قاہرہ: انسانی حقوق کے وکیل کا صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th November 2017, 12:12 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 7نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مصر میں انسانی حقوق کے وکیل اور حزب مخالف کے راہنما، خالد علی نے پیر کے روز کہا ہے کہ 2018ء کے صدارتی انتخاب میں وہ صدر عبدالفتح السیسی کا مقابلہ کریں گے، اگر تب تک اْن کے انتخاب لڑنے پر پابندی نہیں لگائی جاتی۔علی وہ پہلے فرد ہیں جنھوں نے اب تک سیسی کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے، جو ملک کے سابق فوجی کمانڈر ہیں، جنھوں نے چار سے زیادہ برس قبل اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے سابق صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔علی نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ وہ سوشلسٹ پلیٹفارم سے انتخاب لڑیں گے، جس کا مقصد کفایت شعاری کا خاتمہ اور دولت کی تقسیم ہوگا؛ جب کہ آزادی پر حرف آئے بغیر دہشت گردی سے لڑیں گے۔اْنھوں نے سیسی کی انتظامیہ پر نکتہ چینی کی، اور الزام لگایا کہ وہ آزادی کو کچل رہی ہے اور معاشی اور سکیورٹی کی صورت حال میں ابتری کا باعث ہے۔خالد علی نے کہا کہ ’’ہر طرف پھیلی تاریکی کے باوجود، اب بھی امید باقی ہے۔ میں معاشرے کے تمام طبقوں سے متحد ہونے کی اپیل کروں گا، تاکہ توقعات پر مبنی ماحول پیدا ہو اور اس ملک کو اجتماعی جدوجہد کے ذریعے بچایا جا سکے‘‘۔بقول اْن کے، ’’یہی وجہ ہے کہ آج میں نے صدارتی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔سیسی کی جانب سے انتخابات لڑنے کا ابھی اعلان سامنے نہیں آیا۔ لیکن، عام خیال یہی ہے کہ وہ الیکشن لڑیں گے۔ سنہ 2014 میں اْنھیں 97 فی صد ووٹ پڑے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

اکثر ممالک میں جمہوری اصول اور آزادی کی صورتحال ابتر رہی: فریڈم ہاؤس

امریکہ میں قائم ایک موقر غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انتخابات کی ساکھ اور آزادی صحافت جیسے جمہوری اصول گزشتہ برس بھی تنزلی کا شکار رہے اور یہ سلسلہ گزشتہ 12 سالوں سے مسلسل ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