حکومت کی ممبئی فراموشی کا نتیجہ 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 30th September 2017, 10:58 AM | مہمان اداریہ | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ممبئی میں الفنسٹن روڈ اور پریل ریلوے اسٹیشنوں کو جوڑنے والے پل کی تنگی ، موسلادھار بارش ، شدید بھیڑ بھاڑ کا وقت، کئی ٹرینوں کے مسافروں کا دیر سے اسٹیشن اور پُل پر موجود ہونا، بعد میں آنے والی ٹرینوں کی بھیڑ کا اُترنا اور اس کی وجہ سے پہلے سے خراب حالات کا مزید بگڑنا اور ایسے میں مبینہ طور پر اس افواہ کا پھیلنا کہ 1) مسافروں کی زبردست بھیڑ کے سبب پُل ٹونٹنے والا ہے اور 2) شارٹ سرکٹ ہوا ہے، یہ تمام عوام ایسی ہولناک بھگدڑ اور حادثے کا سبب بنے کہ 22؍ افراد لقمۂ اجل بن گئے اور کم و بیش تین درجن افراد زخمی ہیں۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا حادثہ ہوسکتا ہے۔ جو لوگ فوت ہوئے اور جو زخمی ہیں، یہ ٹرینوں کے ذریعہ روزانہ سفر کرنے والے غریب ، نچلے متوسط طبقے کے لوگ ہیں جن کیلئے لوکل ٹرینیں لائف لائن ہے۔ یہ سب دفتر پہنچنے کی عجلت میں تھے جیسا کہ روزانہ ہوتے ہیں ۔ روزانہ سلامتی کے ساتھ د فتر پہنچ جانے والے اور کام مکمل کرنے کے بعد سلامتی کے ساتھ گھر لوٹ آنے والے ان لوگوں میں سے 22؍ افراد جمعہ کو گھر سے نکلے تو اس حادثہ نے اُنہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گھر لوٹنے سے روک دیا ۔ اب اُن کی نعشیں گھر پہنچیں گی ۔ کسی کو کیا خبر کہ کس کے گھر کی کیا حالات ہے۔ کون اکلوتا کمانے والا تھا۔ کس کی شادی ہونے والی تھی یا ابھی ابھی ہوئی تھی۔ کون اپنے والدین کے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ کس نے اپنا کرئیر بنانے کیلئے کیا کیا خواب دیکھے تھے ۔ کون بیمار تھا۔ کون معذور تھا ۔ کون اس صبح کو مسرور تھا ، کون مغموم تھا۔ کس کی سالگرہ تھی اور اس نے اہل خانہ سے وعدہ کیا تھا کہ شام کو جلد گھر لوٹ آئے گا۔ ان مسافسروں کے ساتھ ہی اُن کے خواب ، احساسات ، جذبات ، منصوبے ، تمنائیں ، خوشیاں ، سب بھگدڑ میں کچل کررہ گئیں ۔ ان کے گھروں میں آہ و بکا ہوگی۔ ستم بالائے ستم وزیر ریلوے کا یہ کہنا کہ جو کچھ ہوا اُس میں مسافروں کی غلطی ہے ۔ تو کیا واقعی مسافروں کی غلطی تھی؟ کیا ٹرین میں سفر کرنا غلطی ہے؟ تیز بارش میں پل پر ٹھہر جانا غلطی ہے؟ ایک کے بعد دوسری ٹرین کے مسافروں کا اُترنا غلطی ہے؟ 

