اماراتی خاتون کی جنس تبدیلی کے لیے قانونی جنگ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th January 2018, 1:37 PM | خلیجی خبریں |

دبئی26جنوری (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) متحدہ عرب امارات کی ایک خاتون نے جنس تبدیل کرکے مرد بننے کیلیے قانون سے اجازت مانگ لی۔اماراتی میڈیا کے مطابق 25 سالہ خاتون نے جنس کی تبدیلی اور سرکاری کاغذات میں زنانہ نام کی جگہ مردانہ نام درج کرانے کیلیے ابوظہبی کی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں خاتون نے موقف اپنایا کہ وہ بیرون ملک جاکر اپنی جنس تبدیل کرانا چاہتی ہے۔عدالت نے خاتون کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی تاہم جنس تبدیلی کی خواہاں خاتون نے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے وفاقی اپیلٹ کورٹ سے رجوع کرلیا اور اپیل دائر کردی جو زیر سماعت ہے۔ وکیل علی عبداللہ نے دلیل پیش کی کہ پہلی عدالت کی قائم کردہ طبی کمیٹی نے ان کی موکلہ کا جائزہ لے کر اس کی تبدیلی جنس کے اہل ہونے کی رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ خاتون کو ایسے جنسی مسائل کا سامنا ہے جنہیں کسی بھی طرح ٹھیک نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس میں جنس کی تبدیلی کا مشورہ نہیں دیا گیا تھا۔وکیل نے کہا کہ 2016ء کے وفاقی قانون کی شق 4 کے تحت ایک ایسے شخص کو تبدیلی جنس کی اجازت ہے جس کی جنس واضح نہ ہو۔ یا پھر طبی آزمائش سے ثابت ہوجائے کہ اس کے ظاہری خدوخال اور کیفیت اس کے طبعی، فعلیاتی اور جینیاتی تفصیلات سے بالکل الگ ہوں۔

ایک نظر اس پر بھی

دبئی میں شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام گیٹ دو گیدر؛مرحوم باشو بھائی کی خدمات کو خراج عقیدت

شیرور اسوسی ایشن کے زیر اہتمام البستان ریسیڈنس میں شیروریئن کا گیٹ ٹو گیدر منعقد کیا گیا۔ جس میں گرین ویلی اسکول شیرور کے بانی مرحوم جناب عبدالقادر عرف باشو بھائی کو ان کی بے لوث خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا

سعودی عرب : پانچ شہروں میں خواتین کے لیے ڈرائیونگ اسکولز قائم

سعودی عرب میں محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد بن عبداللہ البسامی کا کہنا ہے کہ مملکت میں خواتین کی ڈرائیونگ سے معلق تمام مطلوبہ امور کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض سعودی جامعات کے تعاون سے خواتین کے لیے کئی ماڈل ڈرائیونگ اسکولز بھی متعارف کروا ...

دبئی کے معروف ڈاکٹر اسماعیل قاضیا سے ایک ملاقات جن کے تینوں بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں

طبی میدان یعنی میڈیکل سے وابستگی کو بہت ہی معتبر اور مقدس سمجھا جاتاہے ، گرچہ جدید دورمیں مادیت کی وجہ سے اس میں کچھ کمی ضرور آئی ہے مگر آج بھی ایسے بے شمار طبیب ہیں جو عوام کی بھلائی کی خاطر ڈاکٹری پیشہ سے وابستہ رہتے ہوئے مخلصانہ خدمات انجام دے رہےہیں۔ مسلمانوں نے طب کے میدان ...