5 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالہ معاملے میں ای ڈی نے آندھرا بینک کے سابق ڈائریکٹر انوپ پرکاش گرگ کو کیا گرفتار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th January 2018, 12:06 PM | ملکی خبریں |

احمد آباد، 13جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات کے سندیسارا گروپ کے پانچ ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے میں ای ڈی نے آندھرا بینک کے سابق ڈائریکٹر انوپ پرکاش گرگ کو گرفتار کر لیا ہے۔سندیسارا گروپ پر ہوئے چھائے کے دوران ایک ڈائری ملی اس میں آندھرا بینک کے ڈائریکٹر گرگ کا بھی نام تھا۔ڈائری کے مطابق 1 کروڑ 52 لاکھ روپے گرگ کو دیے گئے تھے۔تفتیش کے دوران گرگ کے کولکاتہ کی شیل کمپنی میں بھی پیسہ لگانے کے بارے میں پتہ چلا ہے۔سندیسارا گروپ پر بینکوں سے لون لے کر پیسہ ہڑپنے کا الزام ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ گرگ کی گرفتاری کے بعد کئی اہم راز بھی کھل سکتے ہیں اور تحقیقات کے شکنجے میں بہت سے سیاستدان آ سکتے ہیں۔ای ڈی اس معاملے میں گگن دھون نام کے شخص کو گرفتار کر چکی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

آپ کے20ممبران اسمبلی کی رکنیت منسوخ، الیکشن کمیشن نے دیا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے منفعت بخش عہدہ معاملے میں دہلی میں حکمران عام آدمی پارٹی کے 20ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دیا ہے۔کمیشن اپنی رپورٹ صدر رام ناتھ کووند کو بھیجے گا۔اب سب کی نظریں صدر لگی ہوئی ہیں، جو اس معاملے پر حتمی مہر لگائیں گے۔

پروین توگڑیا کاوشوہندوپریشد سے کوئی تعلق نہیں، سنت سمیلن میں رام مندرپر نہیں آئے گی تجویز: سوامی چنمیانند

وی ایچ پی کے صدر پروین توگڑیا کی طرف سے حکومت پر ان کے خلاف سازش کرنے اور انکاؤنٹر کر نے کی سازش جیسے الزامات کے بعد نہ صرف آر ایس ایس بلکہ وی ایچ پی نے بھی پورے تنازعہ سے خود کو الگ کر لیاہے

مہاتما گاندھی کو’’راشٹریہ پتا‘‘ کہناغلط،شنکرآچاریہ سروپانند کی زبان بے لگام 

اپنے متنازع بیانات کے لئے جانے جانے والے شنکرآچاریہ سوامی سوروپانندنے پھر ایک بار متنازعہ بیان دے کر ایک تنازعہ کو جنم دے دیا ہے۔انہوں نے مہاتما گاندھی کو بابائے قوم کہے جانے پراعتراض کیا ہے۔

حج کا معاملہ مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے،صرف حج سبسڈی روکناامتیازی سلوک،امرناتھ اورکیلاش میں بھی دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے: پاپولر فرنٹ آف انڈیا

مرکزی حکومت کے ذریعہ حج سبسڈی ختم کیے جانے پر، پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی سینٹرل سیکریٹریٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مذہبی معاملات کو ان کے ماننے والوں پر چھوڑ دے اور ملک و بیرون ملک مختلف مذہبی اعمال پر دی جانے والی تمام مراعات کو ختم کرے۔