لوک سبھا انتخابات؛ بدھ صبح بھٹکل انجمن گراونڈ سے نکالی جائے گی ووٹرس بیداری ریلی، شام کو مرڈیشور بیچ پر چھوڑے جائیں گے غبارے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th March 2019, 6:37 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 12/مارچ (ایس او نیوز)  لوک سبھا انتخابات کا بگل بجتے ہی پورے ملک میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے، ایسے میں ووٹروں میں بیداری پیدا کرنے اور اُنہیں اپنی حق رائے دہی  کا بھرپور استعمال کرنے  الیکشن کمشنر کی جانب سے بھی ملک گیر سطح پر  مختلف پروگرامس ترتیب دئے جارہے ہیں، اس تعلق سے بھٹکل میں کل بدھ صبح ٹھیک 9:30 بجے انجمن اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول میدان سے  ایک انتخابی ریلی نکالی جائے گی جبکہ اسی شام  4:30 بجے مرڈیشور بیچ میں  ووٹروں میں بیداری پیدا کرنے  والے  پیغامات کے ساتھ ہوا میں غبارے چھوڑے جائیں گے۔جبکہ  فوری بعد مرڈیشور سبھا بھون میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوگا۔

بھٹکل تعلقہ پنچایت آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ساجد مُلّا نے بتایا کہ (SVEEP) یعنی   Systematic Voters' Education and Electoral Participation کے تحت  ملک گیر سطح پر   ووٹروں میں بیداری پیدا کرنے اور سو فیصد پولنگ کو  یقینی بنانے  مختلف پروگرامس ترتیب دئے جارہے ہیں، اس کے  تحت ہر تعلقہ میں  ریلی،  ڈرامے،   پپٹ شو وغیرہ منعقد کئے جارہے ہیں۔ اسی کے تحت بھٹکل میں کل یعنی 13/ مارچ کو  انجمن گراونڈ سے زبردست ریلی نکالی جائے گی جس میں 18 سال کی عمر کے بھٹکل کی مختلف کالجس کے طلبا، نوجوان ووٹرس  سمیت  سرکاری نوکر، سرکاری آفسرس، خواتین سنگھا کی ممبرس اور  شہر کے عوام کی کثیر تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

ریلی کا افتتاح کرنے کاروار سے ضلع پنچایت کے چیف ایکزی کوٹیو آفسرمحمد روشن   تشریف لارہے ہیں، اُن کے ہاتھوں افتتاح کے بعد ریلی اولڈ بس اسٹائنڈ سے شمس الدین سرکل سے گھوم کر اندرونی روڈ سے واپس  میدان میں  پہنچ کر اختتام کو پہنچے گی۔

اسی شام 4:30 بجے مرڈیشور بیچ پر غبارے چھوڑنے کا پروگرام رکھا گیا ہے  جس کے فوری بعد مرڈیشور میٹنگ ہال میں  ایک بیداری پروگرام رکھا گیا ہے ، وہاں بھی مرڈیشور کے طلبا، ووٹرس، عوام، سرکاری آفسران، سرکاری ملازمین وغیرہ شریک ہوں گے۔ مرڈیشور پروگرام کا افتتاح  ضلع کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر کے ہریش کریں گے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے دونوں پروگراموں میں  عوام الناس سے کثیر تعداد میں  شریک ہونے کی درخواست کی ہے۔

پریس کانفرنس میں اسسٹنٹ کمشنر ساجد مُلا کے ساتھ تعلقہ پنچایت کے ایکزی کوٹیو آفسر پربھاکرچکن منے بھی موجود تھے، جنہوں نے استقبالیہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آخر میں تمام میڈیاوالوں کا شکریہ ادا کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔ 

مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ جیت

مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کو اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اترکنڑا لوک سبھا حلقے کے بی جے پی اُمیدوار اننت کمار ہیگڈے جنہوں نے کہا تھا کہ جب تک اسلام رہے گا دہشت گردی رہے گی،اسی طرح انہوں نے  دستور کی ...

ایچ کے پاٹل نے راہل گاندھی کو بھیجا استعفیٰ

ریاست میں کانگریس کے تشہیری مہم کمیٹی کے صدر ایچ کے پاٹل نے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی ہے۔