نیز وقتاً فوقتاً یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں ۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامۂ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لئے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟ یا ...

بنگلورو شہر میں لاپتہ ہونے والوں کی تعداد میں تشویش ناک اضافہ؛ لاپتہ افراد کو ڈھونڈ نکالنے میں پولس کی ناکامی پر عدالت بھی غیر مطمئن

شہر گلستان بنگلورو میں خاندانی مسائل، ذہنی ودماغی پریشانیاں اور بیماریوں کی وجہ سے اپناگھر چھوڑ کر لاپتہ ہوجانے والوں کی تعداد میں تشویش ناک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔  ایک جائزے کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں گمشدگی کے جتنے معاملات پولیس کے پاس درج ہوئے ہیں ان میں سے 1500گم شدہ ...