یا پُل کا بے حد تنگ ہونا غلطی ہے! ممبئی کے اور بھی کئی اسٹیشنوں کے برج کافی تنگ ہیں ۔ ایک ساتھ کئی ٹرینیں اسٹیشن پہنچتی ہیں تو کاندھے سے کاندھا چھلتا ہے۔ ان میں سے چند ہی پل ایسے ہیں کہ جنہیں کشادہ کیا گیا ہے۔ بقیہ سب وزارت ریلوے کی نظر عنایت کے منتظر ہیں۔ حادثہ والا برج بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ جو حادثہ جمعہ کی صبح ہوا وہ پہلے بھی ہوسکتا تھا۔ آئندہ بھی (خدانخواستہ ) ہوسکتا ہے کیونکہ سرکار کی توجہ ٹرینوں ، پلوں ، پلیٹ فارموں وغیرہ پر نہیں ہے۔ اس کی توجہ عوام کو یہ باور کرانے پر ہے کہ دیکھئے ہم آپ کی بہت فکر کرتے ہیں۔ ٹویٹر پر ایک پیغام آتا ہے تو فوراً متوجہ ہوجاتے ہیں ، فوراً مدد بھجواتے ہیں ، کچھ ہوجائے تو فوراً پیشتر ٹویٹ کرتے ہیں یا نت نئے آئیڈیاز پر کام کررہے ہیں۔ دراصل سرکار کی توجہ زمین پر ہے ہی نہیں۔ یا تو آسمان پر ہے یا پبلسٹی پر۔ بلیٹ ٹرین کی کچھ کم مخالفت نہیں ہوئی لیکن وہ اسی پر اَڑی ہوئی ہے۔ بلیٹ ٹرین لا کر رہیں گے ۔ کہا کہ مفت مل رہی ہے۔’’ اعلیٰ سطحی ٹرینوں ‘‘ پر خصوصی توجہ ہے ۔ انہیں فائیواسٹار ٹرین جو بنانا ہے(تاکہ امیر مسافروں کو کوئی تکلیف نہ ہو)۔ عام مسافر چاہے کچل جائیں یا ٹرین سے آئے دن گر کر ہلاک ہوتے رہیں !

ایک خبر کے مطابق شیوسینا کے ایم پی راہل شیوالے نے اپریل 2015ء میں اسی پُل کو چوڑا کرنے کی تحریری درخواست روانہ کی تھی ۔ اس وقت کے وزیر ریلوے سریش پربھو نے جواب دیا کہ پیسے نہیں ہیں۔ اب بتائیے ، پُل کو چوڑا کرنے کیلئے کتنے پیسے درکار ہوتے ہیں؟ یقیناًاتنے نہیں جتنے بلیٹ ٹرین کو درکار ہوں گے۔ اس کے باوجود بلیٹ ٹرین عزیز ہے لوکل ٹرین اور اسٹیشن نہیں!

(بشکریہ: انقلاب ، ممبئی ، بتاریخ 30؍ستمبر 2017)

ایک نظر اس پر بھی

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

گوری لنکیش کا نہیں ،جمہوریت کا قتل .. ۔۔۔ . روزنامہ سالار کا اداریہ

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی نفرت ، عدم رواداری اور عدم برداشت کی مسموم فضاؤں نے گزشتہ 3سال کے دوران کئی ادیبوں ، قلم کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانیں لی ہیں اور اس پر مرکزی حکومت کی خاموشی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

اگست ،ستمبرمیں فلو کے خطرات اور ہماری ذمہ داریاں از:حکیم نازش احتشام اعظمی

لگ بھگ سات برسوں سے قومی دارلحکومت دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اورملک کے لگ بھگ سبھی صوبوں کو ڈینگو،چکن گنیا،اوراس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر مہلک ترین فلوٗ نے سراسیمہ کررکھا ہے۔

مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک کے لئے مودی حکومت اور بی جے پی پر کڑی تنقید۔۔۔ نیویارک ٹائمز کا اداریہ

مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بیف کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں سر زد ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے نیو یارک ٹائمز نے17جولائی کو جو اداریہ تحریر کیاہے اس کا ...

کیرالا میں نیپاہ وائرس پر قابو پالیا گیا

کیرالا کی وزیر صحت کے کے شیلجہ نے آج کہا کہ ریاست میں نیپاہ وائرس پر قابو پالیا گیا ہے، جس نے 10 افراد کی جان لی ہے اور دہشت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کوزی کوڈ میڈیکل کالج ہاسپٹل میں 17 افراد زیرعلاج ہیں۔

مینگلوراسپتال میں ایڈمٹ بھٹکل کے ایک مریض کے لئے مالی تعائون کی درخواست

رکشہ چلا کر اپنا اور اپنے خاندان کو سنبھالنے والا ساجد احمد ابن شریف اس وقت مینگلور کے ایک پرائیویٹ اسپتال کے انتہائی نگہداشت والے کمرے میں  ایڈمٹ ہے، جہاں اُس کے جسم کا ایک حصہ ناکارہ ہوگیا ہے۔ ڈاکٹروں کی صلاح پر ایک آپریشن ہوچکا ہے، مزید علاج درکار ہے۔ آپریشن کا خرچ قریب ...